روزے کے روحانی ‘ اخلاقی و اجتماعی فوائد

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی
رمضان المبارک گناہوں کے صحرائے اعظم میں موسلا دھار بارش‘  بیکراں رحمت کے ظہور‘  گناہوں کی گرد دُھلنے کا نام‘ گناہوں کی جلتی دھوپ میں مغفرتِ الٰہی کا سائبان‘  جلتے ٹیلوں اور تپتے دشت میں موسمِ گل اور مغفرتِ یزداںکے جوش مارتے سمندر کا نام ہے۔ رمضان المبارک زندگی کی زرد پیاسی ریت پر اس بارش کا نام ہے  جو ٹوٹ کر برستی ہے۔  یہ وہ  مبارک مہینہ ہے جس کے آخری عشرے میں قرآن حکیم  نازل ہوا۔ شب قدر کا نزول رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں تراویح پڑھی جاتی ہیں ۔ اس طرح مکمل قرآن حکیم پڑھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب حجۃ  البلالغہ میں لکھتے ہیں کہ روزہ حیوانی جذبات کو مغلوب کرتا ہے۔  صوم کا لغوی معنی ہے  ’’کام سے رک جانا‘‘  --کسی جکہ پر ٹھہر جانا-- کھانے پینے ‘ گفتگو کرنے اور چلنے سے رک جانے کو بھی صوم کہتے ہیں۔  اسلام میں روزے ماہ شعبان  ۲  ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئے اور ان کے لئے رمضان کا مہینہ مخصوص کیا گیا۔ غزوہ بدر رمضان المبارک میں ہی سرہوا۔اسلام میں روزہ ان تمام عاقل بالغ مردوں اور عورتوں پر فرض ہے جو جسمانی طور پر اس کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بچوں پر روزے  فرض نہیں  لیکن اہل اسلام میں بہتر تربیت  کے لئے  ان بچوں سے روزے رکھوائے جاتے ہیں جو اس کی طاقت رکھتے ہیں۔حدیث میں رمضان کو ’’شہر الصبر‘‘ (صبر کا مہینہ) اور ’’شہر المؤاسات‘‘ (ہمدردی کا مہینہ) کہا گیا ہے۔  روزہ دراصل ایک روحانی تربیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کو  روحانی ‘ اخلاقی اور جسمانی تربیت کا ذریعہ بنا کر اجتماعی اور معاشرتی اہمیتوں کا حامل قرار دیا ہے۔ سورت بقرہ کی آیت نمبر 23 میں ارشادِ ربانی ہے:  ’’مسلمانو! تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پرفرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ حاصل کرو۔‘‘
جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت  کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں نیکی کا بدلہ دس سے بڑھا کر سات سو گنا کر دیا جاتا ہے اگر نیکی میں خشوع کا جذبہ ہو۔  حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کے آخری دن آنحضرت  ؐ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوے فرمایا:
’’ اے لوگو! ایک عظمت والا اور برکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہے‘ اس مہینے میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس مہینے میں قیام اللیل نفلی ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا  ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مومن کا  رزق زیادہ ہوجاتاہے ۔ جس نے روزے دار کا روزہ افطار کرایا اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اسے جہنم سے نجات مل جاتی ہے ۔ اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے‘ دوسرا عشرہ مغفرت کا اورتیسرا دوزخ کی آگ سے نجات کا۔جس نے اپنے خادم اور نوکر سے اس مہینے میں کام کم لیا‘  اللہ اس کے گناہ معاف کر دے گا  اور اسے دوزخ کی آگ سے بچا لے گا۔‘‘
روزے کی فضیلت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اُسے بد زبانی، کج روی اور جہالت سے باز رہنا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی شخص روزے دار کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے کہہ دینا چاہئے میاں! میں تو روزے سے ہوں۔ ایک اور مقام پر حضور اکرم ؐ نے فرمایا: جس طرح میدان جنگ میں دفاع کے لئے ڈھال ہوتی ہے۔ روزے تمہارے لئے اسی طرح آگ کے لئے ڈھال ہیں  جب تک کہ انسان اس ڈھال (روزہ )  کو جھوٹ اور غیبت سے توڑ  نہ  ڈالے۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے: کتنے روزے دار ہیں جن کے حصے میں ‘  ان کے روزے سے صرف بھوک آتی ہے اور کتنے شب بیدار ہیں جنہیں بیداری کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔حضور اکرم ؐ نے فرمایا: تم پر روزہ رکھنا فرض ہے کہ روزے جیسی عبادت کی کوئی مثال نہیں۔