”پھانسی کی سزا“ پر عمل اہمیت کا حامل فیصلہ ہے

عنبرین فاطمہ
پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشتگردی کے حملے میں 133بچوں سمیت141افراد کے شہید اور 124زخمی ہونے کے المناک سانحے نے پوری قوم کو شدید کرب میں مبتلااور دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔دہشت گردوں نے بے گناہ اور معصوم طالب علموں پر حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی رعایت یا رحم کے مستحق نہیں ہیں۔اس سانحے نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے عبرتناک انجام سے دوچار کرنے کےلئے پھانسی کی سزا پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ظالم کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔بعدازاں وزیر اعظم کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے لائحہ عمل تیار کرنے پر بات چیت کی گئی۔ریاست پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کافی عرصہ سے پھانسی پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے اور کچھ خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی کے تختے پر چڑھانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔فوجی اور سیاسی قیادت نے خیبر سے لیکر کراچی تک موجود دہشت گردوں کو چن چن کر نشانہ عبرت بنانے کا تہیہ کیا ہے۔دہشت گرد پھانسی پر پابندی کے خاتمے اور آپریشن کے خلاف کیا رد عمل دکھاتے ہیں، فوجی اور سیاسی قیادت دہشت گردی کا قلعہ قمع کرنے کےلئے کیا اقدامات کرتی ہے افغان حکومت اور ایساف طالبان کی پاکستان کے خلاف کاروائیاں روکنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس صورتحال پر بات کرنے کےلئے ہم نے امریکہ میں سابق سفیر اور پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما ”شیری رحمان“ سے خصوصی بات کی۔
نوائے وقت:پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں آپریشن کیا لیکن وہ سوات تک محدود رہا فاٹا میں کیوں نہیں کیا شمالی وزیرستان کو طالبان کی آماجگاہ کیوں بننے دیا گیا؟
شیری رحمان:ہم نے بھی آپریشن کیا تھا اور وہ آپریشن صرف سوات تک محدود نہیں تھا۔ ہم نے دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے پوری کوشش بھی کی۔آپ ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو ہماری ہی وہ سیاسی جماعت نظر آتی ہے جس کی قیادت نے دہشت گردی کے حوالے سے بےشمار قربانیاں دیں۔
نوائے وقت:وہ کالعدم تنظیمیں جو دوسرے ناموں سے کام کر رہی ہیںان کا کردار کیسے محدود کیا جائے گا؟
شیری رحمان:انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کی جائے ایسے تمام اڈوں کو تباہ کیا جائے جہاں پر دہشت گرد موجود ہیں اور ایسی تنظیمیں جو ملک میں انتشار پھیلانے کا باعث بن رہی ہیںان کے خلاف سخت ایکشن لئے جائیں۔وزیر اعظم نے گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق سے بالاتر ہو کر تمام دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا اعلان کرکے ثابت کیا ہے کہ ملکی مفاد ان کے لئے کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
نوائے وقت:افغانستان میں آرمی چیف کے دورے کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟
شیری رحمان:افغانسان کی موجودہ حکومت پاکستان کےلئے نرم گوشہ رکھتی ہے امید ہے کہ آرمی چیف کے دورے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
نوائے وقت:افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی موجودگی میں کیا افغانستان میں پاکستان کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو سکے گا؟
