فتنہ دجال

مولانا قاری ظفر اقبال
ان دوآیات سے معلوم ہوتا ہے(الف)یہودی لوگ حضرت عیسیٰؑ کو قتل کرنے یاسولی پر چڑھانے کی سازش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
(ب)یہودیوں کو مغالطہ لگا اور انہوں نے اس شخص کو عیسیٰؑ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا جو ان کے مشابہہ ہو گیا تھا۔
(ج)حضرت عیسی علیہ السلام کا قتل نہ ہونا یقینی بات ہے،اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
(د)اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور قدرتِ کاملہ کے ذریعے انہیں آسمانوں پر اُٹھا لیا۔
ان چاروں نکات پر ایک مرتبہ پھر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت عیسیؑ حیات ہیں، کیونکہ جب وہ قتل ہوئے اور نہ ہی سولی پر چڑھائے جا سکے ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فوت نہیں ہوئے، اور جب اللہ نے انہیں آسمانوں پر اُٹھا لیا۔ چنانچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی تک اسی دنیوی زندگی کے ساتھ زندہ اور حیات ہیں، اب اگر کوئی آدمی یوں کہے کہ ’’اللہ نے انہیں اُٹھا لیا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے انہیں رفعت عطا فرما دی تو اس سے ہمارے دعوے پر کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ آسمانوں پر زندہ اُٹھا لینا بھی تو مرتبے کی رفعت اور بلندی ہی ہے، ہاں! اگر کوئی آدمی یوں کہے کہ ’’رفعت‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو بلند مرتبہ اور رفعت عطا فرمائی یا ان کی روح کو آسمانوں پر اُٹھا لیا تو ہم بصد ادب یہ پوچھنے کی جرأت کریں گے کہ پھر اس میں حضرت عیسیٰؑ کی کیا خصوصیت ہے؟ تمام مؤمنین کی روحیں آسمان پر اُٹھائی جاتی ہیں، کیا یہ وہی بات نہیں ہے جو معراج کے حوالے سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی ؐ کی معراج جسمانی نہیں، بلکہ صرف روحانی تھی؟ جب اللہ تعالیٰ اتنے اہتمام کے ساتھ فرما رہا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اُٹھا لیا تو اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ اللہ نے انہیں ان کے جسم اور روح کے ساتھ اُٹھالیا؟ پھر جب اللہ نے اپنی عزت اور حکمت کا ذکر کیا تو یقین کر لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو اپنی قدرت سے آسمانوں پر اُٹھا لیا ہے اور وہ وہاں زندہ موجود ہیں۔ آسمان کے اوپر ان کی زندگی کیسی ہے؟ ان کے کھانے پینے کے معاملات کس طرح چل رہے ہیں؟ وہ کتنے بوڑھے ہو چکے ہیں؟ وغیرہ تمام سوالوں کے جواب اللہ تعالیٰ نے صرف ایک لفظ ’’حکیما‘‘ میں دے دیئے ہیں کہ یہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق چل رہے ہیں اور اس کی حکمت کائنات کے ذرے ذرے میں کارفرما ہے۔
نیز اس آیت کی تفسیر میں پہلی صدی سے لیکر آج تک کے تمام مستند مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر زندہ اُٹھا لیا گیا ہے اور وہی قربِ قیامت میں آسمان سے نزولِ اجلال فرمائیں گے، اور سوائے فلاسفہ اور زنادقہ کے کوئی قابل ذکر شخص اس کا منکر نہیں، اسی طرح کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھایا گیایا وہ صلیبی زخموں سے شفایاب ہونے کے بعد کشمیر چلے گئے اور وہاں تہتر برس بعد ان کی وفات ہوئی۔ یہ بات کوئی ایسا مخبوط الحواس شخص ہی کہہ سکتا ہے جسے قرآن و حدیث کے واضح ارشادات بھی ہضم نہ ہوتے ہوں۔
