زرمبادلہ اور GSP+ کے ذریعے رکاوٹیں عبور

تحریر :احسن صدیق
دہشت گردی ،امن و امان ،سیاسی کشمکش اور توانائی کے بحران جیسے چیلنجز کے باوجودسال 2014 کے دوران ملک میں معیشت کی صورتحال مجموعی طور پر بہتر رہی ۔پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا سٹیٹس ملاملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، اوائل مارچ میں روپے کی قیمت میں اضافہ ہوا، مالیاتی خسارے میں کمی، توقع سے کم شرح گرانی، نجی شعبے کے قرض اور ادائیگیوں میں بہتری اور جاری کھاتے کا خسارہ نسبتاً محدود رہا۔سال کے اواخر میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت جو یکم اکتوبر کو 103.62روپے تھی یکم دسمبر کو کم ہو کر 84.53روپے ہو چکی ہے ۔اسی طرح بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت میں 2روپے32پیسے کمی کی گئی ہے ۔سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 14ءمیں بھی کہا گیا ہے کہ مالی سال 14ءمعیشت کے لیے بہتر سال تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ’آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بیرونی رقوم کی آمد بھی تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد شروع ہوئی۔اس سے سٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی بتدریج کمی کو روکنے میں مدد ملی۔ مزید برآں، فروریمارچ 2014ءکے دوران پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ میں 1.5 ارب ڈالر کی آمد کے ساتھ دیگر رکی ہوئی رقوم آنے لگیں جس سے پاکستانی روپے کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ اس کے نتیجے میں صنعت و تجارت کے شعبے میں استحکام پیدا ہوا ۔ جس نے اس نکتہءنظر کو جنم دیا کہ حکومت بالآخر نمو کے مرحلے کے لیے تیاری کررہی ہے۔سٹیٹ بینک کے نکتہءنظر کے مطابق جی ڈی پی کے 5.5 فیصد کے برابر مالیاتی خسارہ ہوا ۔ جبکہ یہ شرح مالی سال 14ءکے ہدف 6.5فیصد کے ہدف سے اور گذشتہ تین برسوں کے رجحانات کے مقابلے میں خاصی کم تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اخراجات کو قابو میں رکھنے اور اضافی محاصل (revenues) پیدا کرنے کے لےے مربوط کوشش کی گئی۔ لیکن وقتی عوامل جیسے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کی رقم کی آمد اور حکومت کی جانب سے مالی سا ل14ءمیں گردشی قرضے کے تصفیہے میں تاخیر نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ مزید برآں، سٹیٹ بینک کا نکتہءنظر یہ ہے کہ سرکاری شعبے کے کاروباری ادارے (PSEs) وفاقی حکومت پر مسلسل مالیاتی بوجھ بنے ہوئے ہےں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ گرانی مالی سال 14ءمیں تھوڑی سی بڑھ کر 8.6 فیصد ہوگئی تاہم یہ کئی عوامل کی بنا پر سٹیٹ بینک کی ابتدائی توقعات سے کم تھی۔ اوّل، تیل کی عالمی قیمتیں توقع سے کہیں زیادہ کم ہوگئیں۔ دوم، اگرچہ پہلی سہ ماہی میں پاکستانی روپے میں عدم استحکام کی توقع تھی تاہم مارچ 2014ءکے بعد اس کی قدر بڑھنے اور مستحکم ہونے کی وجہ سے کرنسی کی مجموعی گراوٹ پیش گوئی سے خاصی کم رہی۔ سوم، یورو بانڈ کی ہدف سے اوپر فروخت اور یو بی ایل کے حصص کی کامیاب فروخت کے ساتھ نسبتاً مختصر مالیاتی خسارے نے بینکاری نظام (خصوصاً اسٹیٹ بینک) سے حکومتی قرض گیری میں بہت کمی کردی۔ چہارم، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ ابتدائی توقعات سے کم تھا۔ اس کے علاوہ مالی سال 14ءکی پہلی سہ ماہی میں گرانی کا بنیادی سبب تلف پذیر perishable) غذائی اشیا دسمبر 2013ءمیں کمزور پڑگیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جڑواں خساروں (مالیاتی اور بیرونی) کو گھٹانے کے پروگرام کے تحت زری پالیسی میں نرمی کا موقف جو وسط 2011ءمیں شروع ہوا تھا ستمبر 2013ءمیں تبدیل کردیا گیا ۔ لہٰذا 50 بی پی ایس کے دو متواتر اضافوں کے بعد اسٹیٹ بینک نے اپنا پالیسی ریٹ مالی سال 14ءکے بقیہ حصے کے دوران یکساں رکھا۔ اگرچہ گرانی کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات 2014ءکے اوائل میں خاصی نرم پڑگئیں تاہم اسٹیٹ بینک نے بیرونی شعبے کے حوالے سے تشویش اور پاکستانی روپے پر ممکنہ دبا¶ کے پیش نظر محتاط زری پالیسی جاری رکھی۔رپورٹ کے مطابق ’معلوم ہوتا ہے کہ اس پالیسی کے بارے میں سٹیٹ بینک کا مو¿قف درست ثابت ہوگیا ہے کیونکہ اس سے مالی سال2 کی نمو کم ہوکر 12.5 فیصد (بمقابلہ مالی سال 13ءکے جب یہ 15.9 فیصد تھی) پر آگئی اور اس کے باوجود نجی شعبے کے قرضے کی نمو میں نمایاں اضافے میں بھی مدد ملی جو اس سے پہلے سال 08ءمیں دیکھا گیا تھا۔ جہاں تک قرض کی رسد کا تعلق ہے، بینکاری نظام سے پست شرح پر حکومتی قرض گیری اور امانتوں (deposits)کی بھرپور نمو نے کمرشل بینکوں کے لیے پیداواری قرضے دینے کی زیادہ گنجائش پیدا کردی۔ طلب کے اعتبار سے دیکھیں تو مئی 2013ءکے عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی بہتر صورت حال نے قرض لینے کے لیے سازگار ماحول کو جنم دیا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق بیرونی شعبے کیلئے کلیدی پیغام یہ ہے کہ بیرونی خسارے کا مجموعی سائز مالی سال 14ءمیں قابل انتظام تھا مگر اس کو پورا کرنا دشوار تھا۔ مالی سال کے آغاز میں سٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر مسلسل گر رہے تھے، لیکن ایسا صرف پہلی سہ ماہی میں ماہانہ جاری کھاتے کے خساروں کی بنا پر ہی نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ آئی ایم ایف کو بھاری ادائیگیاں بھی تھیں جو نومبر 2013ءتک جاری رہیں۔ ’وسیع ترپس منظر میں دیکھا جائے تو بیرونی شعبے میں نمایاں کارکردگی تارکین وطن کی ہے۔‘ تاہم زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے برآمدی محاصل مالی سال 10ءسے تقریباً جمود کا شکار رہے ہیں مگر ترسیلات میں بھرپور اضافہ ہوا ہے۔ مال سال 14ءکے دوران کارکنوں کی ترسیلات پچھلے سال سے 1.9 ارب ڈالر بڑھ گئیں جو 13.8 فیصد اضافہ ہے۔ ترسیلات کی مستحکم شرح نمو نے تجارتی خسارہ میں اضافے اور دیگر عوامل کے جاری کھاتے کے توازن پر اثر کو جزوی طور پر زائل کردیا۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،