ٹیکسوں کی کمی کی شکایت اور شاہی اخراجات

ٹیکسوں کی کمی کی شکایت اور شاہی اخراجات

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی کی شکایت کرنا شروع کردی ہے اورکہا ہے کہ ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد محض 11لاکھ ہے اورٹیکسوں کی وصولی جی ڈی پی کے لحاظ سے 10فیصد بھی نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے ٹیکس اور نان ٹیکس وصولی میں اضافہ کے باوجود ہرسال یہ واویلا کیاجاتا ہے۔ اس کے اسباب پراگر غورکیاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ کے باوجود اخراجات میں ہرسال بے تحاشہ اضافہ ہوتاچلاجارہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 30جون 2013کو ختم ہونے والے سال میں مجموعی طورپر 29کھرب32 ارب 40کروڑ روپے کا ریونیو وصول کیا گیا۔ اس میں 21کھرب 99ارب20 کروڑ روپے ٹیکس ریونیو‘19کھرب 36 ارب10کروڑ روپے سی بی آر ٹیکس اور 7 کھرب 83ارب 20کروڑ روپے غیر محصولاتی آمدنی ( نان ٹیکس ریونیو) شامل ہے۔2012ء میں یہ مجموعی وصولی 25 کھرب 66ارب50کروڑ روپے تھی۔ اس  میں 20کھرب 52ارب90کروڑ ٹیکس ریونیو‘18کھرب81ارب 50 کروڑ  روپے سی بی آر ٹیکس اور5کھرب 13ارب60کروڑ روپے غیرمحصولاتی آمدنی کے شامل تھے۔ اس طرح 2012ء کے مقابلہ میں مالی سال 2013ء میں وصولیوں میں مجموعی طورپر 4کھرب 15 ارب 90کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ لیکن حکومت نے 2013ء کا ہدف 33کھرب 76 ارب روپے مقرر کیا تھا اس کے مقابلہ میں یہ وصولیاں 3کھرب 93ارب 60 کروڑ روپے کم ہیں۔ دوسری طرف حکومتی اخراجات جو 2012ء میں 39 کھرب36ارب20کروڑ روپے کے ہوئے 2013ء میں بڑھ کر48 کھرب 16 ارب 30کروڑر وپے سے تجاوز کر گئے جبکہ ان کا ہدف44کھرب 80ارب روپے مقررکیاگیا تھا اس طرح 2012ء کے مقابلہ میں8کھرب80ارب10 کروڑ روپے سے زائد اضافہ ہوا ہے۔دوسرے یہ کہ ٹیکس ریونیو میں زیادہ شرح سے اضافہ نہ ہونے کا سبب ملک میں توانائی یعنی بجلی‘ گیس کا بحران ہے جس کی وجہ سے ملکی پیداوار میں کمی ہوئی ‘ بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ ملک میں امن وامان کی سنگین صورتحال کی وجہ سے سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوا۔ سابقہ اور موجودہ حکومتوں نے اخراجات میں کمی کیلئے سرے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا نہ ہی شاہی اخراجات میں کمی کی اس کی وجہ سے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کیلئے بینکوں اور آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول پر توجہ مرکوز کردی۔ اس کے برعکس اگر حکومت اسباب کا سدباب کرتی تو بجٹ کے خسارے میں کمی کے ساتھ ساتھ وصولیوں میں اضافہ بھی ہوتا۔ اب ہم ملک میں حکومت کے اس واویلا کاجائزہ لیتے ہیں کہ صرف 11لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں ہمارا کہنا ہے کہ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص ٹیکس دہندہ ہے جس طرح کوئی غذا کھائے یا پانی پئے زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح پاکستان میں کوئی ٹیکس دیئے بغیر بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ ملک میں فروخت ہونے والی غذائی اشیاء جن کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں پربھاری ٹیکس عائد ہے مثال کے طورپر