اقبال کا تصور وطن -----حب الوطنی وطن پرستی تقلید و تنسیخ روایت اور توفیق و توثیق حقیقت

پروفیسر ڈاکٹر محمد افضال مالیر کوٹلوی


علامہ اقبال نے کیمرج یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وطنیت کے جس تصور کو پنپتے دیکھا ،ہندستان واپسی کے بعد اس حوالے سے ان کی سوچ میں واضح تبدیلی پیدا ہوئی اور ان کے دل ودماغ میں ایک حقیقی تصور وطنیت نے شرف قبولیت پایا ۔ جسے پھر انہوں نے اپنے کلام کا موضوع بھی بنایااور ان کی اس فکر سے خاص و عام کو آگہی حاصل ہوئی۔ علامہ اقبال کا تصور وطن، دو اہم زاوئیے رکھتا ہے۔ ”بانگ درا“ کے حصہ اول میں 1905ءتک وطنیت کے موضوع پر ان کی کل دو نظمیں -1 ترانہ ہندی -2 ہندوستانی بچوں کا قومی گیت شامل ہیں ۔ موخر الاذکر میں ٹیپ کا مصرعہ علامہ کے اس دور کے وطنی تصور کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ جبکہ اول الذکر میں وہ اس محدود تصور وطن کے لئے مذہبی رواداری کے جذبات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
”مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا“ ہندی ہیں ہم! وطن ہے ہندوستان ہمارا!
1905ء کے عرصے میں علامہ نے اپنے کلام کے ذریعے ، اسی سیاسی تصور کو جو کہ پہلے سے محدود وجامد صورت میں موجود چلا آ رہا تھا، اپنے تصور وطن کی اساس بنایا۔ یہ روایتی تصور وطن دراصل علامہ نے دوسرے شعراءو مفکرین کے روایتی تصور میںبہتے ہوئے ، بلاتدبر، عصری قبولیت کے تحت اختیار کیا تھا۔علامہ نے ہنگامہ ہائے اصنام آذری کے درمیان صدائے ابراہیمیؑ کی مانند، ابھی آواز بلند کرنا تھی۔ ادھر گویا وطن پرستی کی مکدر فضاﺅں سے لبریز دور حاضر کو خود بھی صنم کدہ جہاں کی پاکیزگی و طہارت کے کار عظیم کے لئے اپنے براہیمؑ کی شدت سے تلاش تھی۔
”یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لاالہ الا اللہ،،
1905ء میں علامہ اقبال سفر انگلستان پر روانہ ہوئے تو یہ محدود وطنی تصور بھی ان کے ساتھ ساتھ گیا۔ لندن کی شمالی سرحد سے پچاس میل کے فاصلے پر واقع مشہور زمانہ دانش گاہ کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینٹی کالج میں باقاعدہ داخلہ حاصل کر کے علامہ اپنے استاد پروفیسرڈاکٹر آرنلڈ کے مشورے پر معروف ہیلیگیلین پروفیسر میک ٹیگرٹ کے زیر رہنمائی فلسفہ پڑھنے میں محو ہو گئے۔ علاوہ ازیں اقبال نے مڈل ٹیمپل لندن میں بیرسٹری میں بھی داخلہ لے رکھا تھا۔ کالج مذکورہ سے قریباً پچاس میل کا فاصلہ طے کر کے جب اقبال اس سکول میں پڑھنے کے لئے لندن آتے تو اپنے سب سے پیارے استاذ سر تھامس آرنلڈ کے گھر قیام کرتے جہاں ان کی پروفسیر آرنڈ کے ساتھ نہایت اعلیٰ علمی گفتگوئیں ہوتیں۔ آرنلڈ موصوف ان دنوں لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے۔ یہ ہی وہ سنہری موقع تھا جب آرنلڈ چھ ماہ کے لئے رخصت پر گئے تو اقبال کو اپنی جگہ عربی پروفیسر کی تدریسی خدمات سونپ گئے اور یوں اقبال کو پڑھنے کے علاوہ یورپ میں پڑھانے کا بھی موقع ملا۔
قیام یورپ ہی کے دوران اقبال نے لندن کے مختلف اداروں میںمختلف موضوعات کے حوالے سے چھ لیکچرز بھی دئیے تھے۔ ادھر، کیمبرج کے بعد میونخ اور ہائیڈل برگ میں اقبال نے برگساں ، گوئٹے اور فریڈرک نطشے و غیرہ کا گہرا مطالعہ کیا۔ علامہ اقبال خود اپنے الفاظ میں نہایت واشگاف اسلوب کے ساتھ بجا طور پر فرماتے ہیں