شیری رحمان:زرداری حکومت نے ایک پالیسی شروع کی تھی کہ پاکستان افغانستان میں موجود تمام سیاسی قیادت سے روابط رکھے گا ایسا نہیں ہوگا کہ ایک سیاسی گروپ سے ملیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیں ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ افغانستان کی عوام جس کو بھی ملک کی قیادت سونپے گی اس کا ساتھ دیں گے۔اب افغانستان میں نئی حکومت آئی ہے ان کے ساتھ روابط بڑھانے کےلئے ہمیں اسی پالیسی کو جاری رکھنا ہو گا ۔پشاور سانحے پر اشرف غنی کا ردعمل خاصا مثبت ہے اب ہمیں ایسی سٹریٹیجی اپنانی ہوگی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام پیدا ہو۔اگر ہم نے سرحدی علاقوں پر ایکشن لینا ہے اور دہشت گردوں کی پناگاہوں کا خاتمہ کرنا ہے تو پھر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
نوائے وقت:افغانستان میں اعلیٰ ترین سطح پر تاجک قیادت کی موجودگی اور بھارت کے اثرورسوخ کو کیسے ختم کیا جا سکے گا؟
شیری رحمان:تاجک برادری افغانستان کی حقیقت ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ان کی آدھی معیشت پاکستان کے ذریعے چلتی ہے ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی ہمیں ان کو نارکوٹکس جیسی دیگر چیزوں کے خاتمے کےلئے حوصلہ افزائی بھی کرنا ہو گی ۔افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔باقی ہندوستان سے ہمیںبات چیت کرکے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔اگرہندوستان خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے لہجے میں نرمی پیدا کرے اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عزت کے دائرے میں رہ کر پاکستان سے بات چیت کرے اگر بھارت پاکستان کے ساتھ تلخ کلامی سے بات کرے گا تواس کو ہماری جانب سے مثبت جواب نہیں ملے گا۔
نوائے وقت:پشاور سانحے کے بعد ہماری سیاسی قیادت کے اکٹھے ہونے کا فائدہ دیکھ رہی ہیں ؟
شیری رحمان:آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب پورا ملک سوگوار ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوئی ہیں۔باقی حکومتوں کے پاس اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ خود کر سکے لیکن اگر حکومت سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی ہے تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔آل پارٹیز کانفرنس میں جس اتحاد کا مظاہرہ تمام سیاسی جماعتوں نے کیا ہے ان کو چاہیے وہ اس اتحاد میں تسلسل بھی رکھیں یہ نہیں کہ کل کو ہم پھر تنقید برائے تنقید کی روش پر چل نکلیں۔اب یہاں حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے ایکشن لینے میں قدم پیچھے نہ ہٹائے۔
نوائے وقت:پاکستان میں جو طالبان کو مدد فراہم کرتے ہیں ان سے کیسے نمٹا جائے؟
شیری رحمان:پاکستان میں جو بھی طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا ان کا ساتھ دیتے ہیں ایسے عناصر سے بھی نمٹنے کےلئے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور یہ چیز اس وقت حکومت کےلئے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ حکومت کو ایسے فیصلے کرنے ہیں جن سے مسائل کا مستقل حل نکل سکے۔
نوائے وقت:آج بھی ہمارے لیڈرزطالبان کا نام لیکر مذمت نہیں کرتے اس پر کیا کہیں گی؟
شیری رحمان:پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے بغیر ڈر اور خوف کے طالبان کا نام لیکر مذمت کی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے شہادتیں دیکھیں آج بھی آپ دیکھیں کہ ہم دونوں جماعتوں کو جلسے کرنے کےلئے سیکیورٹی کے خدشات لا حق ہوتے ہیں ۔جو جماعتیں طالبان کا نام لیکر ان کی مذمت نہیں کرتیں وہ بلا خوف و خطر جلسے جلوس کرتی ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ اب وہ وقت ہے کہ ہمارے لیڈران کو طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہو گا اور ان کی کھلے الفاظ میں مذمت اور فوج کے کے ساتھ مل کر کاروائی بھی کرنی ہوگی ورنہ حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہو سکتے ہیں ۔
نوائے وقت:خطرناک دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا عمل شروع ہوا ہے اس کا ردعمل آنے والے وقتوں میں کیا دیکھ رہی ہیں؟
شیری رحمان:پھانسی کی سزا پر عمل خاصا اہمیت کا حامل فیصلہ ہے ہم نے جو قدم اٹھایا ہے اس میںپیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ہاں ساتھ ہی ساتھ سیکیورٹی خدشات سے نمٹنے کےلئے لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا تاکہ مزید سانحات سے بچا جا سکے۔
