حضورﷺ عالی شان بچوں کے درمیان

مولانا امیر حمزہ
حضرت حسنؓ کی شباہت
بچہ جب چار، چھ یا آٹھ ماہ کا ہو جاتا ہے تو ماں کے چہرے کے ساتھ اچھی طرح مانوس ہو جاتا ہے۔ وہ اب ماں کے چہرے کو پہچاننے لگ جاتا ہے۔ یہ پہچان ماں کے دل کو گدگدانا شروع کر دیتی ہے۔ ساتھ ہی بچہ مسکرانے بھی لگتا ہے۔ یوں دونوں ماں بچے کے درمیان محبت کی کشش پیدا ہوتی ہے تو ماں کے بازو بے اختیار اٹھتے ہیں اور بچے کو اٹھاتے ہیں۔ اب ماں اور بچے کا چہرہ آمنے سامنے ہوتا ہے۔ ماں بے اختیار باتیں کرنا شروع کر دیتی ہے۔ بچہ مسکرائے جاتا ہے۔ ماں کو پتا ہے کہ وہ میری باتوں کاجواب نہیں دے سکتا، وہ سمجھ بھی نہیں سکتا، اس کے باوجود وہ باتیں کیے چلی جا رہی ہے:
میرا بادشاہ، ،میرا شہزادہ،میں قربان جائوں،سب سے حسین، سب سے خوب صورت، میرے خوابوں کا راجا،میرا پھول،میرا چاند، ملائی اور مکھن۔ بچے کے منہ سے رال گرتی ہے۔ اس میں بو (Smell) نہیں ہوتی۔ میل نہیں ہوتا۔ گند نہیں ہوتا۔ ماں کو یہ رال شہد سے بڑھ کر میٹھی محسوس ہوتی ہے۔ اب وہ اپنا منہ اس کے منہ سے لگاتی ہے، رال کو چاٹ لیتی ہے۔ اس کا منہ کھلا ہوتا ہے تو کھلے منہ کے بوسے لیتی جاتی ہے۔ محبت ہے کہ اس انداز سے بھی مکمل نہیں ہونے پاتی۔ اب وہ اچھالنا شروع ہو جاتی ہے۔ بچہ اب جب ہوا میں اچھلتا ہے، ماں کی بانہوں میں ہوائی جھولے جھولتا ہے تو ہنسنا شروع کر دیتا ہے۔ہنسنے کی آواز جب بچہ نکالتا ہے تو گویا ماں کی محبت کا کلیجہ باہر نکال دیتا ہے۔ اب ماں محبت کے آخری سین کو یوں بند کرتی ہے کہ اپنے سینے سے چمٹا لیتی ہے۔ وہی سینہ جو بچے کی خوراک کا  ذریعہ ہے۔ ماں اسے یہاں چمٹاتی ہے تو پھر بھی محبت کی تکمیل محسوس نہیں کرتی۔ چنانچہ دونوں بازوؤں کے ساتھ اوپر سے ڈھانپ کر چہرے کو جھکاتی ہے اور سر کو چومنا شروع کر دیتی ہے۔
اے بچے کی ماں !ہمارے پیارے حضورؐ کی سب سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ کا ننھا بیٹا حسنؓ بھی اب ذرا بڑا ہو گیا ہے۔ یہ بچہ چار ماہ کا ہے، چھ کا ہے یا آٹھ ماہ کا ہے !   حضرت فاطمہؓ اپنے اس بیٹے حسنؓ کو بازوؤں پر اچھالے جا رہی تھیں اور کہے جا رہی تھیں:میرے ماں باپ قربان،  تیری مشابہت نبیؐ کے ساتھ ہے ، علی ؓ کے ساتھ نہیں ہے ۔!( مسند احمد: ۴۵۹۶۲)
قارئین کرام ! حضرت فاطمہؓ نے یہ نہیں کہا کہ ’’میرے بیٹے کی مشابہت میرے باپ کے ساتھ ہے۔‘‘ ’’اے حسن!تیرے نانا کے ساتھ ہے‘‘ یہ بھی نہیں کہا۔ جی ہاں ! حضورؐ کا نام بھی نہیں لیا کہ ’’محمد کریمؐ کے ساتھ۔‘‘ جی ہاں! لفظ استعمال کیا تو ’’نبی ‘‘کا لفظ استعمال فرمایا۔ اسی میں تو کمال ہے۔ اللہ کے نبی، اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ حضرت حسنؓ کی شکل ملتی ہے۔ یہی تو جلالت شان ہے۔ قارئین کرام! جب ہمارے پیارے  نبی حضرت محمد ؐ معراج کے موقع پر آسمانوں کی سیر کرتے کرتے آخری آسمان یعنی ساتویں آسمان پر گئے تو وہاں حضرت ابراہیمؑ سے ملاقات ہوئی۔ آپؐ خود فرماتے ہیں ،ترجمہ:’’میں نے حضرت ابراہیمؑ کو دیکھا۔ ان کی اولاد میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت میری ہے ۔‘‘
