”اقبالؒ کے نام پر اداروں کی فعالیت

فرزانہ چودھری
farzanach95@yahoo.com

اقبال اکادمی پاکستان ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے جس کے زیر اہتمام شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال کے افکار اور حالات پر مبنی کتابیں پوری دنیا میں پہنچائی جاتی ہیں۔ اقبالیات پر لکھی گئی کتابوں کا 32 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ سر علامہ محمد اقبال کے کلام کی آڈیوز اور ویڈیوز بھی تیار کئے گئے ہیں جو نامور گلوکاروں اور صدا کاروں کی آواز میں ہیں۔ سر علامہ محمد اقبال کی شخصیت، شاعری، افکار اور نظریات کی ترویج کے لئے ”اقبال اکادمی پاکستان“ نامساعد حالات اور مشکلات کے باوجود گذشتہ کئی برسوں سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
ادارہ ”اقبال اکادمی پاکستان“ اس وقت ”ایوان اقبال“ کے چھٹے فلور پر قائم ہے۔ گذشتہ دنوں اقبال اکادمی پاکستان کے دفتر جانا ہوا تو وہاں کے حالات دیکھ کر یوں لگا جیسے یہ ادارہ زمین بوس ہونے کے لئے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ صوفوں کی پوشش پھٹی ہوئی ہے، اے سی بند پڑے ہیں، پنکھوں کی آواز سے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کانوں کے آس پاس مچھر گھوم رہے ہوں۔ شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال کی فکر اور تعلیمات کو فروغ دینے والے اس ادارے کی حالات کو اگر شاعر مشرق خود دیکھ لیتے تو یقیناََ یہ سوچتے کہ یہ وہ قوم ہے جو اپنے قومی اثاثہ اور ورثہ کی قدر دان نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سر علامہ محمد اقبال صرف اپنی فکر کی طاقت سے زندہ ہیں ورنہ ہم نے تو ان کو دفن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔
اقبال اکادمی حکومت کی نامزد کردہ ایک ایگزیکٹو باڈی کے زیر اہتمام کام کرتی ہے اس کی گورننگ باڈی میں ہر صوبے یعنی پنجاب، سندھ، بلوچستان، سرحد اور اسلام آباد سے ایک ایک رکن کو شامل کیا جاتا ہے۔ گورننگ باڈی کا سربراہ محکمہ کا وزیر ہوتا ۔ نائب صدر کا عہدہ اعزازی ہوتا ہے۔ 2010ءسے اٹھارویں ترمیم کے بعد اب یہ ادارہ انفارمیشن منسٹری کے پاس ہے۔ فرزند اقبال جسٹس (ر) ڈاکٹر محمد جاوید اقبال19سال ”اقبال اکادمی پاکستان“ کے نائب صدر ر ہے۔ ان کے دور میں اس ادارے نے علامہ اقبال کی شخصیت ، شاعری، افکار اور نظریات کی ترویج کے لئے بہت کام کیا۔ اس وقت 500 سے زائد کتابوں کے ٹائٹل شائع ہوا کرتے تھے، جبکہ آج صرف 75 کتابوں کے ٹائیٹل موجود ہیں۔ آج اقبال اکادمی پاکستان کے مالی معاملات بھی ٹھیک نہیں۔ ماضی میں کتابوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن پچاس لاکھ روپے سے زائد تھی مگر اب کتب کی تعداد میں کمی کی وجہ سے اس مد میں ہونے والی آمدن میں شدید کمی ہو گئی ہے۔ علامہ اقبال کی کتابوں کی ڈیمانڈ تو بہت ہے مگر ادارے کے پاس کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے اسے پورا کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ گذشتہ تین سالوں سے بعض وجوہات کی بنا پر پیدا ہونے والے نا مساعد حالات کے باعث رفتار کار بہت کم ہو گئی تھی۔ اس ادارے نے کوئی کتاب شائع نہیں کی ۔ شعبہ ادبیات میں کام تو برابر ہو رہا ہے۔ درجنوں کتابوں کا مسودہ تیار ہے ۔ 2012ءمیں 400 کتابوں کے لئے ڈی ڈی ڈبلیو پی نے 17 ملین منظور کئے، تاہم منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ اگر اب ان کتابوں کا پرنٹنگ کا دوبارہ تخمینہ لگایا جائے تو بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اس کی کاسٹ اچھی خاصی بڑھ گئی ہوگی۔ ”اقبال اکادمی پاکستان“ میں 60 فیصد کتابیں آﺅٹ آف سٹاک ہیں۔ بہر حال اس ادارے کے لئے ایک اچھی شنید ےہ ہے جو کہ ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ والی بات کے مترادف ہے کہ ایوان اقبال کی جانب سے ”اقبال اکادمی پاکستان“ کیسرگرمیوں کے لیے تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ تھوڑا سا تعاون شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال کی فکر اور تعلیمات کی ترویج کے لئے ایک وینٹی لیٹر کاکام دے گا۔
