حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ اور ان کی روشن خدمات

 مولانا مجیب الرحمن انقلابی
hmujeeb786@hotamil.com
آج جس جامعہ اشرفیہ لاہور کے روشن نام اور علمی کام کی سارے عالم میں صدائے بازگشت ہے اس کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسن ؒ ہیں۔حضرت مولانا مفتی محمد حسن جیسے انسان روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔ اپنے علم و عمل، زہد و تقویٰ، اعلیٰ اخلاق،  اور  حق و صداقت  کے مشن پرآپ لاکھوں مسلمانوں کیلئے ایمان کی روشنی کا ذریعہ بنے۔  مفتی محمد حسن  اپنی ذات میں شریعت، طریقت، تصوف اور علم و عمل کی خوبیوں کومجموعہ تھے۔ آپ بیک وقت ایک محدث، مفسر، فقیہہ اور ایک  مصلح  ہونے کے ناطے جامع الکمالات شخصیت کے مالک تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ قیام پاکستان کے پر جوش حامی تھے، آپ کا اصلاحی تعلق برصغیر کی مشہور و معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے ساتھ تھا اور آپ حضرت تھانوی کے خلیفہ مجاز بھی تھے اور آپ نے حضرت تھانوی کے نام کی طرف نسبت کرتے ہوئے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے معروف دینی ادارہ قائم کیا۔
مولانا اشرف علی تھانوی کے حکم پر مفتی محمد حسن نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع اور دیگر علمائے دیوبند کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا ۔ پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ’’بزم اشرف‘‘ کے روشن چراغ اور دارالعلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو حاصل ہوئی۔
حضرت مولانا مفتی محمد حسن  ؒحسن ابدال کے قریب ایک قصبہ مل پور میں پٹھان قبیلہ اتمان زئی کے ایک دیندار گھرانہ میں مولانا اللہ داد کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اپنے وقت کے معروف عالم دین، محدث اور صاحب نسبت بزرگ تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقہ میں حاصل کی اور پھر مزید دینی تعلیم مولانا محمد معصوم، مولانا عبد الجبار غزنوی، مولانا نور محمد اور مولانا غلام مصطفی قاسمی اور دیگر علماء سے حاصل کرنے کے بعد تزکیہ نفس اور تربیت کیلئے حکیم الامت  حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے پاس جا پہنچے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ارشاد گرامی اور ہدایت پر آپ نے قاری کریم بخش سے تجوید اور فن قرأت کی سند حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند سے حضرت مولانا علامہ انور شاہ کاشمیری سے دورہ حدیث کی تجدید کرتے ہوئے سند فراغت حاصل کی۔ جس کے بعد حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے آپ کو طریقت کے چاروں سلسلہ میں بیعت کر لیا۔ بیعت کے بعد حضرت مفتی محمد حسن نے  بڑی تیزی کے ساتھ تزکیہ و سلوک کی منازل طے کیں اور تین سال کے عرصہ میں ہی حضرت تھانوی نے آپ کو خلعت خلافت سے نواز دیا ۔ پھر آپ کو اپنے شیخ سے وہ مناسبت پیدا ہوئی کہ آخر دم تک اس میں ہر آن اضافہ اور برکت ہوتی چلی گئی۔حضرت تھانوی سے خلافت ملنے کے بعد آپ مرجع خلائق ہو گئے۔ آپ  ان اولیاء اللہ میں سے تھے کہ جن کے روشن چہرے کو دیکھ کر عقیدت مند اپنے دل کی دنیا بدل کر رکھ دیتے۔ اعلیٰ حکومتی و سماجی شخصیات سمیت  مؤرخ اسلام علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد الماجد دریا آبادی بھی حضرت مفتی محمد حسن کے دامن عقیدت سے وابستہ تھے۔صحافت و خطابت کے بے تاج بادشاہ آغا شورش کشمیری مرحوم حضرت مولانا مفتی محمد حسن کے بارے میں رقمطراز ہیں!’’حضرت مولانا مفتی محمد حسن  صرف کتابی فقیہہ یا عالم ہی نہ تھے ان کی صحبتیں، محفلیں اور مجلسیں کئی کتابوں پر حاوی تھیں ۔ان کے پاس بیٹھ کر انسان کو ان کی عظمت کا اندازہ ہوتا۔
