حضرت پیر سید مہر علی شاہ ایک نابغہ روزگار شخصیت

ڈاکٹر ظفراللہ بیگ
امام العارفین مجدد عصر حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہؒ 14 اپریل1859ءبمطابق یکم رمضان المبارک 1275ھ بروز پیر راولپنڈی سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بستی گولڑہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد پیر سید نذردین شاہ ایک جلیل القدر بزرگ تھے۔ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل صوفی بزرگ پیر سید فضل دین نے چراغ روشن کی بشارت دی اور آپ زندگی بھر اپنی ضیا پاشیوں سے ماحول کو منور فرماتے رہے۔ حضرت قبلہ عالم کا شجرہ مبارک پچیس واسطوں سے سیدنا غوث الاعظم ؒسے ملتا ہے۔ جس کی سند بغداد شریف کے اس وقت کے سجادہ نشین کی عطا کردہ ہے۔ جس میں آپ کوحضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے صحیح وارث قرار دیا گیا ۔
حضرت قبلہ عالم کو چار سال کی عمر میں مکتب میں بٹھا دیا گیا۔ آپ نے عربی فارسی اور صرف ونحو کی تعلیم ہزارہ کے عالم مولانا غلام محی الدین سے حاصل کی۔ علم نحو کی مشہور کتاب کافیہ بھی ان ہی سے پڑھی۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا جو پارہ ایک بار پڑھ لیتے تھے وہ ان کو ازبر ہو جاتا تھا۔ عربی اور فارسی بڑی روانی سے پڑھ لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے استاد نے انہیں ایک کتاب (قطر الندیٰ) دی اور کہا کہ اس کے جو کرم خوردہ حصے ہیں ان کو بھی مکمل کرو۔ وہ عبارت درخت کے پتوں پر ظاہر ہوئی اور آپ نے یاد کر کے دوسرے روز سنا دی۔ آپ کی طبیعت میں فطری روانی اور عربی عبارات کی تفہیم کا فطری اور الہامی ملکہ موجود تھا۔
 پیر سیّد مہر علی شاہ نے موضع بھوئی ضلع اٹک نزد حسن ابدال میں معروف عالمِ دین علامہ محمد شفیع قریشی کی درسگاہ کے علاوہ ہندوستان کی مشہور دینی درسگاہوں (کانپور، علی گڑھ اور سہارن پور) میں سلسلہ¿ تعلیم جاری رکھا۔ علم حدیث میں آپ ہندوستان کے مشہور عالم دین مولانا احمد علی محدث سہارنپوری کے شاگرد تھے۔ حضرت گولڑوی اپنے استاد مولانا لطف اللہ سے بہے حدمتاثر تھے۔
مہرِ منیر میں مولانا فیض صاحب، محدث سہارن پوری کے علمی مرتبہ اورمقام کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”صد ہا علماءکو آپ نے محدث بنا دیا۔ ہندوستان میں ہرطبقہ کے علماءمیں سے اکثر کی سند حدیث آپ تک پہنچتی ہے۔ فن حدیث میں جہاں آپ دیوبندی علماءکے پیشوا مولانا محمود الحسن (دیوبندی) صاحب کے استاد ہیں تو وہاں خاندان غوثیہ کے چشم و چراغ حضرت قبلہ عالم گولڑوی اور مولانا سیّد محمد علی شاہ مونگیری جیسی آفتاب معرفت ہستیاں بھی آپ سے مستفیض ہیں۔“ علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد حضرت گولڑوی نے علوم باطنی کی طرف توجہ دی۔ سلسلہ قادریہ میں پہلے ہی آپ حضرت بابا فضل دین شاہ (جو آپ کے والد کے ماموں تھے) سے بیعت تھے۔ اس کے بعد سلسلہ¿ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں آستانہ عالیہ سیال شریف میںحضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ نے خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر بیٹھ کر روحانی فیض حاصل کیا۔ 1307ھ میں حضرت اعلیٰ حجاز مقدس کے سفر پر روانہ ہوئے اس سے قبل آپ کی شادی پیر چراغ دین شاہ کی صاحبزادی سے ہوئی۔ یہ خاندان حجرہ شاہ مقیم سے ہجرت کرکے حسن ابدال آ بسا تھا۔
