نئی کریمؐ آخری نبیؐ

علامہ منیر احمد یوسفی
عربی لغت اور محاورے کی رو سے ختم کے معانی‘ بند کرنے‘ کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے‘ آخر تک پہنچ جانے اور مہر لگانے کے ہوتے ہیں۔   خاتم القوم اخرھم ’’خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی‘‘۔ عربی زبان کی کوئی معتبر لغت اُٹھا کر دیکھ لی جائے‘ اُس میں لفظِ خاتم کی یہی تشریح ملے گی۔
 اس لحاظ سے نبی کریم رؤف ورحیمؐ سب سے آخری نبیؐ  ہیں جن کے ذریعے انبیاء ؑ کے سلسلے پر مہر لگا دی گئی ہے۔  علامہ ابنِ منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں۔ ’’وادی کے آخری کونے کو ختام الوادی کہتے ہیں قوم کے آخری آدمی کو ختام‘ خاتَم اور خاتِم کہا جاتا ہے۔ اِسی مناسبت سے حضور اکرمؐ  کو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے۔
خَاتَم خَاتِم خِتَام خَاتَام سب کا ایک ہی معنی ہے اورحضرت محمد ؐ تمام نبیوں (علیہم السلام) سے آخر میں تشریف لائے ہیں‘‘۔
اہلِ لغت کی تصریحات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ خاتم کے ت پر زبر ہو یا زیر اِس کا معنی آخری ہے۔ اِس کی تائید میں قرآنِ مجید کی سورۃ المطففین کی آیت نمبر ۶۲ سے ہوتی ہے (ترجمہ) ’’اُس کی مہر مشک پر ہے‘‘۔ یعنی ’’اہل جنت کو جو مشروب پلایا جائے گا‘‘ (وہ پیک ہو گا) اور اُس کے آخر میں اُنہیں کستوری کی خوشبو  آئے گی۔ ختم نبوت کے بارے میں نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ ’’ میری مثال اور مجھ سے پہلے اَنبیاء (علیہم السلام) کی مثال اُس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا اور اُسے نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل (مضبوط اور مزین بنایا) مگر اُس کے ایک گوشہ میں دیوار کی ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اُس عمارت کے اِردگرد پھرتے اور اُس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے کہ اِس جگہ اِینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ نبی کریم رؤف ورحیمؐ نے فرمایا کہ (قصرِ نبوت کی) وہ آخری اِینٹ میں ہوں اور میں نبیوں علیہم السلام کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں‘‘۔ ( شرح السنۃ جلد۷ ص۷۱‘ ابن کثیر جلد۳ ص۱۳۴‘ بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین)۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں‘ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’مجھے چھ باتوں میں اَبنیاء کرام ؑ پر فضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جامع کلامی کا اِعزاز عطا فرمایا گیا ہے (یعنی بات مختصر اور معانی وسیع) (۲) مجھے رُعب کے ذریعے مدد بخشی گئی ہے (۳) میرے لئے اَموالِ غنیمت حلال قرار دیئے گئے ہیں۔ (۴) میرے لئے (ساری) زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ ، یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے۔ (۵) مجھے ساری مخلوق کے لئے رسول ؐ بنا کر بھیجا گیا ہے (۶) اور مجھ پر اَنبیاء ؑکا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے‘‘۔( مسلم جلد۱ ص۹۹۱‘ مسند احمد جلد۲ ص۲۱۴‘ ا مجمع الزوائد جلد۸ ص۹۶۲)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے ،رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی‘‘۔(ترمذی جلد۲ ص۳۴‘ مسند احمد جلد۳ ص۷۶۲‘ مستدرک حاکم جلد۴ ص۳۳۴‘ درمنثور جلد۳ ص۱۲۳‘ )
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو (حضرت) عمرؓ نبی ہوتے‘‘۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓسے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول اللہؐ نے امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی ؓ کو فرمایا: ’’(اے علی ؓ تو میرے لئے بمنزل حضرت ہارون  ؑ کے ہے جیسے  وہ حضرت موسیٰ کے نزدیک تھے۔ مگر اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔(مسلم جلد۲ ص۸۷۲‘ ترمذی جلد۲ ص۴۱۲‘ ابن ماجہ ص۲۱‘ مسند احمد )۔رسول اللہؐ  نے فرمایا: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی اُمّت (یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی اُمّت) نہیں‘‘۔
قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ کے بعد تیسرے درجے میں اَہم ترین حیثیت صحابہ کرام ؓ کے اِجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی کریمؐ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا‘ اور جن لوگوں نے اُن کی نبوت تسلیم کی‘ اُن سب کے خلاف صحابہ کرام ؓ نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔اِس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسیلمہ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے۔ مسیلمہ کذاب اولین دجالوں میں سے ہے۔ یہ شخص نبیؐ کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اُس کا دعویٰ یہ تھا کہ اُسے حضور نبی کریم رؤف ورحیمؐ کے ساتھ شریک نبوت بنایا گیا ہے۔ اُس نے حضورؐ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپؐ کولکھا تھا اِس کے اَلفاظ یہ ہیں:’’مسلیمہ رسول اللہ کی طرف سے (حضرت) محمد رسول اللہ (ؐ)کی طرف آپ ؐ پر سلام ہو آپ ؐ  کو معلوم ہو کہ میں آپ ؐ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں‘‘۔ ( المعجم الکبیر للطبرانی جلد۸ ص۵۱۱۔۶۳۱‘ جلد۸ ص۸۳۱‘ ترمذی حدیث نمبر۱۱۶‘ مجمع الزوائد، کنزالعمال)۔
