اقبال نوجوانوں سے کیا چاہتے تھے؟

چ۔ و۔ افضل

سکول کے زمانے میں رٹے لگائے ہوئے علامہ اقبال کے اشعار کی سمجھ عموماً کافی عرصہ بعد آتی ہے۔ کچھ تو معلم بھی علامہ اقبال کے اشعار کے ساتھ صحیح انصاف نہیں کر پاتے اور طالب علم بھی بس امتحانات میں کامیابی کے لحاظ سے ہی اقبال کے اشعار کو لیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی روح کو سمجھنے کی کوشش کر لیں تو امتحانات کی کامیابی ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جائے گی ان کا زندگی میں کامیابی کا سفر شروع ہو جائے گا۔میں جب اقبال کے اشعار کو پڑھتا ہوں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میں خود کو ”جاوید“ سمجھتا ہوں۔ میں کیوں نہ خود کو جاویداقبال سمجھوں؟ جبکہ حضرت اقبال کے یہ شعر میرے سامنے ہیں :

تیرے صوفے ہیں افرنگی ،تیرے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
اور
جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پَر دے
ان اشعار میں آپ "آہ" اور "لہومجھ کو رُلاتی" جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن میں ایک باپ کی سوچ اور دکھ واضح نظر آتا ہے ایک شفیق باپ ہی اپنے بچوں کو ایسے نصیحت کرتا ہے جیسے حضرت اقبال کرتے ہیں۔ تو پھر میں کیوں نہ خود "جاوید اقبال" بن کر اقبال کے اشعار کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کروں۔ درج بالا اشعار میں بھی اقبال نوجوانوں کی دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے زور بازو پہ انحصار کرنے کی تلقین کرتے ہیں اقبال نوجوانوں کی تن آسانی اور عیش وعشرت پر رنجیدہ تھے۔ اقبال مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے نوجوانوں کو بچانا چاہتے تھے۔ جس نے اس زمانے میں ہی نوجوانوں کی نظروں کو خیرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت وہ تہذیب جس طرح ہم میں سرایت کر چکی ہے اس کا اندازہ آپ نے بہت پہلے کر کے نوجوانوں کو اس سے بچانے کی کوشش کی۔ اقبال نے نوجوانوں میں خودی کے حوالے سے بہت کچھ لکھا۔ اقبال نوجوانوں سے یہی چاہتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو پہچان جان جائیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جز ہیں اور اپنی قابلیت کا درست استعمال کریں۔ علامہ اقبال کے یہاں ناامیدی ، محرومی، مایوسی، بزدلی اور کم ہمتی وغیرہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی بلکہ یقین محکم، عمل پیہم، بلند حوصلگی اولوالعزمی، ثابت قدمی اور بلند پروازی کا تصور انکے دماغ میں موجزن تھا۔ اور یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اس کی منزل مقصود تک پہنچاتی ہیں۔ اقبال چاہتے تھے کہ قوم کے نوجوان آگے بڑھیں اس لیے کہ ان سے قوم کی ترقی وابستہ ہے۔ لیکن آج اگر کوئی آگے بڑھنے کی لگن رکھتا ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس میں قوم کا مفاد ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے سامنے حریف کو بڑھتا نہیں دیکھ سکتا اور اسے نیچا دکھانے کے لیے وہ ہرممکن کوشش کرنا چاہتا ہے۔ علامہ اقبال نے نوجوانوں اور نئی نسل کو پیغام دینے کے لیے جن ذرائع یا یوں کہیے جن استعارات کا استعمال کیا ہے ان میں ایک سب سے اہم ذریعہ شاہین کا استعارہ ہے شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جس میں بلند پروازی، دور اندیشی اور خودداری جیسی صفات پائی جاتی ہیں۔ علامہ اقبال یہی سا ری خصوصیات نوجوانوں میں چاہتے تھے :
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
علامہ اقبال کے تصور کے مطابق وہی نئی نسل اور نوجوان کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں جو اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں۔

گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اقبال نوجوانوں کو انکا درخشاں ماضی یاد دلاتے ہوئے مستقبل کو اس سے بھی زیادہ بہتر کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن ماضی کی ہی خوبصورت یادوں میں کھوئے ہونے پر "جواب شکوہ" میں تنقید بھی کی ہے :
تھے وہ آباءتمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
اقبال آج کے نوجوان سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ان کی دور اندیشی اور حکمت سے بھرپور نصیحت آمیز شاعری سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو تابناک اور روشن بنا ئیں۔ اقبال کے پیغام کو نوجوان نسل تک احسن طریقے سے پہنچانے کی اشد ضرورت ہے تعلیمی نصاب میں زیادہ سے زیادہ اقبال کا کلام نہ صرف شامل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ نوجوانوں میں اس کلام کے اصل مفہوم کو پہنچانے کے لیے بھی اقبالیات کے ماہر اساتذہ کی ضرورت ہے۔