نوائے وقت:اتنا بڑا سانحہ رونما ہونے کے بعد پاکستانی قوم کو اس جنگ کےلئے کیسے تیار کیا جائے؟
شیری رحمان:پاکستانی قوم اس وقت متحد ہے اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت نے ہر دل کو پسیج دیا ہے قوم کو متحد کرنے کی ضرورت نہیںہے قوم متحدہی ہے اور انصاف کی طلبگار ہے۔یہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو تحفظ فراہم کرے اوریہ ریاست کی اولین ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کےلئے ٹھوس اقدامات کرے۔
نوائے وقت :کیا ہم بچوں کی شہادت کو بھول تو نہیں جائیں گے؟
شیری رحمان:میں سمجھتی ہوں کہ اٹھارہ اکتوبر2008ءنے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا اتنی بڑی تعداد میں شہادتیںہوئیںتھیں لیکن پشاور سانحہ اُس سانحے سے اس لئے بڑا ہے کیونکہ اس میں ہمارے ملک کے مستقبل، ملک کے معماروں اور ننھے منھے بچوں کا وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا ہے۔عوام کبھی بھی اس سانحے کو نہیں بھول سکتی ہاں قوم اس سانحے کو بھولنے والوں کو کبھی معاف بھی نہیں کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ جانے والی بہادر ٹیچر”سحر افشاں“ نے بچوں کو بچاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا
پشاور شہر کی طرح گلبہار کے لوگ بھی افسردہ ہیں۔ اس علاقے میں حکیم بخاری کالونی میں نویں جماعت کے دو طالب علم اور استانی سحر افشاں رہتے تھے۔ان تینوں نے دیگر بچوں کو شدت پسندوں سے بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔ سحر افشاں نے مزاحمت کی اور سکول حملے میں ہلاک ہونے والی وہ پہلی خاتون تھیں۔گلبہار کے مختلف گلی کوچوں میں کہیں ایک تو کہیں دو بچے اس سانحے میں ہلاک ہوئے ہیں۔گلبہار کالونی 1970 کی دہائی میں قائم کی گئی تھی۔اس علاقے میں زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ بیشتر لوگ نوکر پیشہ اور تاجر بتائے گئے ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں اردو کا مضمون پڑھانے والی سحر افشاں بھی گلبہار کے علاقے حکیم بخاری سٹریٹ کی رہائشی تھیں۔گھر کے کل افراد ایک بوڑھی ماں، ایک بھائی اور ایک سحر افشاں خود تھیں والد فوت ہو چکے ہیں۔سحر افشاں ایک اچھی منتظم اور بہادر خاتون تھیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے آڈیٹوریم میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی مزاحمت بھی کی تھی۔ان کے بھائی فواد گل کے مطابق انھیں یقین نہیں آرہا کہ اب ان کی چھوٹی بہن اس دنیا میں نہیں رہی۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں طالب علموں نے بتایا کہ ان کی ٹیچر نے شدت پسندوں کو اندر آنے سے روکا کیونکہ وہ کوئی آرمی افسر یا سکول کے عملے کے لوگ نہیں لگ رہے تھے۔شدت پسندوں نے انہیں پہلے سر پر گولی ماری پھر کندھوں پر گولی ماری۔ وہ اس سکول میں ہلاک ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔گلبہار کے علاقے حکیم بخاری سٹریٹ میں سحر افشاں کے علاوہ نویں جماعت کے دو طالب علم بھی رہتے تھے جن میں کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ خود باہر نکل سکتے تھے لیکن وہ اپنے چھوٹے بھائیوں اور دیگر بچوں کو بچانے کے لیے وہیں موجود رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائرہ داﺅد نے حملے کے بعد150 کے قریب بچوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کرنے میں مدد کی