علاوہ ازیں مؤرخ طبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسیلمہ کے ہاں جو اَذان دی جاتی تھی اُس میں اشھد ان محمد رسول اللہ کے اَلفاظ بھی کہے جاتے تھے۔ اِس صریح اِقرارِ رسالتِ محمدیؐ کے باوجود اُسے کافر اور خارج از ملت ِ اِسلامیہ قرار دیا گیا اور اُس سے جنگ کی گئی۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنیفہ نیک نیتی کے ساتھ (in good faith) اُس پر اِیمان لائے تھے اور اُنہیں واقعی اِس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول اللہؐ نے اُس کو خود شریکِ رسالت کیا ہے۔ نیز قرآنی آیات کو اُن کے سامنے مسیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک اَیسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینہ طیبہ سے قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کر کے گیا تھا (البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد۵ص۱۵) مگر اِس کے باوجود صحابہ کرام ؓ نے اُن کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور اُن سے اِسلامی نظام کی روح ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جہاد کیا ۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہ کرام ؓنے اُن کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ  ارتداد کی بنا پر  جنگ کی تھی۔ اِسلامی قانون کی رُو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو اُن کے اسیرانِ جنگ غلام نہیںبنائے جا سکتے بلکہ مسلمان تو درکنار‘ ذمی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ لیکن مسیلمہ اور اس کے پیرو کاروں سے جب جہاد کیا گیا تو امیر المؤمنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق ؓ  کے فرمان کے مطابق اُن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا  گیا ۔اِس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے جس جُرم کی بنا پر اُن سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے حضرت محمد مصطفیٰؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اُس کی نبوت پر اِیمان لائے۔ یہ کارروائی حضور نبی کریم رؤف ورحیمؐ کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے‘ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق  ؓ کی قیادت میں ہوئی ہے‘ اور صحابہ کرام  ؓ کی پوری جماعت کے اِتفاق سے ہوئی ہے۔ ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف جھوٹے مدعیان نبوت کے مقابلے میں صحابہ کرام ؓ کا اِجماع تھا کہ رسول اللہؐ  کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر دجّال مرتد اور کذاب اور واجب القتل ہے۔ اجماعِ صحابہ کی اِس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔اِجماع صحابہ ؓ کے بعد چوتھے نمبر پر مسائلِ دین میں جس چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دَورِ صحابہ ؓ کے بعد کے علمائے اُمت کا اِجماع ہے۔ اِس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے اور پوری دُنیائے اِسلام میں ہر ملک کے علماء اِس عقیدے پر متفق ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اِس منصب کا دعویٰ کرے‘ یا اُس کو مانے‘ وہ کافر خارج از ملتِ اِسلامیہ ہے۔
 حضرت اِمام ابوحنیفہ ؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اِعلان کیا ’’مجھے موقع دو تاکہ میں اپنی نبوت کی علامت پیش کر دوں اِس پر حضرت امام ابوحنیفہ ص نے فرمایا جو شخص اِس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول اللہؐ نے فرمایا ہے: لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ’’یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے‘‘۔
قاضی عیاض ؒ(متوفی۴۴۵ھ؁ لکھتے ہیں: ’’جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے‘یا اِس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اِکتساب کر سکتا ہے اور صفائی قلب کے ذریعہ سے مرتبۂ نبوت کو پہنچ سکتا ہے،اور ایسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اِس پر وحی آتی ہے۔۔۔۔۔۔ اَیسے سب لوگ کافر اور نبیؐ  کے جھٹلانے والے ہیں۔کیونکہ آپؐ نے خبردی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں ۔آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ (شفاء جلد۲ص۰۷۲۔۱۷۲)
فتاویٰ عالمگیری‘جسے بارھویں صدی ہجری میں اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا تھا اس میں لکھا ہے: ’’اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ (حضرت) محمدؐ  آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ (تبارک وتعالیٰ) کا رسول ہوں یامیں پیغمبر ہوں تو اُس کی تکفیر کی جائے گی‘‘۔ (جلد۲ص۳۶۲)
 برصغیر پاک وہند میں  غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور وہ برصغیر میں قابض انگریز حکومت کے سائے میں پنپتا رہا اور اُسے کھل کر کام کرنے اور جھوٹی نبوت کا بے روک ٹوک چرچہ کرنے کا موقع ملتا رہا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے   کہ مسلمانوں کے دور حکومت  میں بھی ایسے فتنے پیدا  ہوتے رہے  اور  ان گروہی مفادات رکھنے والوں  نے ہمیشہ    ملت ِ  اِسلامیہ کے اتحاد کو نقصان پہنچانے  میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