موبائل مساجد ‘بڑھتا ہوا اسلامی رحجان

سہیل احمد اعظمیٰ
 سوویت یونین کے خاتمے اور کئی مسلم ریاستیں وجود میں آنے کے بعد اب اللہ کے فضل سے مسلمان دوبارہ  اپنی ز ندگیوں کا رخ اسوہ حسنہ کی طرف پھیر رہے ہیں۔ نو آباد ملک چیچنیا میں حال ہی میں حضورؐ کا پیالہ عوام الناس کے دیدار کے لئے لایا گیا تو اس کے دیدار کے لئے پورا ملک اُمڈ آیا۔ لوگوں کے جذبات اور اپنے نبیؐ سے محبت قابل دیدنی تھی۔ دارلحکومت ماسکو میں ہم نے سڑکوں کے اوپر لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو عید، بقر عید، جمعہ کی نماز پڑھنے کے مناظر انٹرنیٹ اور اخبارات کے ذریعے دیکھے ہیں۔ عرب ویب سائٹ کے مطابق مسلمانوں کو مذہبی تہواروں اور عبادتوں میں سہولت فراہم کرنے والی تنظیم اسلامی فائونڈیشن موبائل مساجد کے منصوبے پر کام کر رہی ہے ۔ ایک  انجینئر نے موبائل مساجد کو اس طرح ڈیزائین کیا ہے کہ کنٹینر کو  مساجد کی شکل دی  گئی ہے جس  میں ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس مسجد میں قرآن پاک کے نسخے ، اور دیگر کتابیں اور سٹیج بھی موجود ہوگا  جہاں سے  اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈا کا مؤثر جواب دیا جا سکے گا۔ یورپی میڈیا اور دیگر ملکوں خصوصاً ہندوستان ، افریقہ، روس وغیرہ  میں اسلام کے بارے میں بد گمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی  ہے ۔ یہاں جتنی رکاوٹیں مسلمانوں اور انکی عبادت کے   خلاف میڈیا کے ذریعے کھڑای کی جا رہی ہیں وہ الٹا انہی کے مادر پدر آزاد سسٹم اور معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ سکارف، برقعہ، داڑھی پر پابندی کے اثرات اسلام  کی حقانیت کا مؤجب بن رہے ہیں جہاں ایک طرف اسلام کی طرف مائل لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں خود مسلمانوں کے اندر بھی اسوہ حسنہ پر چلنے کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
امریکی اداریے (Peo) کے مطابق  2020 ء تک برطانیہ کا نمایاں مذہب اسلام ہوگا ، جرمنی کی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 2050 ء تک وہ مسلم اکثریت کا ملک ہوگا  اور  امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یورپ بھر میں اس وقت 52 ملین مسلمان آباد ہیں۔ جبکہ  11 ستمبر کے واقعے اور اب گستاخانہ خاکوں کی  اشاعت  کے بعد سے اسلام میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں نا صرف مسلمانوں بلکہ ہر مذہب کے پیروکاروں کیلئے مستقل رہنمائی موجود ہے۔ بچے کا ماں کے رحم میں نطفہ ٹھہرنے، پیدائش سے لے کر قبر میں دفنانے تک کیا ہونا ہے اور کیا طریقہ اختیار کرنا ہے ہر چیز ہمارے نبیؐ نے بتا دی ۔ جس سے آج 1500 سال گزرنے کے بعد اسلام مخالف سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد صحیح اور سچ ثابت کیا ہے۔ قرآن پاک میں جو  کچھ بتایا گیا ہے وہ ہمارا ایمان ہے کہ حرف بہ حرف سچ ہے۔ اب جو غیر مسلم قرآن کا مطالعہ اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈا کے بعد کر رہے ہیں وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے ان کے دل میں اللہ واحدہ لاشریک اور آخری نبیؐ کی حقانیت گھر کر جاتی ہے۔ جس کے بعد لوگ تیزی سے اسلام کے طرف مائل ہو رہے ہیں۔ آج یورپ اور دیگر ممالک میں  ایسی مثالیں موجود ہیں، غیر مسلموں نے خود قرآن  پاک کا  مطالعہ کر کے قبول اسلام کیا  ہے ۔ نو مسلم بھی اپنے ملکوں میں اسلام کا پیغام پھیلانے  میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ نو مسلم دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری خود مسلمانوں سے بھی زیادہ مؤثر اور بہتر انداز میں سرانجام دے رہے ہیں ۔ چنانچہ   مسلمان آج اگر خود قرآن کا مطالعہ کریں اس پر عمل کریں تو نہ صرف ہمارے ملک میں امن اور خوشحالی آئے گی بلکہ پوری دنیا کے لوگ مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق اور طرز عمل سے متاثر ہو کر مستفید ہوں گے۔