قارئین کرام ! حضرت ابراہیمؑ ساتویں آسمان میں ہیں۔ قرآن میں ہے وہ آہیں بھرنے والے، حوصلے والے یعنی بڑے ہی نرم دل تھے۔ ان سے جو مشابہ ہیں وہ ہمارے رسول حضرت محمد کریمؐ بہت ہی زیادہ نرم اور عظیم اخلاق والے ہیں۔ اب ان کے نواسے حضرت حسنؓ ہیں جو اپنے نانا محترم کی طرح انتہائی نرم دل ہیں، خوب صورت ہیں، حسین ہیں۔ چہرہ بھی خوب صورت اور اخلاق بھی خوب صورت ۔
قارئین کرام! دیکھا آپ نے!! جلالت شان کہاں جاتی ہے۔ اسی لئے حضرت فاطمہؓ نے اپنے ننھے حسن کو اچھالتے ہوئے ’’ نبی ‘‘کے ساتھ مشابہت کی بات کی۔ اے ماں بننے والیو ! ہم سب حضرت حسنؓ پر قربان کہ جن کا چہرۂ مبارک رب کے رسول سے ملتا ہے اور حضرت ابراہیمؑ سے ملتا ہے۔ اے اللہ ! میری بہنوں اور بیٹیوں کے بچوں کو حضرت حسنؓ والا کردار عطا فرما اور! (مسلم: ۸۶۱)قیامت کے دن حشر میں بھی ان کے پیچھے چلنے والا بنا۔ (آمین!)
ننھے حسنؓ کا پیشاب
حضرت ابو سمحہؓ بتلاتے ہیں کہ میں حضور نبی کریمؐ کا خادم تھا۔ ایک بار آپؐ کی خدمت میں حضرت حسن یا حضرت حسینؐ کو لایا گیا ۔(فَبَالَ عَلٰی صَدْرِہٖ ) یعنی’’بچے نے حضورؐ کے سینہ مبارک پر پیشاب کر دیا۔‘‘ صحابہؓ نے دھونا چاہا تو آپؐ نے فرمایا پانی چھڑک دو (یہی کافی ہے)
قارئین کرام! احوال و قرائن بتلاتے ہیں کہ حضورؐ کے پاک سینے پر پیشاب کرنے والے ننھے حسنؓ ہی تھے۔ زمینی حقیقت یہ بھی بتلاتی ہے کہ حضورؐ صحابہؓ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ کوئی ننھے حسنؓ کو لایا اور نانا جان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضورؐ نے پیار سے پکڑا اور سینے سے چمٹا لیا۔ جب سینے سے چمٹا لیا تو بوسہ بھی لیا ہو گا اور ادھر ننھے حسنؓ نے پیشاب کر دیا۔ قانون یہ بن گیا کہ وہ بچہ جو ماں کا دودھ پیتا ہو اور دودھ کے علاوہ دیگر غذا نہ کھاتا پیتا ہو تو اس کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا ہی کافی ہوتا ہے۔
کیسا ہے خوب صورت انداز کہ کمال ہے حضورؐ کا بچوں سے پیار۔ صحابہ کے درمیان چمک رہا ہے میرے حضوؐر کا رخِ جمال۔ سینے سے چمٹا کر حسنؓ سے ہو رہا ہے حضورؐ کا لاڈ اور پیار۔ حضورؐ کو اپنے سینے پر اچانک ہوا احساس کہ تازہ تازہ اور گرما گرم تھا ننھے کا پیشاب۔ پیارے بچو ! بچوں سے پیار کرنے والے ایسے حضورؐ پہ بے شمار سلام!
!ابن ماجہ: ۶۲۵۔ ابو داود: ۶۷۳۔ ابن خزیمۃ: ۳۸۲
اسنادہ حسن۔
ننھے حسنؓ کا لعاب
حضرت ابوہریرہؓ اپنا چشم دید منظر بیان کرتے ہیں۔ دونوں جہانوں کے سردار حضرت محمدؐ چل رہے ہیں۔ آپؐ پر ایک سوار سواری کر رہا ہے۔ یہ سوار کون ہے؟ منظر کیسا ہے؟ ملاحظہ ہو حضرت ابو ہریرہؓ کی زبان سے !  ترجمہ:’’میں نے حضور نبی کریمؐ کو دیکھا، آپ نے ننھے حسنؓ کو اپنے کندھوں سوار کر رکھا تھا جو حضرت علیؓ کے بیٹے ہیں اور ننھے حسنؓ کے منہ سے رال بہہ  رہی تھی جو حضورؐ پر گر رہی تھی۔ ‘‘