ویجیٹیبل گھی‘ ککنگ آئل‘ شکر‘ چائے ‘ خشک دودھ‘بوتلوں میں بند صاف پانی‘ ڈبے ہیں یابند پیک بسکٹ تمام اقسام کے مشروبات‘بیوریجز‘ پیک دلیہ‘ گرم مصالحہ جات‘ پیک مصالحہ جات‘ فوری استعمال کے زمرہ میں آتے ہیں ملک کے 17کروڑ 50لاکھ سے زائد نفوس یہ استعمال کرتے ہیں اوران کی خریداری پرسیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ملک میں صرف موبائل فونز کی تعداد 12کروڑ 35لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 12کروڑ سے زائد نفوس حکومت کو19.5فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس اورایکسائز ڈیوٹی بھی ادا کررہے ہیں۔ ہر شخص جوگھر تعمیر کررہا ہے سیمنٹ سریے‘ بجلی کے سامان سمیت بیشتر تعمیراتی سامان کی خریداری پر سیلز ٹیکس ‘ امپورٹ ڈیوٹی‘ود ہولڈنگ اورفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی ادا کررہا ہے۔ ہر سگریٹ استعمال کرنے والا‘ الیکٹرونکس کا گھریلو سامان‘ سائیکل‘ موٹرسائیکل‘ کار خریدنے والا بھاری ڈیوٹی اورٹیکسز ادا کررہا ہے۔ دوسری طرف بجلی‘ گیس اورلائن کے ٹیلیفون استعمال کرنے والے علیحدہ حکومت کو کھربوں روپے سیلز ٹیکس کے طورپر ا دا کررہے ہیں پھر یہ کہنا کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد محض 11لاکھ ہے کہاں تک درست ہے۔ اس کاجائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آجائے گی کہ اس سے مراد حکومت کی انکم ٹیکس ہے۔ یہ انکم ٹیکس کے رجسٹرڈ افراد کی تعداد ہے یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں جی ڈی پی کے تناسب سے 10فیصدسے بھی کم ٹیکس وصول ہوتا ہے مگرواویلا مچا کر اس میں اضافہ نہیں کیاجاسکتا سابقہ اورموجودہ حکومتوں نے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کیلئے کبھی کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اورٹیکس کی وصولی کوبڑھانے کیلئے موجودہ ٹیکس دینے وا لوں اورعوام پربراہ راست ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا۔ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو اوراس کے ماتحت ادارے آج بھی اقدامات کریں تو ٹیکسوں اوروصولیوں میں مزید اضافہ ہوگا اورکوئی وجہ نہیں کہ آئندہ چندسالوں میں ٹیکس جی ڈی بی کے 15فیصد تک نہ ہوجائے۔ اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ عام آدمی کے اعتماد میں اضافہ کیاجائے ۔پورے ملک کے بڑے بڑے مارکیٹوں اورشاپنگ سینٹرز میں واقع دوکانوں پر کم از کم 10ہزار روپے سالانہ درمیانہ درجہ کے مارکیٹوں کی دوکانوں پر کم از کم 5ہزار روپے سالانہ‘زیورات اورجواہرات کی بڑی بڑی دوکانوں ، تمام پیٹرول پمپس ‘ سی این جی اسٹیشنز پر کم از کم ایک لاکھ روپے سالانہ انکم ٹیکس وصول کیاجائے۔ انہیں انکم ٹیکس کے دفاتر کے چکر کاٹنے‘عملہ کی لوٹ مار سے بچانے کیلئے بینکوں میں ادائیگی کے انتظامات کئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد جو حکومت 11 لاکھ بتارہی ہے بڑھ کر20لاکھ سے تجاوز نہ کرجائے اورصرف انکم ٹیکس کی وصولی میں کم از کم 8سے10کھرب روپے کا اضافہ نہ ہو۔اس طرح ابتداء میں ہی ٹیکسوں کا حجم جی ڈی پی کے تقریباً 12فیصد تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔سرمایہ کاری کیلئے حالات ساز گار بنائے جائیں تو اس سے سیلز ٹیکس ، دیگرمحاصل اور روزگار میں بھی اضافہ ہوسکے گا۔