مہنگائی مزید بڑھ جانے کے خدشات

مہنگائی مزید بڑھ جانے کے خدشات

زرمبادلہ کے ذخائر 55سال کی کم ترین سطح پر آ جانے کے باوجود وزیرخزانہ اسحاق ڈار پرامید ہیں کہ رواں برس کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ جائیں گے لیکن شاید زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ کیونکہ تاحال وزیرخزانہ اور تمام تر حکومتی مشینری ڈالر کی قیمت کو سٹے بازی سے پہلے والے نرخوں پر بحال کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی گذشتہ مالی سال 2012-13ء کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس پر تمام حلقے سخت تشویش میںمبتلا ہیں اور پریشانی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کو سٹیٹ بینک کی اس جائزہ رپورٹ کے بعد پراپیگنڈہ مہم کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے بعد ایسی خبریں منظرعام پر لائی جا چکی ہیں جن کے مطابق ہمارے ہاں برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کے باعث دسمبر میں تجارتی خسارہ 30فیصد گھٹ گیا اور اس طرح سے پہلی ششماہی میں برآمدات کی مالیت ساڑھے بارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ برآمدات کے 26ارب ڈالر تک پہنچنے کی باتیں محض توقع تک نہیں رہنی چاہئیں۔ کیونکہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد ہم برآمدات کو 30ارب ڈالر تک باآسانی لے جا سکتے ہیں ۔ اس میں صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ویلیوایڈڈ مصنوعات کا حصہ کم از کم 10ارب ڈالر سے بڑھایا جا سکتا ہے ۔
 ماہ دسمبر میں برآمدات میں اضافے کا ڈھنڈورا ہر حکومت کی طرف سے ہر سال پیٹا جاتا ہے جس سے گمراہی کے عنصر کو غالب کرنا مقصود ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ 25دسمبر کو دنیا بھر میں کرسمس کے تہوار کے سبب پاکستان سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی بھاری کھیپ برآمد کی جاتی ہے جس کی بدولت برآمدات درآمدات پر سبقت لے جاتی ہیں اور اس طرح سے ایک ماہ کے دوران تجارتی خسارے کا تخمینہ لگا کر اس کے اعدادوشمار جاری کئے جاتے ہیں ۔ حالانکہ مالیاتی سال کے کم از کم چھ ماہ کی رپورٹ مرتب کی جانی چاہئے ۔عالمی مالیاتی اداروں اور غیرملکی امداد سے ہٹ کر اندرون ملک حکومت کا سٹیٹ بینک اور دیگر نجی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنا حقیقت حال کا اعتراف ہوتا ہے۔ ان تمام عوامل کو نظرانداز کر کے محض ایک ماہ کے اعدادوشمار پر معیشت کو اس انداز میں نہیں چلایا جا سکتا کہ تمام تر بحران بھی حل ہو جائیں۔ صنعتیں چالو رہیں، زراعت کا پہیہ رواں دواں رہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے علاوہ برسرروزگار افراد کی قوت خرید میں اضافہ کرتے ہوئے عام آدمی کی حالت زار تبدیل کی جا سکے۔ تعجب ہے کہ سٹیٹ بینک نے اس مرتبہ بھی اپنی جائزہ رپورٹ میں اپنی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بیشتر مسائل کی نشاندہی تو ضرور کی مگر یہ بھی کہا گیا کہ مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔ اگر خلوص نیت سے بات کی جائے تو گذشتہ مالی سال سے براہ راست موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں بنتا لیکن پھر بھی حکومت حقائق کو آشکار نہیں ہونے دینا چاہتی۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے دوران مہنگائی کا جن اس قدر بے قابو رہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 200فیصد تک اضافہ سامنے آیا۔ دالوں، سبزیوں، پھلوں، گھی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 73 سے 200فیصد تک اضافہ ہوا جس سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا۔ حکومتی اداروں کی بدانتظامی، چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا اور پیداوار میں کمی بھی مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ ذخیرہ اندوز تمام تر حکومتی بھڑکوں اور سرکاری مہم جوئی کے باوجود دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹتے رہے، اسی لئے 2013ء کو پاکستانی تاریخ کا مہنگائی کا سال قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا یہ سال 2013ء نہیں تھا جب خود ادارہ شماریات پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں مہنگائی کی سالانہ شرح نومبر 2013ء کے اختتام پر 10.9فیصد سالانہ تک پہنچ گئی تھی جو اکتوبر 2013ء میں یہ شرح 9.1فیصد تھی جبکہ 2013ء کے مقابلے میں نومبر 2012ء میں مہنگائی کی شرح 6.9فیصد تھی۔ کنزومر پرائس انڈکس کے مطابق بھی 2013ء کے آخری مہینوں میں روزمرہ استعمال کی عام اشیاء کی مہنگائی میں 8.5فیصد سالانہ اضافہ ہوا تھا۔ اکتوبر 2013ء میں ہی یہ اضافہ 8.4فیصد تھا جبکہ 2012نومبر میں 9.7فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ افراط زر کی شرح بھی 2013ء کے آخری مہینوں میں 9.2فیصد تک رہی تھی۔ 2013ء کے ماہ اکتوبر میں یہ شرح 9.0فیصد تھی جبکہ سال 2012ء نومبر میں یہ شرح 8.8فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ قیمتوں کے انڈکس کے مطابق بھی سال 2013ء کے آخری ماہ میں 14.1فیصد سالانہ اضافہ نوٹ کیا گیا تھا جو اکتوبر 2013ء میں 10.5فیصد تھا جبکہ سال 2012ء نومبر میں یہ اضافہ 6.0فیصد تھا۔ کیا حکومت ان تمام تر اعدادوشمار کی نفی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ جائزہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 648ارب کا قرضہ لیا۔ ملکی قرضہ 19کھرب روپے سے بڑھ گیا۔ وفاقی حکومت اپنی مالیات کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے اور کرنسی نوٹ چھاپ کر بجٹ خسارہ پورا کر رہی ہے اگر سٹیٹ بینک یہ نشاندہی کر رہا ہے تو پھر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کیسے کہہ رہے ہیں کہ حکومت نئے نوٹ نہیں چھاپ رہی اور پھر وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے وہ دعوے کہاں ہے کہ حکومت کفایت شعاری کو اپنا شعار بنا کر حکومتی اخراجات پر قابو پا رہی ہے۔ صورتحال اس سے قطعی برعکس نظر آتی ہے جس کا احاطہ سٹیٹ بینک بھی حکومت کی طرف سے نئے نوٹ چھاپنے اور اپنی مالیت کو کنٹرول نہ کرنے کی نشاندہی کر کے کر رہا ہے۔ سٹیٹ بینک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ گذشتہ مالی سال بہت سارے معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے جبکہ رواں مالی سال کے دوران شرح نمو 4.4 حاصل ہونے کی بھی توقع نہیں ہے۔ رواں مالی سال مہنگائی بھی ہدف سے زیادہ رہے گی جس کی وجہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، روپے کی قدر میں کمی، جی ایس ٹی میں اضافہ اور اس کے علاوہ گندم کے کم ذخائر بھی ہیں۔ وفاقی حکومت اخراجات پورے کرنے کے لئے مرکزی بینک سے قرض پر اپنے انحصار کو بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے ملکی بینکوں سے 2012ء کی نسبت رواں سال ساڑھے 24فیصد زیادہ قرضہ لیا۔ سٹیٹ بینک نے حکومت کو ایک مرتبہ پھر ٹیکس نیٹ ورک میں اضافے کا مشورہ تجویز کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد صنعتوں کو گیس کی فراہمی کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بحران ایک مرتبہ پھر سر اٹھا چکا ہے جس کے باعث صنعتی پیداواری شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں یقینی طور پر پیداواری شعبہ متاثر ہونے سے روزگار کے نئے مواقع کم ہونے کے ساتھ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے بھی مہنگائی کا جن مزید بوتل سے باہر نکلے گا۔ بجلی بحران کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ روز ہی چیئرمین لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن چوہدری ظہیر احمد بھٹہ نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی عدم فراہمی کے باعث 50فیصد صنعتیں بند ہو گئی ہیں۔مختلف صنعتی یونینز کی طرف سے کوئلے پر بجلی پلانٹ لگا کر بجلی کی فراہمی کا پرزور مطالبہ سامنے آنے لگا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں کوئلے کے ذخائر سے 350برسوں تک 10ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ تھرپارکر اور دیگر مقامات پر کوئلے سے بجلی پیدا کرکے بحرانوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے ورنہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح میں مزید خوفناک حد تک اضافہ ہو گا اور حکومت اپنا کوئی بھی ٹارگٹ پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے گی۔ وزیرخزانہ اگر حقیقی معنوں میں زرمبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالر کی سطح تک لے جانا چاہتے ہیں تو حکومت صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبے کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ مہنگائی ، بیروزگار ی ا ور غربت میں مزید اضافہ نہ ہو سکے۔