”میں وطنیت کا سخت مخالف ہوں نہ صرف اس لئے کہ اگر یہ نظریہ ہندوستان میں عام ہوا تو اس سے مسلمانوںکو زیادہ نقصان پہنچے گا، بلکہ میری مخالفت کا سبب یہ ہے کہ مجھے اس میں دیرینہ مادہ پرستی کے جراثیم نظر آتے ہیں، جسے میں انسانیت کے حق میں عظیم ترین خطرہ سمجھتا ہوں حب الوطنی بہرحال ایک خوبی ہے اور انسان کی اخلاقی زندگی میں اس کا ایک مقام ہے۔یورپ کے قیام میں مغربی اور مشرقی عالموں، استاذوں اور فلسفیوں سے بلاواسطہ اور بالواسطہ کسب فیض کے علاوہ، انگریزی کے بڑے شعراء(جن میں سے بعض کے کلام کا منظوم ترجمہ، علامہ ہندوستان میں قبل سفر ہی کر چکے تھے) سے بھی انہوں نے اس ضمن میں خاصہ اثر قبول کیا ہے۔ قیام یورپ سے قبل اور اس قیام کے دوران کے کلام اقبال میں واضح اور نمایاں فرق و امتیاز اس امر میں اہم دلیل ہے۔ ابتدائی دور کے کلام میں ولیم اور ڈزبرتھ کا اثر ہے۔ جبکہ شیکسپئر کی مدح سرائی کے علاوہ ملٹن کو بوجہ فردوس گم گشتہ اقبال نے کافی پسند کیا ہے اور اس کا بے حد اثر بھی لیا ۔ جس نے اقبال کے دل میں ملٹن سے بڑا شاعر ہونے اور خاص کر پیراڈائرلوسٹ سے بھی عمدہ و اعلیٰ ، زندہ جاوید تخلیق کی خواہش کو جلا بخشی ہے۔ جس کا تذکرہ اقبال نے خود اپنے ایک خط میں مرقوم 1902ءمیں بھی کیا ہے۔
اقبال نے اپنے روایتی تصور وطنیت کی تنسیخ کی بنیادوں میں اگرچہ قیام یورپ کے دوران کے مطالعات و مشاہدات اور کلام شعرائے انگلینڈ سے اثر پذیری کا کام لیا ہے لیکن یہ محض آٹے میں نمک کہئے، کہ وطنیت کا تصور حقیقی اور فلسفہ درست و دائمی ، اقبال کو قرآن و سنت ہی سے عطا ہوتا ہے، جو کہ اللہ رب العزت کی طرف سے اقبال کیلئے یکے از عظیم ترین انعامات ہے۔ حضرت سید ابوالحسن علی ندوی المعروف بہ علی میاں صاحب نے بجا لکھا ہے کہ ”اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب (قرآن مجید) جس قدر اثر انداز ہوئی ہے اتنا نہ وہ کسی شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں او نہ کسی کتاب نے ان پر اثر ڈالا ہے۔ (اقبال کی تخلیقی شخصیت : سید ابوالحسن علی ندوی )(شمولہ: ماہنامہ ”تہذیب الاخلاق ”لاہور شمارہ جلد اپریل 1988)
سید ابوالحسن علی ندوی نے علامہ اقبال کے اس داخلی ادارے مدرسے کی اور اس کے کسب فیض کی صورتحال بجا طور پر یوں بیان کی ہے۔
وہ ایک ایسا ادارہ ہے کہ جس نے اس میں تعلیم و تربیت حاصل کی اس کی ناکامی کا کوئی سوال نہیں ، جو وہاں سے نکلا وہ ضائع نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک ایسا ادارہ ہے کہ جہاں سے صرف آئمہ فن ، مجتہدین فکر، قائدین فکر و اصلاح، اور مجلہ دین امتناہی پیدا ہوتے ہیں وہ جو کچھ لکھتے ہیں اس کے سمجھنے میں عام مدارس اور یونیورسٹیوں کے طلباءو اساتذہ مشغول رہتے ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی چیزیں درس کے طور پر پڑھی پڑھائی جاتی ہیں۔
وہ تخلیقی عناصر جنہوں نے اقبال کی شخصیت کو بنایا بڑھایا اور پروان چڑھایا، وہ دراصل اقبال کو اپنے داخلی مدرسے میں حاصل ہوئے:۔
درحقیقت اقبال نے روایتی و محدود تصور وطنیت کو محض بے سوچے سمجھے اختیار کیا تھا۔ یہ دراصل تصور وطنیت کے نظرئیے کی بجائے جذبہ حب الوطنی پر مبنی تھا۔ یہ زمانہ، فکر اقبال کے لئے خام مواد Raw material فراہم کرنے کا خام دور تھا۔ جس میں ابھی اقبال کا فکر و فلسفہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ اقبال نے دینوی مکتب ، مدرسہ، سکول ، کالج اور یونیورسٹی ایسے تعلیمی اداروں سے تعلیم و تعلم اور مطالعہ و مشاہدہ سے کسب کیا اور خوب کیا۔ جبکہ مطالعہ قرآن و احادیث اور اسوہ حسنہ کی پیروی حقیقی نے اقبال کو ان کے اپنے دل کے مدرسے اور ادارے سے عظیم کسب فیض کرایا اور فیض پہنچایا جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول علم و فضل اور ورود حق و صداقت اقبال کا حسین و جمیل مقدر ہوا۔
چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا