دھند میں خدمت اور علاج

ڈاکٹر آصف محمود جاہ
فضائوں میں دھند، ہوائوں میں دھند، اوپر نیچے دھند، بائیں دھند، پکے مکانوں پہ دھند، کچے گھروندوں پر دھند، جھونپڑیوں اور گھونسلوں پہ دھند، سڑک پہ دھند، کھیتوں پہ دھند، پودوں پہ دھند، پھولوں پہ دھند، باغوں میں دھند، راستوں پہ دھند، غرضیکہ ہر طرف دھند ہی دھند کی سفید دبیزچادر حدنگاہ تک تنی ہوئی اور فضائوں میں اوپر سے نیچے تک معلق کچھ بجھائی نہ دیتا تھا۔ صبح سویرے گھر سے نکلے تو شروع سے آخر تک دھند سے نبرد آزمارہے۔  سرگودھا سے صبح سویرے نکلے۔ آج اٹھارہ ہزاری میں اپنا گھر ہائوسنگ سکیم پراجیکٹ کے تحت بنے گئے اٹھارہ گھروں کی بستی میں جانا تھا۔ توفیق رات گئے دھند سے لڑتا لاہور سے موبائل ہسپتال سمیت آن پہنچاتھا۔ کامران، سکندر، اعظم، خالد مسعود  صبح سویرے لاہور سے چلے اور دھند ہی دھند میں آہستہ آہستہ  اٹھارہ ہزاری کی طرف بڑھے۔ سرگودھا سے ماہر تعلیم، استاد محترم اور والد صاحب ایم بشیر احمد، ڈاکٹر نوید انور، شہروز، ارسلان، محمد حسین، الیاس، ڈاکٹر اویس کے ساتھ دھند ہی دھند میں عازم سفر ہوئے۔ نہر کے کنارے سے سلانوالی جھامرہ روڈ کی طرف بڑھے۔ حدنگاہ تک دھند ہی دھند تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔ رفیق کی ہمت کی داد دینی پڑے گی کہ صبح سویرے گاڑی کی ہیڈ لائٹس جلا کر جیسے تیسے گاڑی کو آگے بڑھا رہا تھا۔ آہستہ آہستہ چلتے دو تین گھنٹے بعد جھنگ شہر میں داخل ہوئے تو اللہ کا شکر ادا کیا جس نے خیریت سے منزل مقصود تک پہنچایا۔ تریموں ہیڈ کے پاس تو مطلع صاف ہوگیا۔ اٹھارہ ہزاری کے قریب پہنچ کر سب سے پہلے سڑک کے کنارے زیر تعمیر بلال مسجد کو دیکھا جس کے بنانے کی اللہ نے توفیق دی۔ دو ماہ پہلے ادھر آئے تھے اور اس مسجد کو بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ جاتے ہی مسجد کی تصاویر فیس بے پہ اپ لوڈ کی تو دنیا بھر سے دوستوں نے عطیات بھیجنے کی پیش کش کی۔ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے فضل اور دوستوں کی مہربانی سے ملک کے گوشے گوشے میں اور دور دراز کی بستیوں میں اپنا گھر ہائوسنگ پراجیکٹ کے تحت سیلاب زدگان کے گھر اور اس کے ساتھ اللہ کے گھر یعنی مساجد بنانے کی توفیق دی۔ شفقت نے بڑی محنت اور محبت سے اس مسجد کی تعمیر کروائی۔  مسجد کے بالکل سامنے  وسیع و عریض جگہ موبائل ہسپتال کھڑا کرکے میڈیکل کیمپ کا آغاز کردیا۔ دو ٹیمیں بنیں۔ ایک ٹیم ڈاکٹر اویس، شہروز، الیاس، ارسلان، رفیق، شفقت کے ساتھ بستی ملوآنہ اٹھارہ ہزاری کے لئے روانہ کردی۔ دوسری ٹیم ڈاکٹر نوید انور، راقم، اشفاق، توفیق، قاری عبدالرحمن، بشیر احمد اور محمد حسین کے ساتھ اپنی نئی تعمیر ہونے والی مسجد کے سامنے کیمپ شروع کردیا۔ جونہی ہمارے موبائل ہسپتال سے اعلان ہوا۔ بچے، بوڑھے، عورتیں مرد پتہ نہیں کہاں کہاں سے نکل آئے اور آتے ہی سب نے موبائل ہسپتال اور ہمارا گھیرائو کرلیا۔ میڈیکل کیمپ کے ساتھ موسم کی مناسبت سے نئی، دیدہ زیب اور خوبصورت رضائیوں کی تقسیم بھی شروع ہوگی۔ اماں جوآنکھوں سے اندھی تھی۔ پتہ چلا لاہور سے رضائیوں کی کھیپ آئی ہے۔ بیٹے کو کہا مجھے کمر پہ لاد کرلے چلو۔ اماں کا چیک اپ کیا۔  اماں کو  پتہ چلا تھا کہ یہاں دوائوں کے ساتھ رضائیاں بھی مل رہی ہیں۔ کہنے لگی پتر مینوں وی رضائی دے دیں۔  رضائیاں تقسیم ہوتی دیکھ کر تو سارا اٹھارہ ہزاری امڈ آیا۔ اشفاق نے بڑی ہمت سے لوگوں کو کنٹرول کیا اور رضائیاں تقسیم کیں۔ دوسری طرف اویس اور شہروز بھی بڑی دل جمعی سے مریض کا چیک اپ کرتے رہے۔ وہاں مریضوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ سخت سردی کی وجہ سے نزلہ، کھانسی بخار چیسٹ انفیکشن، جسم درد، نمونیہ، دمہ وغیرہ کے زیادہ مریض آئے۔ کیمپ کے دوران کئی شناسا چہرے نظرآئے۔ دونوں ڈاکٹر بڑی ہمت سے تسلی سے مریضوں کو نپٹاتے رہے۔ موبائل ہسپتال میں بھی جمگھٹا رہا۔ والد صاحب نے نئی تعمیر ہونے والی مسجد بلال کو بنظر غائر دیکھ کر اس کو مزید بہتر بنانے کیلئے تجاویز دیں۔ اٹھارہ ہزاری کے مکینوں کو علاج و معالجہ کی مستقل سہولتیں سہولتیں مہیا بہم پہنچانے کیلئے کے بالکل سامنے ڈسپنسری کا بھی افتتاح کرناتھا۔ شفقت نے ڈسپنسری سجائی ہوئی تھی۔ ستمبر 2014میں جب اٹھارہ ہزاری میں آکر سیلاب زدگان کی خدمت اور علاج شروع کیاتھاتو یہاں کے مکینوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان شاء اللہ یہاں ایک ڈسپنسری کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ آج اس وعدے کے ایفا کا دن تھا۔  اب ملک کے کونے کونے میں ہماری ڈسپنسریاں غریب اور نادار مریضوں کو علاج و معالجہ کی مستقل سہولتیں مہیا کررہی ہیں۔ اٹھارہ ہزاری کی ڈسپنسری  اس سلسلے کی 11ویں ڈسپنسری ہے۔  سیلاب متاثرین خوش تھے کہ اب انہیں علاج و معالجہ کیلئے دور دراز نہیں جانا پڑے گا۔ شفقت نے پہلے ہی ڈسپنسری کے افتتاح کا بندوبست کیا ہواتھا۔ ڈسپنسری کا افتتاح ماہر تعلیم اور تین نسلوں کو علم کی دولت بانٹنے والے بشیر احمد نے فیتہ کاٹ کرکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں میں آسانیاں اور محبتیں بانٹنی چاہیے۔ نئی ڈسپنسری میں بھی مریض آنا شروع ہوگئے۔ ڈاکٹر نوید انور نے مریضوں کا معائنہ شروع کردیا۔ ڈاکٹر اویس اور شہروز  صبح سے اپنے کیمپ میں مگن تھے۔ اٹھارہ ہزاری کی نئی  پکے گھروں والی بستی میں میلے کا سماں تھا۔ سخت سردی میں اس بستی  کے مردوزن  پھولوںکے ہار لئے ہمارے استقبال کیلئے کھڑے تھے۔ ٹینٹ لگے ہوئے تھے۔ 18ہزاری میں 18گھروں کی یہ بستی ہے جو سیلاب میں بالکل برباد ہوگئی تھی، بہہ گئی تھی۔ اس کے مکین کھلے آسمان تلے بے یارومددگار بیٹھے تھے۔ کسی مسیحا کی تلاش میں تھے۔ کسی درد مند کا انتظار کر رہے تھے۔ اللہ نے ہمیں توفیق دی۔ سب سے پہلے نیلے، پیلے، لال اودے ٹینٹون کی بستی بسائی۔ پھر دوستوں سے عطیات کی اپیل کی۔ افتخار بشیر، سید محبود علی، ڈاکٹر جنید اصغر، شازیہ حمید، مصباح طاہر، ڈاکٹر فضل الہی اور بہت سے دوسرے دوستوں نے مکانات کیلئے دیئے۔ الحمدللہ اس خوبصورت بستی کو دیکھ کر دل خوش ہوا۔ بستی کے مکین خاص کر عورتیں اور بچے جھولیاں اٹھا اٹھا کر ہمیں دعا دے رہے تھے۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ بستی کے لوگوں نے شاندار ضیافت کا اہتمام کررکھاتھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا جس نے ہرآفت میں سب سے پہلے پہنچ کر آفت زدگان کی داد رسی کرنے کی توفیق عطا کی۔ دوسری بستیوں کے مکین بھی پہنچ گئے اور درخواستوں کی بھرمار ہوگئی۔ اللہ کے واسطے ہمارا گھر بھی بنوادیں۔ اگرچہ بستی میں ہماری طرف سے ایک کمرے کے گھر بنوائے گئے تھے مگر اس بستی کے کئی مکینوں نے اپنے طور پر طار دیواری بھی کرلی تھی بعض نے دوسرا کمرہ بھی تعمیر کرلیا تھا۔
دل کی بستی کھیل نہیں ہے
بستے بستے بستی ہیں بستیاں
جام کی بستی پہنچے تو ساتھ ہی چاولوں کی دیگیں  بھی آگئیں۔ شفقت نے گرما گرم میٹھے چاول بچوں میں تقسیم کئے۔ واپسی کا لمبا سفر درپیش تھا۔ مغرب اٹھارہ ہزاری میں ہی ہوگئی۔ دھند کی سفید چادر پھر چھانے لگی۔ دھند میں صبح نکلے تھے اور دھند ہی دھند میں سرگودھا واپسی ہوئی۔