عام طورپر کہا جاتا ہے کہ جب بھی بڑے بڑے سانحات رونما ہوتے ہیں تو مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے جلدی حوصلہ ہار جاتی ہیں۔بالخصوص جب کم عمر اور معصوم بچوں کے قتل عام یا ہلاکتوں کا معاملہ ہو تو ایسے میں تو عورتیں ٹوٹ کر رہ جاتی ہیں۔پشاور میں سکول پر ہونے والے حملے نے جس طرح پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں مختلف ٹی وی چینلز پر مسلسل دکھائی جانے والی رپورٹوں سے گھریلو خواتین بھی کانپ اٹھی ہیں۔لیکن ساتھ ہی ساتھ سکول کی کچھ ایسی خواتین اساتذہ کی کہانیاں بھی سامنے آئی ہیں جنہوں نے حملے کے دوران جرات اور بہادری کی مثالیں قائم کیں۔ان میں آرمی پبلک سکول کے جونیئر سیکشن کی پرنسپل سائرہ داو¿د بھی شامل ہیں۔جس وقت سکول پر حملہ ہوا اس وقت ان کا اپنا بیٹا بھی سینیئر سیکشن میں اس جگہ پر موجود تھا جہاں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی جبکہ بیٹی جونیئر سکیشن میں تھی اور یہ دونوں خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔اس خاتون نے حملے کے بعد نہایت مستعدی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 150 کے قریب بچوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں مدد کی۔عام طور پر درجنوں معصوم بچوں کی ہلاکت کا منظر دیکھنے والے فرد سے اس عزم اور حوصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی جس کا مظاہرہ سائرہ داو¿د نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔سائرہ نے کہا کہ میں نے اس سانحے کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے اور اب میں اس کو استعمال کر کے اس کی مدد سے ساتھی اساتذہ اور بچوں کو دوبارہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کروں گی۔جس اذیت کا سامنا ہم نے کیا ہے اس کو زندگی بھر نہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سائرہ داو¿د نے کہا کہ جب گولیوں کی ترتراہٹ شروع ہوئی تو وہ ایسی عجیب فائرنگ تھی جس کی آواز انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا تو میدان میں دہشت گرد کالے رنگ کے کپڑے ، بڑی بڑی خاکی رنگ کی جیکٹیں پہنے دندناتے پھر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں عجیب و غریب قسم کا بڑا اسلحہ تھا جس سے آگ نکل رہی تھی۔ وہ وحشی درندے بے خوف ہوکر بچوں پر گولیاں برسا رہے تھے۔سکول کی کئی اساتذہ دہشت گردوں کے سامنے آ کر بچوں کے لیے ڈھال بن گئے جس سے کئی بچے بچ بھی گئے لیکن ان استانیوں پر حملہ آوروں نے فاسفورس بم پھینکے گئے جس سے وہ جل گئیں۔پرنسپل کے مطابق تقریباً پانچ سے دس منٹ کے دوران کوئک رسپانس فورس اور ایس ایس جی کے دستے پہنچ گئے تھے جنہوں نے حملہ آوروں کو ایک جگہ تک محدود کر دیا ورنہ اس سے بھی کہیں زیادہ نقصان ہوتا۔ان شہید بچوں نے جاتے جاتے ایسی قربانی پیش کی ہے جس نے پورے ملک اور تمام قوم کو اکٹھا کر دیا ہے۔ قوم میں جو تھوڑی بہت دراڑ تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے اور اب لگتا ہے کہ یہ قربانی ملک کی تاریخ بدلے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہ پشاور میں ماﺅں کے جگر کے ٹکڑے جس بے دردی سے شہید کئے گئے اس کی مذمت الفاظ میں ممکن ہی نہیں ہے۔134خاندانوں کے چراغ گل ہوئے۔آرمی پبلک سکول میں پڑھنے والے بچوں کی مائیں اس واقعہ کی خبر سنتے ہی بیہوش ہوتی رہیں۔ننھے منھے پھولوں کے مسلے جانے پر ہر ماں کا کلیجہ دولخت ہوا ہے،ہر ماں کی آنکھ اشکبار ہے،ہر ماں اس وقت شدید غم میں مبتلا ہے۔اب مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے خائف دکھائی دے رہی ہیں۔پشاور سانحہ پاکستان کی تاریخ کا ابھی تک کا بھیانک ترین واقعہ ہے جس کو شاید کبھی بھولا نہیں جا سکتا۔پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے خون سے کھیلی گئی ہولی نے غیر ملکیوں کی آنکھیں بھی نم کر دیں ۔ہمسایہ ملک بھارت میں بھی اس واقعہ کو لیکر فضا سوگوار رہی۔پشاور سانحے پر ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے بات کی۔ایک بینکر خاتون نمرہ خالد نے کہا کہ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور بیٹی دونوں کالج جاتے ہیں لیکن میں اب ان کو تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہوئے ڈرنے لگی ہوںحکومت کو اب اس طرح کی کارروائیاں روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔لاہور کے ایک گورنمنٹ سکول کی ٹیچر عاصمہ خان نے کہا کہ ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ بچوں کے ساتھ ایسا بھی سلوک کیا جا سکتا ہے میری سمجھ سے باہر ہے کہ وہ کس قسم کے درندے تھے جن کے دلوں پر بچوں کی چیخیں اور ان کے خون نے اثر نہ کیا۔