حضورؐ کے آنسو

حضرت انس بن مالکؓ کی خبر کے مطابق اللہ کے رسولؐ  نے ایک صبح اپنے صحابہؓ  کو بتلایا کہ آج رات میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے ابا جان حضرت ابراہیمؓ  کے نام پر ’’ابراہیم‘‘ رکھا ہے۔مدینہ میں ہی ایک شخص رہتا تھا جن کا نام ’’ابو سیف‘‘  تھا۔ یہ لوہے کے اوزار بنانے کا کام کرتے تھے۔ ان کی بیوی ’’اُمّ سیف‘‘ تھیں۔ کچھ عرصے کے بعد پرورش کے لیے اللہ کے رسولؐ  نے اپنا بیٹا مذکورہ عورت کے حوالے کر دیا۔ آپ اس سے ملاقات کے لیے مختلف اوقات میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپؐ  اپنے بچے کو سینے سے لگاتے، پیار کرتے، سر میں بوسہ لیتے، سونگھتے… یہ بچہ دودھ کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی بیمار ہوا اور حضورؐ  کے مبارک ہاتھوں میں ہی اپنے اللہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ چنانچہ:
(فَجَعَلَتْ عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ تَذْرِفَانِ)
’’اللہ کے رسولؐ  کی آنکھیں چھم چھم آنسو بہانے لگیں۔‘‘
اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟ اس پر آپؐ  نے فرمایا: اے عوف کے بیٹے!
(اِنَّھَا رَحْمَۃٌ)
’’یہ آنسو رحمت (نرم دلی اور شفقت کی وجہ سے غم) کے ہیں۔‘‘
اس کے بعد آپؐ  دوسری بار پھر رو دیے اور ساتھ فرمانے لگے:
((اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزُنُ وَ لَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَ اِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاھِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ))
’’آنکھیں رو رہی ہیں، دل غمگین ہے، مگر ہم وہی جملہ زبان سے بولیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ باقی حقیقت یہ ہے کہ اے ابراہیم بیٹے! ہمیں تیری جدائی کا صدمہ بہت غمگین کر گیا ہے‘‘
! بخاری: ۳۰۳۱۔ مسلم: ۵۱۳۲۔

آیت کریمہ’’ ان مع العسریسرا‘‘ کا مطلب   اور  کرب میں دعا کی قبولیت
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیںحضرت طاؤس کسی بیمار کے پاس بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے۔ مریض نے عرض کیا کہ: حضرت میرے لئے دعا فرمائیں(کہ اللہ تعالی مجھے شفا عطا فرمائیں) یہ سن کر حضرت طاؤس نے فرمایا کہ: اے مریض تم خود اللہ تعالی سے دعا کرو۔ کیونکہ بے قرار کی بے قراری کے وقت دعا قبول ہو جاتی ہے۔
حضرت شیخ ابو حاتم  فرماتے ہیں: جب مایوسی دل پر چھا جاتی ہے، سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے، تکالیف انسانوں کو گھیر لیتی ہیں، اور مصیبتیں اپنا ڈیرہ جما لیتی ہیں۔ کوئی چارہ کار سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر کار گر نہیں ہوتی، ایسے وقت میں اچانک اللہ تعالی کی مدد آ پہنچتی ہے اور وہ دعاؤں کو سننے والا باریک بیں خدا، اس سختی کو آسانی اور تکالیف کر راحت سے بدل دیتا ہے کشادگیاں نازل فرما کر نقصانات کو فوائد سے بدل دیتا ہے ۔