آہ! حضرت مولانا قاری غلام رسول

زاہد علی عادل
جب دنیا مادیت و طاغوتی   فسق  و فجور  اور بے راہروی   و گمراہی  کی تاریک  ترین وادی میں سرگرداں تھی تو اس عالم  تحیّر و تاریکی  میں ’’فاران‘‘ کی چوٹی  سے  اس نے ایک دلکش  آواز، دلفریب  پیغام اور ایک نورانی قندیل  کی تابشوں  اور تابانیوں کو ملاحظہ کیا۔ وہ دلکش  آواز، عبرت آموز حکمت،  متاع روحانیت اور ایمان  و ایقان  کی روشن ترین قندیل   قرآن مقدس  تھا ۔جس نے مردہ قوموں کو احساس حیات  بخشا اور اُسے اوج ثریا پر بٹھایا۔   صحرا نشینوں نے آنکھوں  سے لگایا تو قیصر و کسریٰ  کے تاجوں   کے وارث بن گئے۔ راہزنوں  نے اپنایا تو راہبر بن گئے۔ یہ  وہی حکمت، عظمت  اور روحانیت  کا مرقع تھاجس نے اپنا تعارف یوں کرایا’’یہ کتاب ایسی ہے جو ہر شبہ  سے پاک ہے (10-2) کائنات کے محسن اعظمؐ  نے نہ صرف خود  اس  ’’پیغام الہی‘‘  کی تبلیغ فرمائی بلکہ اس کی تبلیغ و تفہیم  کیلئے اپنے صحابہ کرام کو حکم دیا پھر اس فرض کی ادائیگی کیلئے صحابہ کرامؓ    کے بعد جن عظیم  ہستیوں   نے   دن رات ایک کرکے  قرآن مجید کی تبلیغ  و تفہیم کیلئے اپنی زندگی وقف  کئے رکھی ان میںحضرت مولانا  قاری غلام رسول کا  ذکر خصوصیت کے ساتھ  آتا رہے گا۔
مولانا قاری  غلام رسول مملکت  پاکستان کا ایک  عظیم سرمایہ تھے۔  آپ علم  تجوید  قرات کے ماہر ہونے کے علاوہ زبردست عالم دین بھی تھے۔ آپ  کی تلاوت  کلام پاک  کا لہجہ  بالکل  انوکھا اور  منفرد تھا،  جب آپ  پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر تلاوت  قرآن پاک فرماتے تو  عوام و خواص  پر ایک محویت  کا عالم طاری ہو جاتا۔ 1962ء اور 1969-70ء  میں مولانا قاری غلام رسول  نے ملایا میں ہونے والے  قرات کے عالمی  مقابلوں  میں  سونے کا تمغہ  حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا۔  اللہ تعالی نے انہیں لحن دائودی عطا کر رکھا تھا۔  اس  کے علاوہ ان کی حیثیت ایک مبلغ  اسلام اور شعلہ  نوا  خطیب  کی بھی تھی  جو اللہ تعالی  اور اس کے رسول مقبولؐ  کا پیغام   اپنے شیریں  اور دل نشین  انداز میں  مسلمانوں   اور غیر مسلموں  میں  یکساں   پہنچاتے رہے۔  انہوں نے اس مقصد کیلئے  پوری دنیا کا سفر کیا اور  جہاں جہاں  گئے قرآن مجید  کی  تعلیم و تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے گئے۔ آج پوری  دنیا میں ان کے ہزاروں شاگرد  ان کی  دی ہوئی قرآن مجید  کی تعلیم کو آگے   سے آگے  منتقل  کرنے میں دن رات  مصروف  ہیں۔
سفیر قرآن،  آفتاب اہلسنت  قاری  العصر زینت القراء حضرت مولانا قاری غلام رسول کی ذات  کسی تعارف  کی محتاج  نہیں  ہے آپ کی دینی، ملی، مذہبی،  مسلکی  اور بالخصوص  قرآنی   خدمات  ملت اسلامیہ کیلئے قیمتی اثاثہ  ہیں،  آپ کی وجد آور تلاوت قرآنی  سننے والے کے دل میں   اترتی چلی جاتی اور آپ کا انداز   نعت بھی دیگر نعت خوانوں  سے مختلف تھا۔  محبت رسولؐ  میں اس  قدر ڈوب کر نعت پڑھتے  جیسے   حضورؐ  سامنے جلوہ افروز  ہیں اور سماعت  فرما رہے ہیں۔
پاکستان میں علم  تجوید و قرآت  کا اولین اور منظم  ادارہ ’’انجمن  فروغ تجوید قرات‘‘  کا  قیام بھی آپؒ  کا مرہون منت ہے  ۔اسی انجمن  کے تحت آپ نے  وہ قرآنی  خدمات  انجام دی ہیں جو وطن عزیز  سے لے کر لندن، امریکہ، برطانیہ،  متحدہ  عرب امارات و دیگر ممالک  اور خاص  کر کینیڈا  میں والقرآن کی شکل  میں  اعلی خدمات کو فروغ  دے رہی ہیں پاکستان میں  ان کی زیر نگرانی قائم کردہ  متعدد  مدرسے  قرآن  و  دین  کی خدمت   میں اپنے فرائض  انجام دے رہے ہیں۔ جن  میں  لاہور چھائونی میں جامعہ  تجوید القرآن،  نیو گارڈن  ٹائون لاہور  میں  دارلقرآن،  اسلامآ باد میں مدرسہ تجوید القرآن، سلامت  پورہ  لاہور  میں  مدرسہ تعلیم القرآن، درباری غازی  محمد اسحقٰ، انگلینڈ  میں  ادارہ صوت القرآن اور کینیڈا میں مدرسہ والقرآن شامل ہیں۔
حضرت مولانا قاری غلام رسول کی ایک طویل عرصہ  تک پاکستان ٹیلی ویژن  اور ریڈیو پاکستان  پر تلاوت  قرآن پاک  نشر ہوتی رہی اس کے علاوہ پنجاب  اسمبلی میں بھی  خصوصی طور  پر ان کو  تلاوت قرآن  پاک کیلئے  بلایا جاتا۔ ان  کو یہ شرف بھی  حاصل ہے کہ انہیں  دوسری  اسلامی سربراہی کانفرنس  کے موقع پر بھی  کانفرنس  کے اجلاس میں تلاوت  کلام پاک کا موقع نصیب ہوا۔  مولانا  قاری غلام رسول کو ان کی قرآنی خدمات  کے صلہ میں  صدارتی تمغہ   حسن کارکردگی  بھی عطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ  ان کو بے شمار اعزازات  ملے جن کی ایک طویل فہرست ہے۔ان کے ہزاروں  نہیں بلکہ لاکھوں  شاگرد  نہ صرف پورے ملک  بلکہ بیرون ِ ممالک  بھی قرآن مجید ترتیل و تجوید کے ساتھ  طلبا  کو  پڑھانے میں مصروف ہیں۔ حضرت مولانا  قاری غلام رسول اگرچہ  آج ہم میں نہیں  ہیں  لیکن ان کی آواز قرآن  کریم  کی تلاوت کی صورت  میں  ہمیشہ  گونجتی رہے گی۔