آپ ایک انصاری کے گھر تشریف لے گئے

سیدنا جابر بن عبداللہؓ  فرماتے ہیں کہ سید الاولین والآخرین حضرت محمدؐ ایک انصاری کے ہاں تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ آپ کے ایک صحابی بھی تھے۔ آپ نے انصاری سے فرمایا جو اپنے باغ کو سیراب کر رہے تھے… اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا رکھا ہوا پانی (رات کے اثر کی وجہ سے جو ٹھنڈا ہو جاتا ہے) میسر ہو تو لے آؤ اور ہمیں پلاؤ۔ ورنہ اسی پانی سے ہم دونوں ہاتھوں کا چلو بھر کر پی لیتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! آقا! پانی رات والا موجود ہے… اور میں ابھی لایا۔ یہ کہہ کر وہ برآمدے (یا چھپر) کی جانب ہمیں لے کر چل دیئے۔ وہاں سائے میں ہمیں بٹھایا پھر مشکیزے سے پانی ایک لکڑی کے پیالے میں ڈالا اور اس میں بکری کا دودو دوھا… پھر بڑی عقیدت سے حضورؐ کی خدمت میں پیش کر دیا۔
آپ نے وہ پسند فرمایا اور جی بھر کر پیا اور پھر جو صحابی ہمراہ تھے انہیں بھی اپنا بچا ہوا عطا فرمایا۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الاشربہ‘ سنن ابو داؤد) (بخاری شریف کی مشہور عربی شرح فتح الباری میں حدیث کے ذیل میں لکھا ہے کہ وہ صحابی غالباً سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے۔)
تم دونوں کو بشارت ہو!!
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ جعرانہ میں تھے (جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان میں ایک مقام ہے) میں اور حضرت بلال حبشیؓ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا…
اے محمدؐ
جو وعدہ آپ نے میرے ساتھ کیا تھا کب پورا کریں گے؟
آپ نے فرمایا: تمہیں بشارت ہو!
وہ بولا: یہ بشارت ،بشارت توآپ کئی بار مجھے کہہ چکے ہیں۔
حضورؐ کو اس پر کسی قدر ناگواری ہوئی اور آپ میری (ابو موسیٰ اشعریؓ) طرف اور سیدنا بلال حبشیؓ کی طرف متوجہ ہو کے گویا ہوئے۔ اس نے تو بشارت کو ٹھکرا دیا ہے پس تم دونوں یہ بشارت قبول کر لو۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔ پھر آپ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا آپؐ نے اس میں اپنے مبارک ہاتھ دھوئے اور چہرہ انور بھی دھویا اور اس پانی میں کلی بھی فرمائی۔
اور ہمیں مخاطب ہو کر بولے: تم اسے پی لو‘ اپنے چہروں پر کچھ مل لو اور اپنے سینے پر بھی تھوڑا سا چھڑک لو۔ پس تمہارے لئے بشارت ہے۔ ہم دونوں نے وہ پانی لیا اور جیسے آپ نے ارشاد فرمایا تھا ایسے ہی عمل کر لیا۔ (یہ سعادت و بشارت حاصل کرکے اس پانی سے اپنے من میں اجالا کر لیا اور خوش نصیبی کا سہرا اپنے سر پہ سجا کر ساری بشارتیں پا لیں۔)
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ حضورؐ کی ساری باتیں پس پردہ گھر میں سن رہی تھیں وہ ان سعادتوں کی بشارت سے محروم رہنا نہ چاہتی تھیں۔ لہٰذا) پردے کے پیچھے سے آواز دے کر کہنے لگیں اپنے پیالے سے کچھ اپنی اماں کے لئے بھی پانی بچا دینا۔ یہ سنتے ہی ان دونوں سعادت مند روحانی بیٹوں نے اس برتن میں کچھ آب سعادت بچا کر اماں جان کو پردے کے پیچھے پکڑا دیا۔ (صحیح مسلم‘ فضائل الصحابہ)
جام سعادت اور دعائے برکت
رحمت دوعالم خاتمہ الانبیاء و المرسلین حضرت محمدؐ کے ایک جانثار سیدنا عبداللہ بن بسرؓ فرماتے ہیں کہ آقائے کون و مکاں حضرت محمد مصطفیٰؐ ہمارے گھر میں ابا جان کے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے کھانا‘ کھجوریں نیز چند اور اشیاء کی ضیافت پیش کی۔ آپ نے قبول فرماتے ہوئے کھانا شروع کر دیا۔ کھانے کے بعد آپ کھجوریں تناول فرمانے لگے۔ آپ کھجور کی گٹھلی اپنی دو انگلیوں (شہادت والی اور درمیانی انگلی) سے نکالتے جاتے تھے۔
پھر آپ کے پاس پانی لایا گیا اور آپ نے وہ نوش جاں فرمایا۔ اور جو بچ گیا تھا وہ پانی اپنے ساتھ جو خوش نصیب صحابی تھے ان کو دے دیا۔ انہوں نے وہ جام سعادت نوش کر لیا۔
سیدنا عبداللہ بن بسرؓ فرماتے ہیں کہ پھر جب حضورؐ جانے لگے تو میرے والد نے آپ کے جانور کی لگام پکڑی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! ہمارے لئے دعا فرماتے جائیے! آپ نے اپنی زبان مبارک سے دعا کے یہ الفاظ ادا فرمائے…
اے اللہ!