ایک اور جگہ آپ ؐنے فرمایا: جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر کسی (شرعی) عذر یا  بیماری کے  ترک کیا تو وہ قیامت تک بھی لگاتار روزے رکھتا  رہے تو اس روزے کی قضا ادا نہیں ہو سکتی۔ حضور اکرم  ؐ نے فرمایا: روزے دار کے لئے دو خوشی کے مواقع ہیں۔ پہلا موقع تو وہ ہے جب ہر شام وہ روزہ افطارکرتا ہے تو اسے ایک خاص روحانی خوشی ہوتی ہے اور دوسرا موقع وہ ہے کہ جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے  بہت  خوش ہوگا۔آپؐ کا ارشادِ عالیہ ہے: ’’نمازی کو جنت میں داخل ہونے کے لئے ’’باب الصلوٰۃ‘‘ سے بلایا جائے گا۔ جو مجاہد ہے اسے باب الجہاد سے ندا دی جائے گی۔  جو صاحب الصدقہ ہے اسے ’’باب الصدقہ ‘‘ سے جنت میں داخلے کی دعوت دی جائے گی۔‘‘حدیث  مبارک میں بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزے دار جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔  فرشتے پکاریں گے روزے دار کہاں ہیں ؟  روزے دار اس آواز کو سن کر جنت میں داخل ہونے کے لئے اس درواز ے کی  طرف  بڑھیں گے۔  جب روز ے د ار جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا۔  پھر کو ئی شخص اس دروازے سے داخل نہ ہو سکے گا۔‘‘  حضرت ابو سعید خدریؓ  سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐنے فرمایا: ’’جو شخص اپنے  اللہ  کو رازی کرنے کیلئے ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اسکے چہرے کو ستر برس کی مدت تک آگ سے دور کر دیتا ہے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ  ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم  ؐ نے فرمایا:’’ جس شخص نے ایمان اور ایقان کی دولت سے سرشار ہو کر رمضان کے روزے پورے کر لئے اس کے پچھلے گناہ سب معاف ہو جائیں گے۔‘‘ایک جگہ آپؐ  نے فرمایا: جس نے رمضان کو ایمان اور احتساب سے پورا کر لیا وہ اپنے گناہوں سے اس طرح بری ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے آج ہی اسے جنا ہے۔
جب آنحضرت  ؐ  روزہ افطار کرتے تو یہ پڑھتے ۔ترجمہ: اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر روزہ افطار کرتا ہوں۔رمضان المبارک میںافطاری کی  بڑی  اہمیت ہے ۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں:حضو ر اکرم  ؐ کا فرمان ہے:
’’جس نے کسی روز ے دار کی افطاری کا انتظام کیا تو یہ افطاری اس کے گناہوں کے لئے بخشش اور اسے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ ہوگی اور جس کی افطاری کروائی گئی اور جس نے افطاری کروائی ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ صحابہؓ  نے گزارش کی‘  اے اللہ کے رسولؐ :  ہم سب کو تو کسی کی افطاری کا اہتمام کرنے کی توفیق نہیں۔ آنحضرت  ؐ  نے فرمایا: خدا یہ ثواب اس شخص کو بھی برابر عطا کرتا ہے جو ایک کھجور‘ پانی کے ایک گھونٹ یا دودھ کی ایک چلی سے کسی کا روزہ افطار کروا  دے۔‘‘ آپ  ؐ کا ارشاد گرامی ہے:  جو شخص کسی روزے دار کو جی بھر کر پانی پلا دے(یا پر تکلف افطاری کا اہتمام کرے) تو خدا تعالی اس کو میرے حوض کوثر سے اس طرح سیراب کریں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس محسوس نہ ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ جب روزہ افطار کرنا چاہو تو کھجور سے افطار کرو کیونکہ یہ باعثِ برکت ہے۔ اگر کھجور میسر نہ آئے تو پانی سے چھوڑ لو ‘  یہ باعث طہارت ہے۔‘‘
رسول اللہ ؐنے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (۱)  امامِ عادل  (۲) روزے دار کی، روزہ افطار کرنے کے وقت  (۳) مظلوم کی دعا۔ اسے اللہ تعالیٰ روزِ قیامت بادلوں سے بھی اوپر اٹھائے گا اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا، خواہ کچھ عرصہ بعد ہی سہی۔