احیائے نظریہ پاکستان مہم

ارشاد احمد ارشد
ہماری قوم کلمہ طیبہ اور نظریہ پاکستان کی طاقت اور برکت کا مشاہدہ تحریک پاکستان کے ایام میں کر چکی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان کمزور تھے، بکھرے ہوئے تھے، منتشر تھے، ان میں اتحاد واتفاق کا فقدان تھا۔ اسلام دشمنوں کا مقابلہ کرنا بظاہر مسلمانوں کیلئے ممکن نہ تھا۔ اس کے باوجود بکھرے مسلمان متحد ہوئے جو کمزور تھے وہ طاقتور ہو گئے اور اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب بھی رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کلمہ طیبہ تحریک پاکستان کی بنیاد نہ بنتا تو ہندوستان کے مسلمان کبھی بھی ایک ہوتے اور نہ پاکستان قائم ہوتا۔
آزادی حاصل کرنا مشکل ضرور ہے مگر آزادی کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل تر ہے۔ ہماری قوم نے حاصل کر لی اب اصل مرحلہ آزادی کو قائم رکھنے کا ہے۔ ہماری آزادی اور خودمختاری اس صورت میں قائم اور برقرار رہ سکتی ہے کہ جب ہم نظریہ پاکستان پر عمل پیرا ہونگے۔ نظریہ پاکستان سے روگردانی کرنے سے آزادی وخودمختاری کو قائم رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ 1965ء کی جنگ میں نظریہ پاکستان توانا تھا تو پوری دنیا میں ہماری طاقت کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ ایوب خان کے ایک جملے ’’لا الہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو‘‘ نے پوری قوم کو یک دل ویک جان کر دیا تھا۔ یہ لا الہ کی برکت ہی تھی کہ اس وقت ذخیرہ اندوز سدھر گئے۔ چوروں نے چوریاں چھوڑ دیں اور پیشہ ور ڈاکو وطن کی حفاظت کیلئے کمربستہ ہو گئے۔ 1971ء میں جب ہم نے لا الہ سے روگردانی کی تو پھر دنیا نے ہماری ذلت ورسوائی کا تماشہ دیکھا۔
آج ہماری قوم اور ہمارا ملک ایک بار پھر 1947ء اور 1971ء جیسے حالات سے دوچار ہے، دشمن خطرناک ارادے لیے بیٹھا ہے۔ پاکستان کے خلاف نظریاتی وجغرافیائی یلغار ہو رہی ہے۔ دہشت گردی، تخریب کار، بم دھماکے اور خودکش حملے ہیں۔  ان خطرناک اور مشکل ترین حالات کا سامنا صرف اور صرف نظریہ پاکستان پر کاربند رہنے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ نظریہ پاکستان کا احیاء وتاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے۔ یہ تیر بہدف علاج ہے۔ قوم کو لگے گہرے اور کاری زخموں کا علاج نظریہ پاکستان کے نشتر سے ہی ممکن ہے۔
نظریہ پاکستان کی جتنی اہمیت ہے افسوس ہمارے حکمران، جرنیل، سیاسی ومذہبی رہنما اس سے اتنی ہی پہلو تہی کر رہے ہیں اور اس کی اہمیت محسوس نہیں کر رہے۔ نظریہ پاکستان ایک ہتھیار ہے… ملک دشمنوں کے خلاف لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی قوم اور اس کے نوجوانوں کو اس ہتھیار سے مسلح کریں۔
14 اگست اور 23 مارچ جیسے دن ہمیں نظریہ پاکستان کی اہمیت اور مملکت خداد پاکستان کی افادیت کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ دن ہمیں بتاتے ہیں کہ پاکستان کن مشکلات سے گزر کر حاصل کیا گیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ہر نوجوان، بچے، بوڑھے، مرد، عورت سب کو نظریہ پاکستان سے آگاہ کیا جائے۔ نظریہ پاکستان کے احیاء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے مگر افسوس حکمران ہمارے نظریہ پاکستان کو مکمل طور پر پست پشت ڈال چکے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ بھارت سمیت تمام ایسے ممالک جو نظریہ پاکستان کے دشمن ہیں ان کے ساتھ دوستی کے رشتے التواء کر رہے ہیں۔
ان حالات میں جماعت الدعوۃ لائق صد مبارک ہے کہ جس نے نظریہ پاکستان کے احیاء کی ایک باقاعدہ مہم شروع کی ہے۔ اس مقصد کی خاطر ملک بھر میں جلسے، کانفرنس اور دیگر پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں جس میں مقررین لوگوں کو نظریہ پاکستان کی اہمیت اور پاکستان کے خلاف دشمنوں کی سازش سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اس طرح کے پروگرام گائوں اور تحصیل کی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک پورے ملک میں کیے جا رہے ہیں۔ جوں جوں 23 مارچ کا دن قریب آ رہا ہے۔ پروگراموں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اہم بات ہے کہ ہر جگہ پروگراموں میں تحریک پاکستان کی ڈاکومینٹری اور 23 مارچ کے لاہور میں ہونے والے تاریخی جلسہ کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں جس سے لوگوں میں ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا ہو رہا ہے۔ ہجرت کے مناظر دیکھ کر نوجوان نسل اس بات سے آگاہ ہو رہی ہے کہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے قیام کی خاطر کتنی قربانیاں دی تھیں۔ احیائے نظریہ پاکستان کے سلسلہ میں سب سے بڑا پروگرام 23 مارچ کو لاہور مینار پاکستان کے وسیع وعریض گرائونڈ میں ہو گا۔ یاد رہے کہ یہ وہی گرائونڈ ہے جہاں وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں پاکستان قائم ہوا تھا۔ 23 مارچ کو مینار پاکستان پر ہونے والا یہ تاریخی پروگرام یقینا نظریہ پاکستان کے احیاء اور تحریک پاکستان کے جذبوں کو زندہ کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہو گا۔ اس عظیم الشان پروگرام سے جہاں محب وطن پاکستانیوں کے حوصلے بلند ونگے وہاں پاکستان دشمن ناکام ونامراد ہونگے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے دشمنوں کو استحکام پاکستان اور احیائے نظریہ پاکستان کی مہم کس طرح بھی گوارا نہیں۔ یہی حصہ ہے کہ جماعت الدعوۃ نے جیسے ہی احیائے نظریہ پاکستان کی مہم شروع کی۔ امیر جماعت الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید کے خلاف امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے پراپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