نزولِ حضرت عیسی علیہ السلام
حضرت عیسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے جب آسمانوں پر زندہ اُٹھایا تو اس نے اپنے علم ازلی میں یہ بات پہلے ہی طے کر رکھی تھی کہ وہ انہیں دوبارہ زمین پر بھیجے گا چنانچہ نبیؐ کے فرامین کے ذریعے دنیا میں ان کے نزول اور دوبارہ تشریف آوری کے حالات نہایت تفصیل کے ساتھ بیان فرما دئیے، مثلاً یہ کہ ان کا قد درمیانہ ہو گا رنگت سرخ و سفید ہو گی، نزول کے وقت انہوں نے ہلکے زرد رنگ کی دو چادریں زیب تن کر رکھی ہوں گی۔ ان کے سر سے پانی کے قطرے موتیوں کی طرح ٹپک رہے ہوں گے، یوں محسوس ہو گا کہ گویا وہ ابھی ابھی غسل کر کے آ رہے ہیں، یہاں علماء نے ایک نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت عیسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اُٹھایا تب بھی انہوں نے غسل کیا ہوا تھا، اور ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی یہی کیفیت ہو گی ، گویا حضرت عیسیٰؑ کے رفع اور نزول میں اتنا وقت بھی نہیں لگا کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکنا بند ہو جاتے اور ان کا جسم خشک ہو جاتا ۔بھلا اتنی سی دیر میں ان کی عمر کتنی بڑھ گئی ہو گی؟ کھانے پینے کی کون سی ضرورت انہیں محسوس ہوئی ہوں گی؟ اور پھر آسمانوں کا نظام تو زمین کے نظام سے مختلف ہے، بہرحال! نزول کے وقت انہوں نے دو فرشتوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوں گے، نماز فجر کا وقت ہو گا، مسلمان نماز کیلئے صف بندی کر چکے ہوں گے، امام مصلی پر جا چکا ہو گا اور مؤذن اقامت کہہ چکا ہو گا کہ اسی دوران حضرت عیسیٰؑ زمین پر نزول فرمائیں گے، ان کا نزول مشرقی دمشق میں سفید مینار کے پاس ہو گا، مینار سے اُترنے کیلئے سیڑھی بنی ہوئی نہ ہو گی، چنانچہ دوسری سیڑھی لگائی جائے گی اور حضرت عیسیٰؑ زمین پر تشریف لائیں گے، امام مہدی ان سے نماز پڑھانے کی درخواست کریں گے لیکن حضرت عیسیٰؑ وہ پہلی نماز امام مہدی کی اقتداء میں ادا کر کے اس امت کی تکریم کا عملی ثبوت پیش فرمائیں گے، تاہم بعد کی نمازوں میں وہی لوگوں کی امامت کیا کریں گے۔
یہاں بعض علماء کو اس بات میں شبہ پیش آگیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا مقام نزول کون سی جگہ ہے؟ مشرقی دمشق جیسا کہ اس روایت میں ہے ، یا بیت المقدس؟ جیسا کہ بعض دوسری روایات میں ہے، چنانچہ انہوں نے اسے حل کرنے کیلئے مختلف تاویلات اور توجیہات کا سہارا لیا ہے، حالانکہ واضح بات یہ ہے کہ اس زمانے میں دمشق ، فلسطین ، بیت المقدس وغیرہ سب ہی ملک شام کا حصہ تھے، اس لیے مراد یہ ہے کہ وہ ملک شام میں نزول فرمائیں گے، خواہ وہ دمشق ہو یا بیت المقدس، البتہ دمشق کا ہونا اس لیے راجح ہے کہ مضبوط روایات میں اسی کا تذکرہ آتا ہے، اور بیت المقدس میں نزول کی روایت اس درجے کی نہیں ہے، دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ روایات میں مشرقی دمشق کا لفظ تو واضح طور پر آتا ہے، لیکن بیت المقدس کی طرف نزول کا صرف اشارہ ملتا ہے، ظاہربات ہے کہ ایک واضح چیز کے ہوتے ہوئے اشارے کو سمجھنے میں خطا نہ ہونی چاہیے اور واضح بات ہی کو ترجیح دی جانی چاہیے، سو حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول مشرقی دمشق میں ہو گا، اور وہ سفید مینار اگر آج موجود نہیں ہے تو نزولِ عیسیٰؑ سے پہلے ضرور بن جائے گا۔