بھکاری کلچر

ماریہ خالد ۔۔۔ایم اے او کالج لاہور
آج کل جگہ جگہ سڑکوں، پارکوں، گلیوں اور ہرقسم کے اداروں کے باہر بھیک مانگنے والے بچے، بوڑھے اور عورتیں نظر آتی ہیں۔ کوئی بھی جگہ ان سے خالی نہیں نظر نہیں آتی۔ ننگے اور مٹی سے بھرے بدن لے کر بچے ہاتھوں میں کٹورے لئے آنے جانے والے سے بھیک مانگتے ہیں اور لوگوں کو خوشیوں کی دعائیں دیتے پھرتے ہیں۔ بوڑھے لوگ سڑکوں فٹ پاتھوں پر پڑے نظر آتے ہیں۔ وہیں سونا اور وہیں کھانا پینا۔ عورتیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو اٹھائے لوگوں سے ان کے بچوں کا صدقہ مانگتی پھرتی ہیں۔ عورتیں بوڑھے تو دور نوجوان بھی اس کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دراصل اب یہ فیشن بن چکا ہے۔ جسے کام کرنے کا دل  نہ چاہے وہ اندھا لنگڑا ہونے کا ڈرامہ کرکے ایک دن میں ہزاروں روپے کمالے۔ لوگ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کرکے ان کو بھیک مانگنے کی خاص ٹریننگ دیتے ہیں کسی کی بازو توڑ دی اور کسی کی ٹانگ توڑدی یا پھر ڈرامہ کروا کے ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ ان کے پورے پورے گینگ کام کرتے ہیں جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور مجبور لوگوں کو اپنے جھانسے میں پھنسا کر یہ کام کرواتے ہیں۔ بھیک مانگنا پیشہ تو بن ہی چکا ہے لیکن کچھ لوگ مجبوری میں بھی یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں اس قدر بے روزگاری بڑھ چکی ہے کہ لوگوں نے پیٹ بھرنے کیلئے بھیک مانگنے کو پیشہ بنا لیا ہے۔ بچے جب بھوک سے بلک رہے ہوں، ماں جب بیماری سے بستر پر پڑی ہو یابہن جب خود کشی پر اتر آئے اور نوکری کا نام و نشان نہ ہوتو انسان بھیک مانگنے سے بہتر ہے۔ ساتھ میں نبیؐ کسی سائل کو خالی ہاتھ بھی نہ لوٹاتے تھے۔ لیکن ہم لوگ ہر مانگنے والے کو بس دھتکار دیتے ہیں۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اگر لوگوں کے پاس نوکریاں ہوں جائز طریقے سے کمائی کا ذریعہ  موجود ہوتو بھیک مانگنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ حکومت کو چاہیے کہ نئے پراجیکٹس شروع کرے جن میں بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کئے جائیں۔ عورتوں اور بچوں کیلئے کچھ ایسے پراجیکٹس شروع کئے جائیں جن میں ان کو چھوٹے موٹے کام سکھائے جائیں کشیدہ کاری، سلائی کڑہائی یا کمپیوٹر کا استعمال، تاکہ وہ اپنے بل بوتے پر کچھ کرسکیں اور بھیک جیسی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرسکیں۔ جو لوگ اسے پیشہ بنائے بیٹھے ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جائے اور ہزاروں مجبور لوگوں کو ان سے چنگل سے باہر نکالا جائے۔
میری حکومت سے گزارش ہے کہ اس کلچر کو ختم کیا جائے مجبور لوگوں کو نوکریاں دی جائیں اور پیشہ ورانہ افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے تاکہ ایک روشن پاکستان کا سورج ابھرسکے۔