آؤ اپنا احتساب کریں؟

   دسمبر کی سانولی شامیں اپنے اندر اداسی لیئے ہوئے ہیں جیسے جیسے موسم گزرتا جارہا ہے  دل کی دنیا ویران ہوتی  جارہی ہے عجیب سی یاسیت رگ وپے میں سماتی جارہی ہے جب     شام ڈھلے سورج  اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ افق کی پہنائیوں  میں ڈوبنے لگتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے دل بھی سورج کا حصہ ہو جو بے اختیار سورج کے سا تھ ڈوب رہا   ہو کتنی ہی یادیں در دل پر دستک دیتی ہیںبچھڑے لوگ بچھڑی یادیں دل کو تڑپانے کے لیے یوں حملہ آور ہوتی ہیں کہ ان یادوں سے فرار کی کوئی صورت نظر نہیں آتی  جب  انسان   دنوں کا  احتساب  کرنے بیٹھتا ہے تو ایک لمحے میں گیارہ  مہینوں کا تصورآنکھوں میں کھینچ آتا ہے
   میری آنکھوں  کے سامنے ان گنت مناظر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں وہ منظر جب آنکھوں میں امید کی چمک لیے بہت سے چہرے نئی امنگ نئی ترنگ  کے   ساتھ سالِ نو کو خوش آمدید کہہ رہے تھے کہ اب بیروز گاری ، مہنگائی ،لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی اور لوٹ مار کا خاتمہ ہوگاحق داروں کو حق ملے گاکتنی امیدیں  کتنے سہانے خواب ہم جیسے  نادان لوگوں نے سجا لیے تھے کہ کوئی آلہ دین کا چراغ ہوگا جو ان سارے مسائل کو حل کر کے پاکستان کو بے مثال بنا دے گا  کوئی انسان بھوک سے نہیں مرے گا کوئی ماں باپ   اپنی اولاد کی بولی نہیں لگائے گابہت سے خواب  آنکھوں   میں سج  گئے  تھے فائل میں بند ڈگریاںنکالی جانے لگیں مگر کیاہوا؟؟؟  سب خواب سب تصور ٹوٹ گئے وہی بم دھماکے وہی قتل وغارت وہی دھرنے وہی جلوس کچھ بھی تو نہ بدلا بجلی کے بلوں نے کئی لوگوں کو خودکشی پر مجبور کیا  لوڈشیڈنگ مذید بڑھی کسی کو روزگار نہ ملا کارخانے  فیکڑیاں سوئی گیس اور بجلی کی کمی کی وجہ سے بند ا میدیں مایوسی میں بدل گئیں چمکتے چہرے سیاہ پڑ گئے  کبھی امریکہ کی غلامی کبھی بھارت کے سامنے سر جھکااس سارے سال میں کیا بدلہ  خود سے    سوال کیا تو جواب نفی میں تھا کچھ بھی تو نہ بدلہ انصاف کی پکار گلی کوچوں میں گونج رہی ہے ظلم وستم آج بھی معصوم  لوگ سہہ رہے ہیںحوا کی بیٹی سر عام لٹ رہی ہے  بچے اپنے     ہاتھوں میں اوزار  تھامے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے ا پنے نام نہاد آقاؤں کا ظلم سہہ رہے ہیں شہر در شہر خون کی ندیاں بہہ رہی ہیںکٹے پھٹے اعضاء کفن کے لیے ترس رہے    ہیں  یہ وقت  وقتِ احتساب ہے اگر ہر انسان اپنا احتساب کرے اپنی غلطیوں  کو تسلیم کرے  کہ اسے کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا اس نے وہ مقصد پورا کیا  کس کا دل توڑا    کس سے جھوٹ بولا کتنے لوگوں کے حقوق پامال کیے  کس کی دل آزاری کی کتنوں کی زندگی اجیرن کی  کتنے لوگ ہم سے ہماری ہی وجہ سے بچھڑ گئے  اور ہم پھر بھی اپنے ہی    حال میں مست جیتے رہے اگر ہر فرد  جاتے سال   کے اس لمحے  ضمیر کی آواز سن لے اپنا ٓ  احتساب کرلے  تو شاید ہم سچے معنوں میں نئے سال کی خوشیاں مناسکیں اپنے    گناہوں کا کفارہ ادا کر سکیں اور پاکستان کو علامہ کے خواب کا رنگ دے سکیں  صبر، برداشت ،تحمل  کی صفات اپنا کر دوسروں کے لیے زندگی آسان کر سکیں
( طاہر جبین تارا لاہور)