درآمدی تیل سے بجلی کی مہنگے داموں تیاری کا مسئلہ

راجہ عابد پروےز ۔۔۔ اسلام آباد
پاکستان مےں دو تہائی بجلی مہنگے داموں خریدے گئے تےل سے پےدا کی جاتی ہے، پاور پلانٹس مےں جلائے جانے والے تےل کا بڑا حصہ دوسرے ممالک سے منگواےا جاتا ہے، جس پر بڑے پےمانے پر زرمبادلہ صرف ہو جاتا ہے جوکہ ملک کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا اہم سبب ہے ۔ پاکستان تےل جلا کر بجلی پےدا کرنے کا متحمل نہےں ہو سکتا۔ ےہ کسی بدقسمتی سے کم نہےں کہ جس ملک کو قدرت نے بےش بہا وسائل سے نواز رکھا ہو وہاں کے رہنے والے مشکلات مےں زندگی بسرکر رہے ہوں۔ حکومت کی طرف سے جاری اےک رپورٹ کے مطابق پاکستان مےں بہنے والے درےاﺅں کے راستے مےں اےسے متعدد مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سے 60 ہزار مےگاواٹ بجلی پےدا کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق درےائے سندھ اےک اےسا درےا ہے جہاں سے 40 ہزار مےگاواٹ سے زائد بجلی پےدا کرنے کی صلاحےت ہے، اس کے باوجود پاکستان لوڈشےڈنگ جےسے عذاب مےں مبتلا ہے، لوڈشےڈنگ سے نہ صرف گھرےلو صارفےن شدےد پرےشان ہےں بلکہ معےشت کا پہہ بھی جام ہے، اےک اےسے ملک کے رہنے والے لوگوں کو انرجی کی کمی کا سامنا ہے جس ملک کو قدرت نے کئی کئی مےل پھےلے ہوئے کوئلے کے ذخائر عطا کیے ہوئے ہیں جنہیں اگر استعمال میں لایا جائے تو اگلے پانچ سو برس تک بجلی پےدا کی جا سکتی ہے، مگر بدقسمتی کہ حکمرانوں نے ملک کے حقےقی مسائل کی طرف کبھی توجہ نہےں دی اور صرف نعرے اور وقتی اقدامات سے وقت کو دھکا دےتے رہے، مگر اب تو دھکا دےنے کا بھی وقت نہےں رہا، گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت نے عوام کے شدےد دباﺅ پر انرجی سےکٹر پر کام شروع کر دےا ہے، کوئلے پر چلنے والے متعدد پاور پلانٹس قائم کئے جا رہے ہےں جس مےں پہلے مرحلے مےں درآمدی کوئلہ جبکہ بعد ملک مےں نکالے جانے والا کوئلہ استعمال کےا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ حکومت نے درےاﺅں سے بجلی پےدا کرنے کے مواقع بروئے کار لانے کا بھی فےصلہ کےا ہے، اس کے لئے پہلے مرحلے مےں درےائے سندھ پر پہلے سے جاری منصوبوں کی تکمےل کے لئے کام مےں تےزی لانے جبکہ نئے منصوبوں پر بھی کام شروع کرنے کا پلان تےار کےا گےا ہے۔ درےائے سندھ جو کہ سکردو کے مقام سے پاکستان مےں داخل ہوتا ہے اس کا پانی پہاڑی سلسلوں مےں بہتا ہوا سندھ کے مےدانی علاقوں مےں پہنچ کر آخر کار سمندر مےں گر جاتا ہے۔ درےائے سندھ پر تربےلا کے مقام پر پہلے ہی ڈےم موجود ہے جبکہ اس کے اوپر تھاکوٹ، پتن، داسو، بھاشا، بونجھی، ےلبو، ٹنگس اور سکرودو کے مقامات پر بڑے بڑے منصوبے شروع کر دیے گے ہیں، سکردو شہر سے 35 کلو مےٹر نےچے سکردو ہائےڈرو پاور پروجےکٹ شروع کےا گےا ہے۔ سکردو پاور پروجےکٹ سے 12سو مےگاواٹ بجلی پےدا ہو گی اور ےہ منصوبہ اگلے پانچ سالوں مےں مکمل ہو گا، منصوبے کی ابتدائی سٹڈی مکمل کر لی گئی ہے۔ ٹنگس ہائےڈرو پاور پروجےکٹ سکردو سے 53 کلومےٹر نےچے کی طرف ٹنگس شہر سے 2 کلو مےٹر اوپر شروع کےا گےا ہے، اس منصوبے سے 2200 مےگاواٹ بجلی پےدا ہو گی، منصوبے پر 5 ارب امرےکی ڈالر خرچ ہوں گے اور ےہ منصوبہ 5 سالوں مےں مکمل ہونے کا اندازہ لگاےا گےا ہے۔ ےلبو ہائےڈرو پاور پروجےکٹ ےلبو اور سلبو گاﺅں سے 6 کلومےٹر اوپر ضلع سکردو مےں ہی واقع ہے، اس منصوبے سے 2800 مےگاواٹ بجلی پےدا ہو گی، اس کی لاگت کا تخمےنہ 5.8 ملےن امرےکی ڈالر لگاےا گےا ہے، منصوبہ مکمل ہونے مےں 5 سال لگےں گے۔ بونجھی ہائےڈرو پروجےکٹ گلگت کے نزدےک درےائے سندھ پر لگاےا جا رہا ہے، وفاقی دارالحکومت سے اس کی دوری 610 کلومےٹر ہے، منصوبے سے بجلی پےدا کرنے کی صلاحےت 7100 مےگاواٹ ہے جبکہ اس پر لاگت کا اندازہ 13.49 ارب ڈالر لگاےا گےا ہے، پتن ہائےڈرو پاور پروجےکٹ پتن سے 4 کلومےٹر اوپر کی طرف قائم کےا جا رہا ہے، منصوبے سے 2300 مےگاواٹ بجلی پےدا ہو گی جبکہ اس پر لاگت کا اندازہ 4.2 ارب امرےکی ڈالر لگاےا گےا ہے۔ تھاکوٹ ہائےڈرو پاور پروجےکٹ بشام قلعہ ٹاﺅن سے 3 کلومےٹر نےچے جبکہ اسلام آباد سے اس کا فاصلہ 240 کلومےٹر ہے، منصوبے سے 4000 مےگاواٹ بجلی پےدا ہو گی جبکہ اس پر لاگت کا اندازہ 7ارب ڈالر لگاےا گےا ہے۔ دےامےر بھاشا ڈےم پروجےکٹ کے لئے زمےن کافی حد تک خرےد لی گئی ہے جبکہ منصوبے کے مقام پر کالونی کی تعمےر پر کام شروع ہے، منصوبے پرلاگت کا اندازہ 11.18 ارب ڈالر لگاےا گےا ہے، اسے 9 سالوں مےں مکمل کر لےا جائے گا۔ داسو ہائےڈرو پاور پروجےکٹ 4320 مےگاواٹ صلاحےت کا منصوبہ ہے، ےہ منصوبہ دےامےر بھاشا ڈےم کے نےچے تعمےر کےا جا رہا ہے۔ اس طرح درےائے سندھ پر تربےلا کے مقام تک پہنچنے سے قبل 28420 مےگاواٹ بجلی کے منصوبوں پر کام شروع کر دےا گےا ہے، ان منصوبوں پر کام مےں تےزی کے لئے حکومت نے اسلام آباد مےں اےک چھت کے نےچے تمام دفاتر قائم کرنے کے لئے اےک عمارت مختص کی ہے، جس کا افتتاح وزےر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کےا۔ تربےلا ڈےم پر بھی اےکسٹےنشن 4 پر کام جاری ہے جس سے مزےد 1410 مےگا واٹ بجلی پےدا ہو گی، جس کی تکمےل کے بعد منصوبے کی اےکسٹےشن 5 پر بھی واپڈا کام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تربےلا سے نکلنے والے پانی سے غازی بھروتھا سے اےک بار پھر 1450 مےگاواٹ بجلی پےدا کی جاتی ہے، درےائے سندھ کے اسی پانی سے کالا باغ ڈےم کے مقام پر اےک بار پھر 3600 مےگاواٹ بجلی پےدا کی جا سکتی ہے نہ صرف بجلی بلکہ بڑے پےمانے پر آبپاشی کے لئے پانی بھی مےسر آ سکتا ہے مگر بدقسمتی سے ےہ منصوبہ سےاست کی پھےنٹ چڑھ گےا، منصوبے پر بڑی حد تک کام کر لےا گےا تھا اور اگر اس پر کام نہ رُکتا تو اب تک ےہ ڈےم مکمل ہو چکا ہوتا اور اس کے ثمرات پاکستانی قوم تک پہنچ رہے ہوتے۔ اب بھی اگر حکمران اور سےاسی نمائندے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم کر لےں اور صاف نےت سے تمام ترقےاتی منصوبوں کو تمام تر وسائل بروئے کار لا کر مکمل کرنے کے لئے کمر کس لےں تو پھر پاکستان کو اگلے چند برسوں مےں اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مگر فی الوقت ملک و قوم کو اپنی فوری ضرورت کے تحت انرجی کی جس کمی کا آج سامناہے اسے دور کرنے کیلئے ہمیں دیگر ذرائع بھی بروئے کار لانے ہو ں گے تاکہ ملک کی فےکٹرےاں چلےں، ترقی کا پہےہ گھومے اور معےشت کا گراف اوپر چڑھے۔ انرجی کی اہمےت اسی طرح ہے جس طرح جسم مےں خون کی ہوتی ہے، خون کی کمی سے جسم لاغر ہو جاتا ہے اور کام کرنے کے کام قابل نہےں رہتا، اسی طرح انرجی کی کمی سے سب کچھ ہی ٹھپ ہو جاتا ہے۔ گلی کی نکڑ کی دکان سے لے کر بڑی سے بڑی فےکٹری انرجی کے بغےر بے جان ہوکررہ جاتی ہے، اگر قدرت نے صرف اےک درےا کو ہزاروں مےگاواٹ بجلی پےدا کرنے کی صلاحےت دے رکھی ہے تو آپ اندازہ کر سکتے ہےں کہ پاکستان مےں سولر انرجی، تھرمل انرجی، زیر زمین کول کے ذخائر، نےوکلےئر انرجی اور ونڈ انرجی سے بجلی پےدا کرنے کی قدرت نے کتنی ہی صلاحےت دے رکھی ہے۔ جبکہ کوئلے، گےس، خام تےل سمےت گنے کے پھوک کچرے سے بجلی پےدا کرنے کی صلاحےتوں کا اندازہ ہی نہےں کےا جا سکتا، پاکستان کو قدرت نے کن کن صلاحےتوں سے نواز رکھا ہے، اور اگر ہم ان سے مستفےد نہےں ہو رہے تو اس مےں ہماری اپنی کوتاہیاں شامل ہےں اور جس روز ہم نے اپنے آپ کو بدلنے کا تہےہ کر لےا تو پھر اسی روز سے ہمارے دن پھرنے کا وقت شروع ہو جائے گا۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،