علامہ محمد اقبال پر ہونے والی ریسرچ کے حوالے سے 1960ءسے باقاعدگی سے جاری ہونے والا تحقیقی رسالہ ”اقبالیات“ اکتوبر 2012 سے شائع نہیں ہوا جس کی وجہ سے ایچ ای سی کی لسٹ سے باہر ہو گیا ہے۔ یہ رسالہ علامہ اقبال کی زندگی، شاعری اور فکر پر عملی تحقیق کے لئے وقف تھا اور اس میں علوم و فنون کے ان تمام شعبہ جات کا تنقیدی مطالعہ شائع ہوتا تھا جن سے علامہ اقبال کو دلچسپی تھی یہ رسالہ ہر تین ماہ کے بعد شائع ہوتا تھا۔
دنیا کے بہت ممالک کینیڈا، ڈنمارک، امریکہ، یورپ اور امریکہ کے وغیرہ میں اقبال فاﺅنڈیشنز قائم ہیں جو اقبال اکادمی پاکستان کے تعاون سے قائم کی گئی ہیں مگر اب ان ممالک میں علامہ اقبال کی کتابوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا رہی ہے۔ اقبال اکادمی کتابوں اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے بُک فیئرز میں بھی باقاعدہ حصہ نہیں لیتی۔ گذشتہ تین سالوں سے اقبال اکادمی پاکستان کی طرف سے کوئی سکالر کسی انٹر نیشنل ادبی کانفرنس اور سیمینار میں شریک نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے سر علامہ محمد اقبال کے افکار کی ترویج کا عمل بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سر علامہ محمد اقبال کی سوچ، فکر اور تعلیمات سے جتنا فائدہ غیر ملکی اٹھار رہے ہیں، ہماری نئی نسل اس سے واقف ہی نہیں ہے۔ جاپان اور امریکہ میں مینجمنٹ کورسز میں علامہ اقبال کی کتاب ریفرنس کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں۔ جن میں علامہ اقبال کی شہرہ آفاق تصنیف Reconstruction Of Religious Thought In Islam سر فہرست ہے۔
وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان کا قومی ترانہ ”از خواب گراں خیز“شاعر مشرق کی نظم ہے۔علامہ کا کلام”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا“ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کی قومی نظموں میں شامل ہے۔ جو آج بھی ان کے سکولوں میں بچے پڑھتے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر نکلسن نے علامہ کی فارسی نظم ”اسرار خودی“ کا انگریزی میں ترجمہ کیا جبکہ ہمارے سکولوں میں صبح کی کبھی پڑھی جانے والی قومی نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ بچوں کے ذہنوں سے شاےد اب مٹ چکی ہے۔ آج کے بچوں میں علامہ اقبال کی شناشائی نہیں رہی۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ اقبال اکادمی پاکستان کی جانب سے پہلی جماعت سے لے کر بی۔ اے تک علامہ اقبال کے حوالے سے بنائے گئے کورس کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل علامہ اقبال کو سمجھ لے اور گریجوایشن کرنے کے بعد ان کی سوچ اور فکر کو اپنے لئے مشعل راہ بنا سکے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کی سوانح، شاعری اور فکر کے مختلف پہلوﺅں پر کام کی حوصلہ افزائی کے لئے پاکستانی مصنّفین کو حکومت پاکستان کی طرف سے ہر سال ایک مرتبہ بہترین اردو کتاب پر نقد انعام اور تمغہ دیا جاتا ہے مگر 2011ءکے بعد یہ صدارتی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔
گذشتہ اڑھائی سال سے علامہ اقبال کی شخصیت، شاعری، افکار کی ترویج کا کام رکا ہوا ہے ،تاہم اب نظر آ رہا ہے کہ اکادمی کے ذمہ داران موجودہ ڈائریکٹر احمد جاوید کی سربراہی میں اس ادارے کے انتظامات بہتر انداز میں چلانے کے لئے اپنی مقدورکوششیں کر رہے ہیں، اور دکھائی دے رہا ہے کہ اس ادارے کے معاملات کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔ ایوان اقبال سے ملنے والا تعاون بھی انہی کاوشوں کا ثمر ہے۔ ”اقبال اکادمی پاکستان“ کے حوالے سے یہی کہیں گے۔
”پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ“
شاید کوئی ایسا حکمران آجائے جو شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری، افکار اور نظریات کی قدرومنزلت سے اچھی طرح واقف ہو اور وہ یہ سمجھے کہ ہماری نئی نسل شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی تعلیمات سے سیکھ کر ملک و قوم کی ترقی کا باعث بنے گی۔