حضرت سید بابا شاہ جمال قادری

 محمد نسیم عباسی
 نام ونسب اور ولادت:آپ کا اسم گرامی شاہ جمال ہے۔ آپ کے والد مولانا عبدالواحد  اور بھائی شاہ کمال تھے۔ کتابوں میں آپ کے حالات زندگی بہت کم درج ہیں۔ بعض مؤرخین نے آپ کی ولادت اندازاً 966ھ بتائی ہے۔ آپ کے والد گرامی کا نام ایک روایت سے مولانا عبدالواحد ہے اور دوسری روایت میں عبداﷲ ہے، مگر قوی روایت یہ ہے کہ یہ نام عبدالواحد ہے۔ یہ حاکم کشمیر سے تعلقات خر اب ہو جانے پر کشمیر سے سیالکوٹ آگئے تھے ۔ آپ کے بزرگ قاضی جمال الدین بڈشاہی کی اولاد میں سے تھے جو کشمیر میں باوقار خاندان تھا اور علمِ و عرفان میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ آپ دو بھائی تھے:شاہ کمال اور شاہ جمال،  دونوں بزرگ اسم بامسمّٰی صا حبِ جمال اور صاحبِ کمال تھے ۔ دونوں بزرگ لاہور دفن ہوئے اور ان کے مزارات تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر واقع ہیں۔ o حضرت شاہ جمال قادری سہروردی اندازاً شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں 895ھ/1587ء میں لاہور تشریف لائے اور اچھرہ کے مشرق کی جانب نشیبی علاقہ میں جا بسے۔ آپ لاہور میں مقیم علماء و مشائخ سے ملے اور رشد و ہدایت میں مصروف ہو گئے۔ آپ نے اصلاحِ معاشرہ پر خصوصی توجہ فرمائی اور لوگوں کو تلقین کی کہ کم تولنا، کم ماپنا اور جھوٹ بولنا جیسی معاشرتی برائیوں سے ہر قیمت پر پرہیز کریں  ان کا دورِ برصغیر کی عظیم مغل حکومت کا دورِ اوّل ہے جو ان کے انتہائی عروج کے دور سے عبارت ہے۔ اس میں اکبرِ اعظم، جہانگیر عادل اور شاہجہان جیسے عظیم مغل حکمران ہوئے۔ اس زمانہ میں لاہور شہر علم و فضل کا مرکز تھا اور صوفیائے کرام کا جمِ غفیر اس سرزمین کو اپنے فیوض سے سرفراز کر رہا تھا۔   مشہور ہے کہ عند الضرورت اپنے مصلیٰ کے نیچے سے مطلوبہ رقم نکال کر اہلِ حاجت کو تقسیم کر دیتے تھے ۔ اس دستِ غیب کا کرشمہ تھا کہ آپ نے شہنشاہ اکبر کی بیٹی کے محل کی تعمیر کے وقت جو آپ کے دمدمہ کے سامنے بن رہا تھا، اس کے شاہی معماروں اور مزدوروں کو مقابلہ کی مزدوری دے کر اپنے دمدمہ کی تعمیر کے لیے لگا لیا۔آپ کی متوکلانہ زندگی کا ایک اہم حصّہ آپ کے مجاہدات ہیں۔ آپ طویل چلّہ کشی کیا کرتے تھے ۔ ایک چلّہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ آخری سالوں میں یہ چلّہ کشی زیادہ ہو گئی تھی ۔ حتیٰ کہ آپ کا وصال بھی ایک چلّہ کے دوران ہی ہوا۔ آپ کے چلّہ کشی کے مقامات یہ ہیں۔
-1چلّہ گاہ اچھرہ (دمدمہ) جس میں آپ کا وصال ہوا۔ جو موجودہ عمارت کی تعمیر نو کے وقت شہید کر دیا گیا تھا۔
-2چلّہ گاہ شیخوپورہ۔ یہ شاہ جمال روڈ شیخوپورہ پر قلعہ نزد قبرستان میں واقع ہے۔-3چلّہ گاہ شاہ رحمن (بھڑی شریف)-4چلّہ گاہ شاہدرہ۔
-5 ریاست چمبہ (گورداسپوربھارت) میں بھی آپ کی نشست گاہ ہے، جہاں عرس ہوتا ہے۔
-1آپ نے لاہور میں اپنے قیام کے لئے ایک اُونچے ٹیلے پر دمدمہ بنانے کا پروگرام بنایا تو اس جگہ کے مقابل ایک شاہی محل تعمیر ہو رہا تھا، جس کی بناء پر تمام مزدور اور معمار وہاں لگے ہوئے تھے اور مزید مزدور اور معمار کسی اور جگہ سے دستیاب نہ تھے ۔ چنانچہ آپ نے ان سے یہ بات طے کی کہ وہ رات کو دمدمہ کی تعمیر کر دیا کریں۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ مزدور خواہ ایک پہر کام کرے یا دوپہر، آپ اُسے پُورے دن کی اجرت ادا فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ کام کے دوران چراغوں سے تیل ختم ہو گیا تو آپ نے چراغوں میں پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ اﷲ کی قدرت سے چراغ بدستور جلتے رہے۔ (حدیقۃ الاولیاء ، ص :173/خزنیتہ الاصفیاء ص:767)
