حافظ عبدالقادر روپڑی

حافظ عبدالغفار روپڑی
حافظ عبدالقادر روپڑی کے والد کا نام  رحیم بخش تھا۔ آپ کے دادا میاں روشن دین نے موضع کمیر و ضلع امرتسر میں سکونت اختیار کی جبکہ آپ کے آبائو اجدادایمن آباد ضلع گوجرانوالے کے باشندے تھے۔ مرحوم گوناگوں صفات‘ حد درجہ منکسر المزاج‘ سادہ طبیعت کے مالک تھے برصغیر میں مسلمانوں کی برطانوی حکمرانوں سے نفرت اور تحریک مجاہدین کی صورت میں ایثار و قربانی کا کردار تاریخ کا سنہری باب ہے۔ 1937ء کے انتخابات میں کانگریس کو سارے ہندوستان میں غلبہ حاصل ہوا۔ یہ وہ دور تھا کہ بطل حریت حافظ عبدالقادر روپڑی نے بڑھ چڑھ کر مسلم لیگ کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ آپ شرعی مسائل میں مضبوط موقف کے حامی تھے اور اس طرح دین کے اعلیٰ حکام و مسائل پر دو ٹوک رائے دیتے۔ مسئلہ صدارت و امارات پر علمائے روپڑ کا نقطہ و نظریہ تھا کہ اصلاًشرعی تنظیمی نظام نظام امارت ہے جس میں آخری فیصلے اور تنقید کا ذمہ دار امیر ہوتا ہے جبکہ خالفین یہ کہتے تھے کہ امیر ک وریٰ کے اکثریتی فیصلے کا پابند ہونا چاہئے۔ ایک مرتبہ سعودی عرب کے بعض مخلص احباب نے اس نظام کی اصلاح کیلئے پاکستان کبار علماء سے رابطہ کیا تاکہ دستور کی ہیئت ترکیبی کو شرعی بنایا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں مرکزی جمعیت نے حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی کی سربراہی میں دستور کمیٹی تشکیل دی‘ لیکن اس کی سفارشات کو چنداں اہمیت نہ دی گئی۔ حافظ عبدالقادر روپڑی نے برطانیہ‘ امریکہ‘ شارجہ اور سعودیہ وغیرہ میں کثرت سے تبلیغی دورے کئے۔ خلیج کی جنگ کے دوران آپ کو صدام کی طرف سے عراق کا دورہ کرنے کی خصوصی دعوت دی گئی۔ آپ نے قبول کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ کارکردگی کی بنا پر آپ کو روپڑ کی مسلم لیگ کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ 1946ء کے الیکشن میں اس قدر محنت کی کہ مسلمانوں کو واضح برتری حاصل رہی۔ تحریک آزادی کے دروان آپ 35ء رفقاء سمیت انبالہ جیل میں پابند سلابل کیا گیا۔ آپ کمے مطالبے پر جیل میں اذانوںکا سلسلہ شروع کیا گیا اور مقدمہ میں حافظ روپڑی کو سات سات قید کی سز ہوئی۔ تقسیم ہند کے دوران آپ کے خاندان کے 17 افراد دشمنوں کے ہاتھ شہید ہو گئے۔ ان کی خاندانی اسلامی لائبریرچی کا ذکر آتا تو آپ کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہو جاتے۔ آپ نے 1953ء کی تحیک ختم نبوت میں دیگر محبان اسلام کے ساتھ مل کر نمایاں کردار ادا کیا اور 1974ء میں پاکستان جمہوری پارٹی میں شامل ہوگ ئے۔ 1977ء کی تحریک نظام مصطفی کے دوران آپ راولپنڈی اور میانوالی کی جیلوں میں قید رہے۔ جنرل صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور مجیں آپ مجلس شوریٰ اور وفاقی علماء بورڈ کے رکن اور وفاقی شرعت عدالت کے مشیر رہے۔ کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 6 دسمبر 1999ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا لل و انا الیہ راجعون۔ آپ کے جسد خاکی کو گارڈن ٹائون کے قبرستان میں محدث روپڑی کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