قاری سیّد صداقت علی کے اعزاز میں گولڈن جوبلی تقریب

خالد محمود ہاشمی
بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری سیّد صداقت علی کے فن قرأت کی گولڈن جوبلی  تقریب کے موقع پر ان کے اعزاز میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پروفیسر حافظ قاریہ  روبینہ نے خدیجتہ الکبرٰی اسلامک سینٹر میں ایک محفل قرأت کا اہتمام کیا ۔ تقریب کی صدارت ممتاز عربی دان اور یونیورسٹی اورئینٹل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر نے کی جنہوں نے تقریب کے اختتام پر انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔  ڈاکٹر ظہور احمد اظہر نے قاری سید صداقت علی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  کہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن پاک کے لئے قاری صداقت کو لحن داؤدی عطا کیا ہے۔  وہ اپنے سوز تلاوت سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے ہیں۔  ان کی زبان ہر وقت قرآن کریم کی تلاوت میں تروتازہ رہتی ہے۔  آپ کو قرآن سے محبت نہیں عشق ہے۔  ڈاکٹر ظہور اظہر نے کہا کہ عرب ممالک کے چوٹی کے قراء قاری صداقت کی قرأت کے معترف ہیں۔ تقریب کی مہمان خصوصی گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین کوپر روڈ  کی پرنسپل پروفیسر فرزانہ شاہین نے قاری صداقت کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا قاری صاحب  فن تجوید و قرأت کے ساتھ ساتھ نعت گوئی پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔ تلاوت اتنے اچھے انداز میں کرتے ہیں کہ سننے والا بے خود ہو جاتا ہے۔ قاری سیّد صداقت علی کا کہنا تھا کہ میں قرآن کی تلاوت کے دوران اپنی کیفیت اور حالت کو بخوبی سمجھتا ہوں کیونکہ جب میں تلاوت کرتا ہوں تو میری آواز میں قوت پیدا ہوجاتی ہے۔  اس صورت میں میری کیفیت ایک طاقتور گھوڑے کی مانند ہوتی ہے۔ قاری صاحب کے نزدیک علم تجوید و قرأت کا فروغ پاکستان میں تو بہت ضروری ہے۔  اس میدان میں ہم دیگر اسلامی ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔  انہوں نے کہا مختص بالقرأت مدارس کی تعداد بڑھانی ضروری ہے۔  عربی کے بزرگ استاد حافظ محمد صدیق فیضی، کنیئرڈ کالج کی پروفیسر بانو اشرف، ایم اے او کالج کے پروفیسر خالد محمود ہاشمی اور پروفیسر حافظ قاریہ روبینہ نے قاری صداقت کے پچاس سالہ فن قرات کو خراج تحسین پیش کیا۔  قاریہ روبینہ نے کہا فرائض نبوت میں پہلا فریضہ تلاوت آیات ہے۔  رسالت مآبؐ نے اس فریضہ کو بدرجہ اتم ادا کیا۔