علامہ اقبال اور سماجی تعمیر نو

ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

ykc225@gmail.com

ڈاکٹر نکلسن کے نام 24 جنوری 1921ءکے خط میں علامہ اقبال نے لکھا کہ میری شاعری اور ساری جستجو کا مقصد یہ ہے کہ ’عالمی سما جی تشکیل نو‘ کی جائے اور میں نے اپنی شاعری میں اسلام کی اقدار و تعلیمات کو پیش نظر رکھا ہے ۔کیوںکہ عقلاً یہ بات محال ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام کو نظر انداز کر دیا جائے جس کا واحد مقصد ذات پات، مرتبہ درجہ، رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔ اقبال نے یہ خط نکلسن کو اس وقت لکھا جب نکلسن کے اسرار خودی کے انگریزی ترجمہ کے انگلستان میں مقبول ہونے کے بعد وہاں اقبال کے بنیادی تصورات کے بارے میں کئی مغالطے بھی پیدا ہونے شروع ہوئے۔ مثلاً دی ایتھینیم میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں علامہ ا ور نطشے کے خیالات اور ان کے انسان کامل اور نطشے کے فوق البشر کے تصور میں مماثلت و مشابہت تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اقبال نے اس خط میں اس کی تردید کی کہ انہوں نے اپنا انسان کامل کا تصور نطشے کے زیر اثر تشکیل دیا ہے۔ اقبال نے اس خط میں بڑے واضح طور پر لکھا کہ ان کا فکر و فلسفہ قرآن حکیم اور مسلمان صوفیاءکے افکار و مشاہدات سے ماخوذ ہے۔
ہم آج سماجی سطح پر انتشار و افتراق کا شکار ہیں۔ اس انتشار کے اثرات ہماری فکری و سماجی زندگی دونوں پر ہیں۔ دین کی بنیادی تعلیمات کی تعبیر میں غلطی کی وجہ سے ہماری کوششیں اجتماعی سطح پر تعمیر کی بجائے تخریب میں صرف ہو رہی ہیں۔ دنیا جس جنگ و جدل کے ماحول سے دو چار ہے ہر صاحب فکر اس کے خاتمے کی تمنا کرتا ہے۔ علامہ نے یکم جنوری 1938ءکو نئے سال کے پیغام میں فرمایا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ معاہدے، لیگیں، پنچایتیں اور کانفرنسیں دنیا کو جنگ و جدل اور خون ریزیوں سے نجات نہیں دے سکتیں ۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان لیگوں اور کانفرسوں اور معاہدوں کے ذریعے سے طاقت ور قومیں کمزور قوموں کو اپنے ظلم و ستم کا شکار بنانے کے لیے زیادہ پُرامن وسائل اختیار کر لےں گی۔ ضرب کلیم کی ایک نظم میں علامہ نے مجلس اقوام متحدہ جیسے اداروں کے با رے میں انہی خیالات کا اظہار کیا:اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم
مکے نے دیا خاک جنےوا کو یہ پیغام
جمعےت اقوام کہ جمعیت آدم!
یعنی انسانیت کی نجات جمعیت اقوام میں نہیں بلکہ جمعیت آدم میں ہے۔ اس کے لیے ان کی آرزو رہی:طہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ¿ ارض کی تقدیر بدل جائے!
ایک ایسا شخص ہی اقبال کا مرد کامل ہے۔ اور اس مرد کامل کی نمود ایک ایسے معاشرتی نظام سے ہو سکتی ہے جو اپنے مزاج کے لحاظ سے آفاقی ہو اور انسانی ضمیر کو اپنا مخاطب بنانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ معاشرتی نظام اسلام ہے۔ کیونکہ انسانیت کے عالمگیر نصب العین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رنگ و نسل کا عقیدہ ہے اور اسلام اس عقیدے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اگر مسلم دنیا عالمگیر اخوت کے نصب العین کو نظر انداز کر کے نسل، علاقے، جغرافیائی حدود اور قومیت کے عقیدے کو اپنا لے گی تو وہ ایک ابلیسی اور گمراہ کن عقیدے کو اپنائے گی ۔ اقبال نے مسلمانوں کے اس عالمگیر نصب العین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ انسانیت کی فلاح ان انجمنوں، عہدناموں اور لیگوں میں نہیں جو اس نے دنیا میں پیام امن کے لیے قائم کر رکھی ہیں بلکہ انسانی فلاح تمام انسانوں کی مساوات اور حقیقی حریت میں ہے جبکہ جدید جمہوری افکار اور نظام اس سے عاری ہیں:
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
روزنامہ احسان لاہور میں 9 مارچ 1938ءکو شائع ہونے والے مضمون ”اسلام اور قومیت“ میں لکھا کہ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نوع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ اسلام کے دستور کو قوم اور نسل پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا نہ ہی ہم اسے نجی و ذاتی معاملہ قرار دے سکتے ہیں بلکہ اس کو کلیتاً معتقدات پر مبنی قرار دیا جائے گا۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جو عالم انسانیت کی جذباتی زندگی اور اس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ اس سے الگ رہ کر جو راہ اختیار کی جائے گی وہ لادینی ہو گی اور شرف انسانیت کے خلاف ہو گی۔ اس کی وضاحت میں علامہ نے لکھا کہ نبوت محمدیہ کا آخری مقصد اور نصب العین یہ ہے کہ ایک ایسا انسانی معاشرتی نظام قائم کیا جائے جس کی تشکیل حضور اکرم کے عطا کردہ قانون الہٰی کے تابع ہو۔ یعنی تمام بنی نوع انسان کی اقوام بے شک اپنے نسلی، علاقائی اور رنگ و زبان کے اختلافات کو تسلیم کریں مگر اس کے باوجود وہ ان کی محدود وابستگی سے آلودہ نہ ہوں جو زمانہ، علاقہ، وطن، قوم ،نسل اور نسب وغیرہ سے موسوم کیے جاتے ہیں۔ اس نصب العین تک انسانیت خود تو شاید صدیوں تک بھی نہ پہنچ سکتی مگر یہ مقام محمدی ہے کہ آپ نے انسانیت کواس کے قبائلی و نسلی اور رنگ و زبان کے امتیازات کے باوجود صرف تیرہ سال میں یک رنگ کرنے کا کام انجام دیا۔ علامہ نے اسلام کی اس بنیادی تعلیم کو نظر انداز کرنے کے عمل کو ملت اسلامیہ کے لیے تباہ کن اور خطرناک قرار دیا۔ آپ نے لکھا کہ جس طرح قادیانی نظریہ ایک جدید نبوت کی اختراع سے ملت اسلامیہ کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کی انتہا نبوت محمدیہ کے کامل و اکمل ہونے کا انکار ہے۔ اسی طرح اسلام کے عالمگیر انسانی نصب العین سے انحراف اور محدودوابستگیوں کا نظریہ بھی امت مسلمہ کی بنیادی سیاست اور شناخت کے کامل ہونے سے انکار کی راہ کھولتا ہے۔ یعنی وہ ہمیں ان مقاصد سے منحرف کرتا ہے جو اسلام کے آخری دین ہونے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فکر اقبال ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم عالمگیر اخوت کے قیام کی جدوجہد کرتے ہوئے انسانیت کو باہمی افتراق، عدم برداشت اور انتہا پسندی کے ماحول سے نجات دلائیں :ہوس نے کر دیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا ، محبت کی زباں ہو جا