مفکر پاکستان کے اہل خانہ کی قبریں

زاہد علی خان
e-mail:dashmna@gmail.com
شاعر مشرق، مفکر پاکستان، عاشق رسول، عظیم فلسفی شاعر، حکیم الامت علامہ سر ڈاکٹر اقبال کے والدین اور بڑی بیٹی برصغیر کے عظیم بزرگ حضرت امام علی الحق المعروف امام صاحب کے مزار سے ملحقہ قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ علامہ اقبال کے والدین اور بیٹی کی قبریں ساتھ ساتھ ہیں اور گزشتہ سال ہی کسی اقبال شناس نے تینوں کے قبروں کی تزئین و آرائش کروائی اور وہاں ٹائلیں اور جنگلا لگوایا۔ دربار حضرت امام علی الحق المعروف امام صاحب کے مغرب کی طرف سے اوپر آنے والے راستہ کے دائیں جانب علامہ اقبال کی والدہ امام بی بی کی قبر ہے اور ان کے ساتھ علامہ اقبال کے والد شیخ نورمحمد مٹی تلے سو رہے ہیں اور ساتھ ہی علامہ اقبال کی لاڈلی بیٹی معراج بی بی ابدی نیند سو رہی ہے۔
علامہ اقبال کے والد شیخ نورمحمد کی شادی ضلع سیالکوٹ کے موضع سمبڑیال میں کشمیری گھرانے میں ہوئی تھی۔ امام بی بی لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھیں لیکن وہ نماز جانتی تھیں اور نماز باقاعدگی سے ادا کرتی تھیں۔ علامہ اقبال کی والدہ امام بی بی کو سب ”بی جی“ کہتے تھے۔ امام بی بی وہ عظیم خاتون تھیں جنہوں نے اس مرد حق آگاہ کو جنم دیا جس نے اپنی جھنجھوڑ دینے والی شاعری سے امت مسلمہ کے تن مردہ میں نئی روح پھونک دی۔ مایوسیوں کے اندھیرے میں نئی روشنی دکھائی، جوانوں کو عشق و جنون کی لذت سے آشنا کیا، محکوموں کو خودی کا سبق پڑھایا اور مغربی تہذیب و فلسفہ کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود بڑی معاملہ فہم، دور اندیش اور مدبر خاتون تھیں۔ خاندان کے جھگڑوں کا خوش اسلوبی سے تصفیہ کراتی تھیں اور وہ محلہ کی خواتین میں بہت مقبول تھیں۔ امام بی بی کا انتقال 9نومبر 1914کو ہوا اور انہیں دربار امام علی الحق کے مغرب کی طرف سپرد خاک کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش بھی 9 نومبر ہے اور جب امام بی بی کا انتقال ہوا اس وقت علامہ اقبال پورے 37 برس کے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی والدہ کی موت کو اس طرح محسوس کیا جس طرح کوئی کمسن بچہ محسوس کرتا ہے۔ والدہ کے انتقال کا صدمہ علامہ اقبال نے بہت محسوس کیا اورآپ کئی روز تک دل گرفتہ رہے۔
اقبال نے اپنی والدہ کے حوالے سے مہاراجہ پرشاد کو لکھا ”آہ! انسان اپنی کمزوری کو چھپانے میں کس قدر بے بس ہے۔ بے بسی کا نام صبر رکھتا ہے اور پھر اس صبر کو اپنی ہمت و استقلال کی طرف منسوب کرتا ہے۔ مگر اس حادثہ نے میرے دل و دماغ میں ایک شدید تغیر پیدا کر دیاہے۔ میرے لئے دنیا کے معاملات میں دلچسپی لینے اور دنیا میں بڑھنے کی خواہش کرنا صرف والدہ صاحبہ کے دم سے تھا۔ اب یہ حالت ہے کہ موت کا انتظار ہے۔ دنیامیں موت سب انسانوں تک پہنچتی ہے اور کبھی کبھی انسان بھی موت تک پہنچ جاتا ہے۔ میرے قلب کی موجودہ کیفیت یہ ہے کہ وہ تو مجھ تک پہنچتی نہیں، کسی طرح میں اس تک پہنچ جاو¿ں“۔
علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد 1837میں پیدا ہوئے۔ ان کے دوست پیار سے نتھو بلاتے تھے وہ پیشہ کے لحاظ سے درزی تھے اور کشمیری شال اور ٹوپیاں بنا کر فروخت کرتے تھے۔ سلائی کے بہترین کا ریگر تھے شال اور ٹوپیوں کے لئے استعمال ہونے والا سامان بھی کشمیر سے منگواتے اس لئے ان کی تیار کی گئی شال اور ٹوپیاں دیرپا استعمال میں آتیں۔ آپ تلاوت کریم گھر پر اونچی آواز میں کرتے تو اکثر لوگ آپ کی آواز گھر کے باہر رک کر سنتے تھے ان میں بیشتر ایسے لوگ بھی تھے جو مسلمان تو تھے مگر قرآن پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ مستفید ہوتے۔ شیخ نورمحمد نے علامہ اقبال کی شخصیت پر بہت اثر ڈالا تھا۔ شیخ نورمحمد 93 بہاریں دیکھ کر 1930ءمیں انتقال کر گئے۔ شیخ نورمحمد کو ان کی اہلیہ امام بی بی کی قبر کے ساتھ والی جگہ پر دفن کیا گیا تھا۔
شیخ نورمحمد کے ساتھ علامہ اقبال کی بیٹی معراج بی بی دفن ہیں۔ معراج بی بی علامہ اقبال کی پہلی بیوی کریم بی بی جن کا تعلق گجرات سے تھا کے بطن سے 1897کو پیدا ہوئی تھیں۔ معراج بی بی اٹھارہ سال کی عمر پاکر 17اکتوبر 1915کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی۔