-2    ایک ہندو کھتری اولاد کے حصول کے لیے دُعا کرانے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور خربوزوں کا تحفہ پیش کیا۔ آپ نے ان خربوزوں میں سے دو خربوزے اسے عنایت کیے، حکم دیا اپنی بیوی کو کھلا دو اور دو بیٹوں کی خوشخبری دی۔ خدا کی قدرت سے اس کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے ایک بیٹا شیخ فخرالدین تھا جو کہ آخر دم تک آپ کی خدمت میں رہا۔ (اولیائے لاہور ، ص :88)
-3آپ نے شیخ فخرالدین کو ایک مکان خرید کر دیا تھا، جس میں وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ ایک دن آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور مکان کے باہر سے ہی اسے آواز دی کہ اہل و عیال و اسباب لے کر فوراً باہر آ جائو۔ انہوں نے تعمیل کی ۔ جونہی وہ باہر آئے، مکان گرگیا۔ گویا آپ نے انکشافِ قلبی کی بنا پر حادثہ کی خبر پہلے حاصل کر لی اور اپنے متوسلین کو اس کے بدعواقب سے بچا لیا۔ (اولیائے لاہور،ص:89)
حضرت شاہ جمال قادری سہروردی لاہوری کے عہد ِ حیات میں ان کے دمدمہ کے قرب و جوار میں بہت سی شاہی عمارات تعمیر تھیں ۔ جن کی تفصیل یوں ہے:
-1    دمدمہ کے قریب شہزادی سلطان بیگم بنت اکبر بادشاہ کا محل، باغ، بارہ دری اور تالاب تھا، (خزنیتہ الاصفیائ، ص :767)
-2    نورالدین محمد جہانگیر نے 1025ھ/1616ء میں مسافروں کے لیے ایک سرائے تعمیرکرائی تھی۔ اس میں پندرہ بیس ہزار افراد کی گنجائش تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس میں گولہ بارود بنانے کی فیکٹری لگا دی تھی۔ اس وجہ سے یہ سرائے گولیاں والی کہلانے لگی۔ اس کا طول و عرض 190 104xگز تھا۔
-4آپ کی وفات بروز پنج شنبہ 4ربیع الثانی 1061ھ / 1651ء میں ہوئی۔(تحقیقات چشتی، ص 428، لاہور1964ء /عبداللطیف : تاریخ لاہور/اولیائے لاہور، ص 90)
ان میں سے مفتی غلام سرور قادری کی اس روایت کو ترجیح حاصل ہے جو خزینتہ الاصفیاء میں منقول ہے۔ اس رُو سے آپ کی وفات 4ربیع الثانی 1049ھ کو ہوئی اور اسی تاریخ کو آپ کا عرس مبارک منعقد ہوتا ہے۔
o  مزار، مدفن اور اس کی تعمیر و مرمّت:
آپ کا مزار مُبارک فیروز پور روڈ اچھرہ موڑ کے قریب مشرقی جانب مرجع خلائق ہے۔ مقبرہ دو منزلہ وسیع تھڑے پرواقع ہے۔ صبح و شام ہزاروں عقیدت مند آپ کے آستانہ پر حاضری دیتے ہیں اور فیوض و برکات سے مستفیض ہوتے ہیں۔
محکمہ اوقاف پنجاب نے مزار مبارک اور اس سے ملحق مسجد کی ازسرِ نو تعمیر و مرمت کرائی ہے۔ مسجد کا صحن وسیع کر دیا گیا ہے۔ مسجداور مزار مبارک کی تعمیر و مرمت پر کثیررقم خرچ کی گئی ہے۔ حضرت بابا شاہ جمال قادری سہروردی کا عرس مبارک شایان شان طریق سے منایا جاتا ہے۔
o  خلفائ:    
حضرت شاہ جمال سالک اور صاحب ِصحودرویش تھے۔ آپ نے ارشاد و ہدایت کے سلسلہ کو خوب ترقی دی اور عوام و خواص کو فیض تربیت سے سیراب کیا۔ حتیٰ کہ آپ کے بعد بھی آپ کا سلسلہ طریقت آپ کے خلفاء کے ہاتھوں جاری رہا۔ یقینا آپ کے خلفاء کی تعداد کہیں زیادہ ہو گی۔ مگر تذکروں میںدو اسماء ملتے ہیںجن کی تفصیل یوں ہے:
-1حضرت شیخ فخرالدین سہروردی
شیخ فخرالدین اور آپ کی زوجہ کی قبریں گنبدِ مزار سے باہر ہیں۔
-2حضرت پیرحسن شاہ ولی سہروردی۔ آپ کا مزار ایبٹ روڈ پر جانکی دیوی جمعیت سنگھ ہسپتال اور پُرانے کلب گھر کے درمیان واقع ہے۔
نوٹ:۔زیرِنظر مضمون کی نظر ثانی پروفیسر سید کبیر احمد مظہر، شعبہ عربی پنجاب یونیورسٹی، جناب علامہ مقصود احمد قادری چشتی، ریٹائرڈخطیب جامع مسجد دربار حضرت داتا گنج بخش لاہور، ریٹائرڈپروفیسر مسعود احمد علوی، محکمہ اوقاف پنجاب نے کی ہے۔