ان کے رزق میں برکت عطا فرما!
ان کی مغفرت فرما!
ان پر اپنی رحمتیں نازل فرما!
اللھم بارک لھم فی مارزقتھم فاغفرلھم فار حمھم
(صحیح مسلم‘ کتاب الاشربہ)
آقا نے وہ مجھے عطا فرما دیا!
سیدہ ام ہانیؓ کے گھر میں حضور رحمتہ اللعالمینؐ تشریف لائے۔ آپ کے پاس پانی لایا گیا۔ آپ نے پیالے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پانی نوش جاں فرمایا۔ پھر اپنا بچا ہوا پانی آپ نے سیدہ ام ہانیؓ کو عطا فرمایا۔ فرماتی ہیں میں نے وہ لے کر خوشی خوشی پی تو لیا پھر معاً مجھے خیال آیا کہ میرا تو روزہ تھا۔ میں نے عرض کیا آقاؐ مجھ سے تو خطا ہو گئی۔
حضور نبی کریمؐ نے پوچھا وہ کیا؟ عرض کیا: آقا! میرا تو روزہ تھا مجھے خیال ہی  نہ رہا اور میں نے یہ پانی پی لیا۔ معلم کائناتؐ نے ارشاد فرمایا: کیا یہ قضا کا روزہ تھا؟ عرض کیا: جی نہیں! ویسے ہی نفلی روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: پھر کچھ حرج نہیں۔ (یعنی بھول کر کھانے پینے سے کچھ حرج نہیں ہوتا۔) (سنن ترمذی‘ کتاب الصوم)
وضو سے بچا ہوا پانی میرے حصہ میں آیا
سیدنا سائبؓ چھوٹے بچے تھے فرماتے ہیں میری خالہ مجھے دربار رسالتؐ میں لے آئیں اور التجا کی: آقا! یہ میرا بھانجا ہے اور اس کے سر اور بدن میں درد رہتا ہے۔ تو آپؐ نے میرے سر پر اپنا دست رحمت پھیرا اور میرے لئے دعائے برکت فرمائی۔
پھر آپ نے وضو فرمایا اور آپ کے وضو سے جو پانی بچ گیا تھا وہ ماء طہور میں نے خوشی خوشی پی لیا۔ بعدازاں میں نے آپؐ کی مہر نبوت دیکھی جو پیچھے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کی مانند تھی ۔(صحیح بخاری‘کتاب الوضو)
آپ نے لعاب دھن ملی کھجور انہیں چٹوائی
صدیقہ کائنات ام المومنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (ہجرت کے بعد) اہل اسلام کے گھروں میں سب سے پہلے پیدا ہونے والے سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ تھے۔ (ہجرت کے بعد کافی عرصہ تک جب مسلمانوں کے گھروں میں کوئی اولاد نہ ہوئی تو یہود نے مشہور کر دیا کہ ہم نے مسلمانوں کے ہاں بندش کر دی ہے اب ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہو گا۔ لہٰذا جب یہ پیدا ہوئے تو مسلمانوں کے ہاں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔)
پھر سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ  کو سید دوجہاںؐ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ نے ایک کھجور اپنے منہ مبارک میں چبائی پھر ان کے منہ میں چٹوا دی۔ یوں ان کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز گئی وہ آقا مبارک  کے لعاب دھن میں ملی ہوئی کھجور تھی۔
(صحیح بخاری‘ کتاب المناقب)