تکبر برائیوں کی جڑ

(سعدیہ غفور)

تکبر ایک بد ترین گناہ ہے یہ ایک ایسا مہلک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیوں کو لاتا اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کر دیتا ہے تکبر کی بنا پر ہی شیطان کے گلے میں لعنت کا طوق پڑ گیا۔ اور وہ جہنم کے عذاب کا مستحق ٹھہرا غرور جس نے بظاہر پوری دنیا میں حکومت کی وہ بھی تکبر کا شکار ہوا۔ انسان کو تکبر پر ابھارنے والے اسباب کئی ہیں علم، عبادت، مال و دولت، حسب و نسب، حسن و جمال، کامیابیاں، طاقت و قوت اور عہدو  نصب کی بنیاد پر تکبر کیا جاتا ہے۔ انسان اس قدر بے بس ہے کہ اپنی بھوک، پیاس، نیند، خوشی، غم، یادداشت، بیماری یا موت پر اسے کچھ اختیار نہیں اس لئے اسے چاہئیے کہ اپنی اصلیت، حیثیت اور اوقات کو بھی فراموش  نہ کرے۔ وہ اس دنیا میں ترقی کی منازل طے کرتا ہوا کتنے ہی بڑے مقام و مرتبہ پر پہنچ جائے اللہ رب العزت کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں صاحب عقل انسان عاجزی و انکساری کا چلن  و طریقہ اختیار کرتا ہے اور یہی طریقہ اسے دنیا میں بڑائی عطائی کرتا ہے جب بھی اس دنیا میں کسی انسان نے تکبر و فرعونیت کی راہ پکڑی تو اللہ تعالیٰ نے بعض اوقات اسے دنیا میں ذلیل و خوار کیا اور اس کا نام و مقام تعریف میں نہیں بطور مذمت لیا جاتا ہے لہذا تقاضا یہ ہے کہ انسان عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے تو پھر دیکھے کے انسان کو اللہ تعالیٰ کس طرح عزت و عظمت سے نوازتا ہے اس دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے جو اس کے فضل و کرم کے بغیر کسی کو مل نہیں سکتا۔ ذرا سوچئیے کے اس تکبر کا کیا حاصل ہے! محض لذت نفس وہ بھی چند لمحوں کے لئے! جب کہ اس کے نتیجے میں اللہ اور رسولؐ کی ناراضگی، مخلوق کی دل آ زاری، میدان حشر میں ذلت و رسوائی، رب عزوجل کی رحمت اور انعامات ِجنت سے محرومی اور جہنم   جیسے بڑے  عذاب کا سامنا ہے۔ اب فیصلہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ اسے چند لمحوں کی لذت چاہئیے یا ذلت۔ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے اندر اس مرض تکبر کی موجودگی کا پتہ چلائیں اور اس کے علاج کے لئے کوشش کریں۔ ہر باطنی مرض کی کچھ علامات ہوتی ہیں، اسی طرح تکبر کی بھی ہیں۔ تکبر کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد اپنی اصلاح کرنا ہے متکبر شخص اپنے لئے جو کچھ پسند کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند نہیں کرتا۔ ایسا شخص عاجزی پر بھی قادر نہیں ہوتا جو تقویٰ و پرہیز گاری کی جڑ ہے۔ اپنی عزت بنانے یا بچانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے اور اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ بھی نہیں چھوڑتا ۔ یہ شخص حسد سے نہیں بچ سکتا کسی کی خیر خواہی نہیں کرسکتا  اگر کرتا ہے تو دکھاوے کے لئے ایسا آدمی اپنا بھرم رکھنے کے لئے ہر برائی کرنے پر مجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کو اپنے دل سے تکبر کی گندگی کو صاف کرنے کے لئے تواضع و عاجزی کا پانی استعمال کرنا بے حد مفید ہے۔اس کیلئے اسے سوچ بچار کی عادت ڈال کر تزکیہ نفس کرتے رہنا چاہیئے۔