حضرت ابراہیم بن ادہم

علامہ منیر احمد یوسفی
حضرت ابراہیم بن ادہم   بلخ کے ایک شاہی خاندان کے فرد ہیں۔  آپ کی کنیت ابو اسحاق  ہے اور  شہزادوں میں آپ کا نسبِ عالی  حضرت ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بلخی  سے جا ملتاہے۔ حضرت جنید بغدادی آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں۔: مَفَاتِحُ الْعُلُوْمِ اِبْرَاہِیْمُ علوم کی چابیاں حضرت ابراہیم ہیں۔ حضرت ابراہیم بن ادہم اپنے زمانے کے یگانہ عارفِ طریقت گزار تھے۔ آپ نے بہت سے قُدَ مَآئَ مشائخ کو دیکھا۔ اِمام الآئمہ حضرت اِمام ابوحنیفہ کے ساتھ رہ کر علم حاصل کیا۔ (نفحات الانس ص41 ‘فارسی)
ایک مرتبہ حضرت اِمام اعظم ابوحنیفہؓ  کی مجلس پاک میں حاضرتھے تو بعض لوگوں نے حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھا لیکن حضرت اِمام ابو حنیفہؓ نے اُنہیں سیّدنا کہہ کر خطاب فرمایا اور اپنے نزدیک جگہ دی اور لوگوں نے سوال کیا کہ اِنہیں سرداری کیسے حاصل ہوئی ۔ تو حضرت اِمام اعظم ابو حنیفہ ؓ نے فرمایا: اِن کا مکمل وقت ذکروشغل اور وظائف میں گزرتا ہے اور ہم دُنیاوی مشاغل میں بھی حصہ لیتے رہتے ہیں۔ (تذکرۃ الاولیا جلد1 ص85 فارسی)ایک دفعہ شکار کے لئے باہر جنگل میں نکل گئے۔ ہاتفِ غیبی نے آواز دی‘ اے ابراہیم تو اِس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔آپ یہ آواز سنتے ہی متنبّہ ہوئے اور تمام مشاغل کو ترک کر دیا اور طریقت کی راہ اِختیار کی اور حصولِ طریقت پر سختی سے کار بند ہو گئے‘ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت سفیان ثوری‘ حضرت فضیل بن عیاض اور حضرت ابو یوسف غسولی  سے اِستفادہ کیا اور اِن حضرات کی خدمت میں کچھ  وقت گزارا۔ مکہ مکرمہ سے کچھ عرصہ کے لئے ملکِ شام کا رُخ کیا اور وہاں رزقِ حلال کے حصول کے لئے مصروف کار ہوئے۔ آپ باغات کی نگہبانی کر کے رزقِ حلال کماتے تھے۔ (4 تذکرۃا لاولیا جلد1ص85 فارسی)
اِبتدائی دَور میں جبکہ آپ بلخ کے اَمیر تھے۔ ایک دن شکار کو گئے اور اِتفاقاً دوستوں سے بچھڑ گئے اور ایک ہرن کے پیچھے گئے اللہ نے اُس ہرن کو قوتِ ناطقہ عطا فرمائی۔ ’’اُس نے بزبان فصیح حضرت ابراہیم بن ادہم کو مخاطب کر کے کہا: ’’کیا تم اِسی لئے پیدا کئے گئے تھے یا اِسی کام کا تمہیں حکم ملا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی آپ کے دل میں خیال آیا اور توبہ فرما کر سب سے ہاتھ اُٹھا لیا۔ زہدو ورع کے پابند ہوگئے۔ (کشف المحجوب ص 100)
حضرت ابراہیم بن ادہم فرماتے ہیں تین حالتوں میں دِل جمعی حاصل نہ ہو تو سمجھ لو کہ اُس کے اوپر بابِ رحمت بند ہو چکا ہے۔ اوّل تلاوتِ کلام مجید کے وقت‘دوم حالتِ نماز میں‘ سوم:ذکرو شغل میں۔ اور عارف کی شناخت یہی ہے کہ وہ ہر شے میں حصولِ عبرت کے لئے غوروفکر کرتے ہوئے خود کو حمدو ثنا میں مشغول رکھے اور اِطاعتِ اِلٰہی میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔ فرماتے ہیں‘ تین رجحانات رفع ہو جانے کے بعد قلبِ سالک پر سارے خزانے کشادہ کردئیے جاتے ہیں۔ اوّل یہ کہ کبھی دُنیا کی سلطنت قبول نہ کرے‘ دوم: اگر کوئی شے سلب کر لی جائے تو غمزدہ نہ ہو کیونکہ کسی شے کے حصول پر اِظہار مسرت کرنا حریص ہونے کی علامت ہے اور غم کرنا غُصّہ کی نشانی ہے‘سوم:یہ کہ کسی طرح کی تعریف و بخشش پر کبھی اِظہارِ مسرت نہ کرے۔ کیوں کہ اِظہار مسرت کرنا کمتری کی علامت ہے اور اِحساس کمتری والا ہمیشہ ندامت کاشکار ہوتا ہے۔