حضرت قبلہ عالم کے لاہور میں ایک قریبی دوست حافظ محمد دین صاحب تھے، انہوں نے حج پر جاتے وقت آپ کو ساتھ لیا۔ جدہ میں قیام کے دوران آپ کے علم و فضل اور زہد وتقویٰ کا بہت چرچا ہوا۔ مشہور مناظر اور عیسائیت کے خلاف ہندوستان میں جہاد کرنے والے بزرگ مولانا رحمت اللہ کیرانوی حجاز میں موجود تھے اور انہوں نے ایک مدرسہ صولتیہ قائم کر رکھا تھا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی بھی اسی مدرسہ سے منسلک تھے۔ پیر مہر علی شاہ ان دونوں بزرگوں سے ملے۔ حاجی امداد اللہ نے آپ کو سلسلہ چشتیہ صابریہ کی اسناد پیش کیں ۔
 حضرت اعلیٰ کی مکہ میں مولانا محمد غازی سے ملاقات ہوئی۔ مولانا کا تعلق اٹک سے تھا اور خٹک پٹھان تھے ۔ آئے تو تھے وہ علمی موضوعات پر بحث کرنے لیکن ان ہی کے ہو کر رہ گئے۔ وہ مکہ مکرمہ میں حدیث اور تجویدکی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ان کو مدرسہ صولتیہ میں معلم کے طور پر مقرر کر رکھا تھا لیکن حضرت قبلہ¿ عالم کی واپسی کے وقت وہ آپ کے ساتھ ہو لئے اور پھر ساری زندگی آپ کی خدمت میں گزار دی۔
    حضرت اعلیٰ ظاہری اور باطنی علوم میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ آپ علم منطق، معقولات اور مناظرہ کے بہت ماہر تھے ۔آپ کی علمی قابلیت اور قوت استدلال کے باعث آپ کی تحریرات کو ہندوستان بھر میں بہت پذیرائی حاصل تھی۔ حج کے سفر کے دوران حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے آپ کو کہا کہ وہ جلد ہندوستان جائیں جہاں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے اس کا مقابلہ کریں۔ یہ اشارہ قادیانی فتنہ کی طرف تھا جو پنجاب سے اٹھا۔
پیر سیّد مہر علی شاہ کی شخصیت کا ہر پہلو دلکش اور جاذب نظر ہے۔ آپ ظاہری اور باطنی علوم میں درجہ کمال پر فائز تھے۔ آپ نے اپنے باطنی وروحانی کمالات اور نگاہ پرفیض سے لاکھوں گمراہوں کی تقدیر بدل دی اور دشمنان دین کے مقابلے میںزندگی بھر سرگرم عمل رہے۔
قناعت پسندی: کم خوری اور کم خوراکی جو صوفیاءکی زندگی کا معمول رہا ہے، آپ ہمیشہ اس پر کاربند رہے۔ کثرتِ ریاضت و مجاہدہ، قیام اللیل اور مسلسل شب بیداریوں نے آپ کو پر مشقت زندگی کا عادی بنا دیا۔ روزہ داروں کی طرح کئی کئی دن فاقوں میں گزر جاتے۔ دنیا کی تمام نعمتیں اور آسائشیں حاصل ہونے کے باوجود آپ تھوڑی ہی چیز پر قناعت کرتے۔ جو کچھ پاس ہوتا، اسے حاجت مندوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے۔ پوری زندگی محنت، مشقت ، ریاضت ، مجاہدہ ، عبادت ، ذکر و فکر ، درس و تدریس اور یاد الہٰی میں بسر کی۔ لاہور میں دریائے راوی کے کنارے کئی کئی ماہ تک شب بیداری گزر جاتے آپ سُنتِ رسول کی پیروی میں روح اور بدن میں ربط اور تعلق قائم رکھنے کی غرض سے بقدر ضرورت غذا استعمال فرماتے۔
عاجزی ، انکساری، تواضع اوردشمن سے حسن سلوک آپ کے مزاج کا خاصہ تھا ۔دشمن کے گناہ سے نفرت تھی، اس کے وجود سے نہیں۔ آپ اپنے بدترین دشمن کا نام بھی انتہائی عزت اور احترام سے لیتے تھے اور اسے لفظ مذمت، یاصیغہ واحد غائب سے نہیں پکارتے تھے۔ آپ اپنی تحریرو تقریر میں کسی بھی مخالف کو غیر مہذب کلمات سے یاد نہ کرتے بلکہ ہمیشہ مرزا صاحب کہہ کر مخاطب ہوتے، حالانکہ انہوں نے ہمیشہ اپنی ہر تحریر اور کتاب میں حضرت قبلہ¿ عالم کو پر نفرت کلمات اور گالیاں دے کر مخاطب کیا۔ آپ کے نزدیک اصل دشمن انسان کااپنا نفس ہے اور اصل دوست اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اولیاءاللہ اور مقربین الہٰی اپنا وقت نفس پر فتح حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہونے کی کوشش میں صرف کرتے ہیں۔ آپ فرماتے دشمن ہمارے نقائص اور عیب گنواتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو ہمیں اصلاح کی کوشش کرنی چاہیئے اور اگر غلط ہوں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیئے کیو نکہ دشمن کی ایذارسانی پر صبر کرنے ہی سے اجر ملتا ہے۔
 1290ھ میں جب حضرت قبلہ عالم ہندوستان تشریف لے گئے تو ان دنوں لکھنو¿، دیوبند ، رام پور، کانپور ، علی گڑھ، دہلی اور سہارن پور میں بڑے بڑے علمی مراکز قائم تھے۔ لکھنو¿ میں مولانا عبدالحی، متوفی 1304ھ مرجع خلائق تھے۔ دیوبند مدرسہ کا افتتاح 1283ھ میں ہو چکا تھا اور مولانا محمد قاسم نانوتوی کی زیر سرپرستی یہ مدرسہ کافی ترقی کر رہا تھا۔ ان ایام میں وہاں مولوی محمد یعقوب نانوتوی خلف مولوی مملوک علی صاحب مدرس اعلیٰ تھے جو اجمیر شریف میں بھی مدرس رہ چکے تھے۔ مولوی مملوک علی موصوف ، مولوی رشید احمد گنگوھی ، مولوی ذوالفقار علی صاحب اور مولوی محمد قاسم نانوتوی صاحب وغیرہ، علماءدیوبند کے استاد تھے۔ رام پور میں مولانا فضل حق خیر آبادی کے فرزند مولانا عبدالحق ، مدرسہ عالیہ نواب صاحب کے پرنسپل تھے۔ کانپور میں مولانا احمد حسن ، مسند آرائے تدریس تھے۔ آپ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مرید خاص تھے اور اگرچہ علمائے دیوبند کو بھی حضرت حاجی (امداد اللہ مہاجر مکی) صاحب سے شرف بیعت حاصل تھا اور اس لحاظ سے وہ مولانا احمد حسن (محدث کانپوری) کے پیر بھائی تھے اور کئی عالی منصب علماآپ کے ہم درس رہ چکے تھے۔ آپ کی اس شہرت کی اس وقت تصدیق ہوئی جب مسند ارشاد پر بیٹھ کر مرجع خلائق ہوئے یا آپ کی تصانیف عالیہ کا شہرہ دنیائے علم میں بلند ہوا یا پھر قادیانی مدعی نبوت سے مقابلہ ہوا۔“ الغرض تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام بلاتفریق آپ کے علمی مرتبہ کو تسلیم کر چکے ۔
 فرقوں کے اختلافات سے آپ افسردہ رہتے تھے۔ مہر منیر میں لکھا ہے کہ ”بریلوی، دیوبندی اور دیگر اسلامی مکاتب فکر کے اختلافی مسائل پر آپ اپنا مسلک تحریر و تقریر اور تالیفات کے ذریعے برابر واضح فرماتے رہے۔ اگرچہ فروعی مسائل میں اختلاف کی بناءپر ان کی باہمی کشمکش آپ کو ناپسند رہی۔ قادیانیت کے جواب میں 25 اگست 1900ءمیں مباہلہ لاہور کے موقع پرآپ نے بریلویوں یا دیوبندیوںکی طرف سے نہیں بلکہ برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماءکی طرف سے متفقہ نمائندگی کا فریضہ سر انجام دیا۔ اس تاریخی مباہلہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و نصرت اور کامیابی بخشی اور قادیانیوں کی ذلت اور رسوائی کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ چنانچہ حق تو یہ ہے کہ آپ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث، سب کے متفقہ امام اور مقتدا تسلیم کر لئے گئے اور آپ کا یہ ایمانِ کامل آج تک پوری ملت کے اتحاد کا سرچشمہ چلا آرہاہے ۔ گولڑہ شریف میںآپ کا مزار ملک بھر سے مرجع خلائق ہے جہاں 80 ویں عرس کے موقع پر عقیدت مندوں کی حاضری کا سلسلہ جاری ہے۔