عالم دین کے منصب پر فائز ہونے اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے خلعت خلافت عطا ہونے کے بعد آپ نے 1947ء تک امرتسر کے مدرسہ جامعہ نعمانیہ میں کتابیں پڑھانے اور دینی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اصرار اور اپنے پیرومرشد حضرت تھانوی کی اجازت سے درس قرآن کا آغاز کیا اور دس سال کے عرصہ میں قرآن کی تکمیل کی، درس قرآن کیا تھا تصوف، توحید الٰہی، عشق رسالت  ؐعظمت صحابہ  کو ایسے دلنشین انداز میں بیان کرتے کہ درس سننے والوں کو یوں محسوس ہوتا گویا کہ ان پر تزکیہ نفس اور خشوع و خضوع کی بارش ہو رہی ہے۔ درس قرآن پر آپ نے کبھی اجرت نہیں لی اور مسلسل 48 اڑتالیس سال تک امرتسر اور 10سال تک جامع مسجد نیلا گنبد انار کلی لاہورمیں خطبہ وعظ دیتے رہے۔ لاہور میں درس قرآن دیا۔۔ جب تک صحت نے اجازت دی بلاناغہ درس قرآن اور مواعظ حسنہ کا سلسلہ جاری رکھا، اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کیلئے زندگی وقف کئے رکھی۔حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ امرتسری نے اپنے قیام امرتسر کے زمانہ میں وہاں ایک دینی مدرسہ کی بنیاد ڈالی تھی۔ پھر قیام پاکستان کے  بعد  آپ نے لاہور میں  نیلا گنبد انارکلی میں اپنے پیرو و مرشد ؒ کی نسبت  سے جامعہ اشرفیہ کے نام سے 14 ستمبر 1947ء میں دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی۔اس مدرسہ نے آپ کی محنت و خلوص کی وجہ سے اس تیزی کے ساتھ ترقی کی کہ مدرسہ کی یہ عمارت ناکافی ثابت ہوئی اور صرف آٹھ سال کے مختصر عرصہ کے بعد فیروز پور روڈ پر ایک سو کنال وسیع قطعہ اراضی خرید کہ 1955ء میں بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر جامعہ اشرفیہ جدید کا سنگ بنیاد رکھا گیا، سنگ بنیاد کی اس تقریب میں پاک و ہند کی بڑی علمی شخصیات نے شرکت کی۔
 اللہ تعالیٰ نے جہاں آپ کو اپنی دیگر نعمتوں سے نوازا وہاں آپ کو انتہائی نیک اور صالح اولاد بھی عطا فرمائی۔آپ نے اپنی زندگی میں دو نکاح کئے تھے جن سے آپ کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ایک بیٹا فضل الرحمن اور دو بیٹیاں آپ کی زندگی میں وفات پا گئے تھے، آپ صاحبزادوں   میںمولانا محمد عبید اللہ مہتمم  اور مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ ہیں، جبکہ مولانا عبد الرحمن اشرفی شیخ الحدیث، حاجی ولی اللہ   ، حاجی عبد اللہ  اور  مولانا عبد الرحیم  دین کی  خدمت  پر مامورہیں اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں علم و عمل کی شمعیں روشن کر رہے ہیں۔
حضرت مولانا مفتی محمد حسن صبرو استقامت کے پہاڑ تھے ۔ آپ 18 سال تک بیماری میں علاج و معالجہ کے باوجود دین کی خدمت میں مسلسل مصروف رہے۔ آپ اکثر فرماتے فرماتے کہ دین مٹانے والے خود مٹ جائیں گے دین اللہ کے فضل سے قائم رہے گا۔ علیل رہنے کے بعد آپ  یکم جون 1961ء  کو کراچی میں وفات پا گئے۔ نماز جنازہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی نے پڑھائی اور سوسائٹی کے قبرستان کراچی میں  دفن ہوئے۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،