سادگی میں سکون

(فتح محمد موسیٰ خیلوی)
 حضرت عبدالرحمن بن عوف  ؓ   کا شمار مکہ کے امراء میں ہوتا تھا وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے ۔ایک دن وہ  حضور نبی کریمؐ کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ اس کے لباس پر رنگ برنگ چھینٹے پڑے ہوئے تھے۔ سرکار دو جہاںؐ نے ان چھینٹوں کی طرف اشارہ کر کے اپنے پیارے صحابی  سے پوچھا کہ اے عبدالرحمن یہ کیا ہے تو عبدالرحمن بن عوف نے سادگی سے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ؐ  کل شام کو میری شادی تھی یہ اسی شادی کی علامات ہیں۔
چند ماہ قبل میرے پڑوس میں بھی ایک شادی ہوئی تھی بارات اور رخصتی سے ایک ماہ قبل نامور فنکاروں کو بلا لیا گیا۔ میراثی حضرات بھی اپنے سازو سامان کے ساتھ پہنچ گئے اور رات گئے تک پورا مہینہ وہ سلسلہ چلتا رہا جس کے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آخری رات کے پروگرام  میں تو ناچنے اور گانے والیاں بھی فن کا مظاہرہ کرتی رہیں۔
ہمارے اس معاشرہ میں غمی اور خوشی کو انتہائی مشکل اور دشوار بنا دیا گیا ہے۔ خوشی کے مواقع پر خود سر بن جانا اور غمی کے موقع پر آپے سے باہر ہو جانا اس امت کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ بے جا اصراف کو ناک کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ امراء طبقہ تو یہ تمام شیطانی تقاضے پورے کر سکتا ہے لیکن غریب بھی تو اس معاشرے کا حصہ ہے اس کا بھی جی چاہتا ہے کہ وہ بھی برادری میں ناک اونچی کرے لیکن معاشرتی رسوم اور رواج نے اس کو امتحان میں ڈال رکھا ہے۔
گاندھی نے 1937ء میں جب کانگرس کی حکومت بنائی تو اپنے مشیروں اور وزیروں کو سادہ زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میں کرشن یا نارائن کا حوالہ نہیں دیتا کہ وہ کوئی تاریخی ہستیاں نہ تھیں میں مجبور ہوں کہ سادگی کی مثال کیلئے میں ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے نام پیش کرتا ہوں کہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حکمران تھے لیکن انہوں نے زندگی سادہ اور فقیروں والی گزاری ہے۔
عاشق رسولؐ اور اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کو گریبان میں جھانک کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ ہم مسلمانوں کے لیڈر تھے یا ہندوئوں کے لیڈر تھے ان کی اطاعت اور اتباع ہم پر فرض تھی یا گاندی جیسے  غیر مسلم پر فرض تھی۔  انہیں  ان کے اندر برگزیدہ ہستیوں کی کونسی بات نظر آگئی اور ہم کو وہ بات نظر کیوں نہ آسکی۔ اسلام دشمن گاندھی اور میانمار کے صدر تھان سین کو سادگی کا سبق کہاں سے ملا ہے؟ حضرت عمر ؓ بیت المقدس فتح کرنے جاتے ہیں تو ان کے لباس پر 17 ٹاکیاں لگی نظر آتی ہیں۔ ہر گھنٹے کے بعد  مہنگا ترین سوٹ بدلنے والوں نے ملک تباہ کیا ہے۔
عوام میں سادگی کا شعور بیدار کرنا دشوار تو ہے مگر جب تک معاشرہ میں یہ سادگی والا عنصر داخل نہیں ہوتا  ملک وقوم کو استحکام اور آرام بھی ملنا مشکل ہے۔ ہمارے آقا حضور نبی اکرمؐ نے ہر معاملے میں سادگی کا نمونہ پیش کر کے امت کو بھی سادگی کا درس دیا ہے ورنہ حضرت عبدالرحمن بن عوف جیسے امیر کبیر صحابی ؓ اپنی شادی اس طرح سادگی اور خاموشی سے نہ کرتے کہ جسکی خبر ان کے آقا کو بھی نہ ہوئی۔ ان کی بھی بڑی برادری تھی۔ ان کو سادگی کا درس کہاں سے ملا ہے ان کو سادگی کا درس اس سلام سے ملا تھا جس اسلام کے نام پر یہ ملک پاکستان بنا تھا۔ لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلام کو اس ملک سے نکالا جا رہا ہے۔