گھریلو خاتون ثمینہ عنبر نے کہا کہ اولاد کے قرب سے کبھی کسی ماں باپ کا جی نہیں بھرتا لیکن پشاور کے وہ ڈیرھ سو سے دو سو والدین جن کے بچے شدید زخمی ہیں یا نا کردہ جرم کی بنا پر موت کی وادی میں اتر چکے ہیں وہ اب کس کو گلے لگائیں گے،کس کے تابناک مستقبل کے خواب بنیں گے۔ان کے جگر گوشوں کا قرب تو ہمیشہ کےلئے ان سے چھن چکا ہے ۔اب ان مقتولین کی مائیں اکیلے بیٹھ کر اپنے پیاروں کا نام لیکر تادم زندگی صرف روتی ہی رہیں گی۔کیا ان ماﺅں کےلئے وہ صبحیں تمام ہوئیں جو انہیں صبح کی خبر دیتی تھیں اور پھوٹنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کے سوتے جاگتے چہرے دیکھ کر سرشار ہوجایا کرتی تھیں لیکن اب ملک میں ان اجڑی گودوں والی ماﺅں کے چاروں طرف صرف خاموشی ہے اداسی ہے اور ان کی اپنی خاموش سسکیاں ہیں جو انہیں تل تل موت کی دہلیز تک لیجانے کا سبب بنیں گی۔نازش حبیبہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مذاکرات کا آپشن کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کا ایجنڈا ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنا ہے اور انہوں نے مذہب کی آڑ لے رکھی ہے یہ کوئی عام سا تنازع نہیں ہے کہ جسے جرگے یا کمیٹی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔کوئی ان ماﺅں سے پوچھے جن کی گودیں اجڑی ہیں ماﺅں نے جب سکول بھیجا تھا تو کسے معلوم تھا کہ ہمیشہ کےلئے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کر رہی ہیں۔گھریلو خاتون ناہید خان نے کہا کہ یقین ہی نہیں آتا کہ بچوں کے ساتھ ایسا سلوک بھی کیا جا سکتا ہے۔پاکستان میں دہشت گردوں نے جس طرح بے گناہ افراد کا خون بہایا ہے اس کا تقاضایہ ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ایک مضبوط اور موثر پالیسی اختیار کی جائے۔پشاور میں معصوم بچوں کو شہید کرکے دہشت گردوں نے انسانیت کی ساری حدود پار کر لی ہیں ۔اب پاکستانی قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے طالب علم اور بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں پشاور میں سکول کے بچوں کو شہید کرکے دہشت گردوں نے پاکستان کے مستقبل پر حملہ کیا ہے۔گھریلو خاتون نسرین بیگم نے کہا کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک نہیں ہے جسے دہشت گرد گروہوں کا سامنا ہے دنیا میں بہت سے ملک ایسے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ہے اور اس پر کامیابی سے قابو پایا ہے سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔پاکستان بھی دہشت گردوں پر قابو پا سکتا ہے لیکن اس کے لئے جرات مندی اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے ۔ہماری اسٹیبلشمنٹ ،حکومت اور ملک کی سیاسی قیادت کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ دہشت گردی اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ہم یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے کہ یہ پاکستان کے دشمنوں کی کاروائی ہے یا اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔دہشت گردوں کے خلاف کاروائی تو ہو ہی رہی ہے لیکن اس کےلئے نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ ملک میں جو تنظیمیں،گروہ یا شخصیتیں عوام میں نظریاتی کنفوژن پھیلا رہی ہیں اور برملا ایسی باتیں اور تقریریں کر رہی ہیں جن سے دہشت گردوں کے نظریات کو تقویت مل رہی ہے ان کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔جن ماﺅں کی گودیں اجڑنی تھیں وہ تو اجڑ چکیں اور شاید ہی ان کو زندگی میں سکون ملے لیکن مزید ناخوشگوار واقعات سے بچنے کےلئے حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ماﺅں کے ساتھ ساتھ بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہیں خوف کی اس فضامیں بچے کس طرح اپنی تعلیم پر توجہ دے سکیںگے۔
فائنل888