آپ نے کسی سے سوال کیا تم جماعت ِحق میں شمولیت چاہتے ہو؟ اور جب اُس نے اِثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ دُنیا وآخرت کی رتی بھر پرواہ نہ کرتے ہوئے خود کو غیر اللہ سے خالی کر لو اور رزقِ حلال اِستعمال کرو‘پھر فرمایا کہ صوم وصلوٰۃ اور جہاد و حج پر کسی کو جوانمردی کا مرتبہ اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک وہ یہ محسوس نہ کر لے کہ اُس کی روزی کس قسم کی ہے۔ روایت ہے کہ کسی نے آپ سے ایک صاحبِ وجد اورعبادت وریاضت میں مشغول رہنے والے نوجوان کی بہت تعریف کی۔چنانچہ اِشتیاقِ ملاقات میں جب آپ اُس کے یہاں پہنچے تو اُس سے آپ نے تین یوم کے لئے مہمان رکھنے کی اِستدعا کی اور جب آپ نے تین یوم میں اُس کے اَحوال کا مطالعہ کیا تو محسوس ہوا کہ اُس کی جتنی تعریف سنی تھی اُس سے کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوااور یہ دیکھ کر آپ نے نادم ہو کر فرمایا کہ ہم تو اِس قدر کاہل وجود ہیں اور یہ شب بیداری کرتا رہتا ہے لیکن پھر آپ کو یہ خیال آیا کہ کہیں یہ اِبلیس کے کسی فریب میں مبتلا تو نہیں ہے؟ اِس لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ حلال رزق اِستعمال کرتا ہے یا نہیں اور جب آپ کو یہ یقین ہو گیا کہ اِس کی روزی حلال نہیںہے پھر آپ نے اُس سے اپنے یہاں تین یوم مہمان رکھنے کے متعلق فرمایا اور اُس کو ہمراہ لا کر کھانا کھلایا جس کے بعد اُس کی پہلی سی حالت باقی نہ رہی اور جب اُس نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کر دیا ہے؟تو فرمایا کہ تجھے رزقِ حلال حاصل نہ ہونے کی وجہ سے شیطان کی کار فرمائیاں جاری تھیں۔ اِس واقعہ سے معلوم ہواکہ تمام عبادت وریاضت کا تعلق صرف رزق حلال پر موقوف ہے۔
ایک شخص برسوں آپ کی صحبت میں رہ کر جب واپس جانے لگا تو عرض کیا کہ اگر کچھ خامیاں یا برُائیاں آپ نے میرے اَندر دیکھی ہوں تو متنبہ فرما دیں تا کہ میں اُن کے ازالے کی سعی کرتا رہوں فرمایا کہ میں نے تمہیں سدا نظر محبت سے دیکھا ہے اور عیوب پر صرف دشمن کی نظر ہوتی ہے۔
جب لوگوں نے آپ سے دُعاؤں کی عدم قبولیت کی شکایت کی تو فرمایا کہ تم اللہ کو پہچانتے ہوئے بھی اُس کی اِطاعت سے گریزاں ہو  اُس کا رزق کھا کربھی اُس کا شکر ادا نہیں کرتے‘دوسروں کی عیب جوئی کرتے رہتے ہوں۔ پھر بھلا خود سوچو کہ اَیسے لوگوں کی دُعائیں کیسے مقام قبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔آپ  نے  ایک روایت  کے مطابق166ھ؁ میں وصال پایا اور یہ عبداللہ مہدی بن منصور عباسی کا عہد خلافت تھا۔ ( نفحات الانس ص41 ‘فارسی)۔آپ کے اِنتقال کے بعد پورے عالم نے یہ نداسنی کہ آج دُنیا کا اَمن فوت ہو گیا۔ جب آپ کے اِنتقال کی اِطلاع ملی‘ لیکن آپ کی گمشدگی کی وجہ سے نہ تو یہ معلوم ہو سکا کہ آپ کا مزار کہاں ہے اور نہ یہ پتا چلا کہ اِنتقال کس جگہ ہوا؟ بعض حضرات کا خیال ہے کہ آپ کا مزار بغداد شریف میں ہے ۔