زرعی ملک میں گندم کی درآمد کا جواز؟

زرعی ملک میں گندم کی درآمد کا جواز؟

ملک کی معیشت کے تناظر میں یہ خبر تشویشناک بھی ہے اور انتہائی افسوسناک ہے کہ پاکستان ایک بار پھر گندم کی درآمدی کلب میں شامل ہو گیا ہے اور مالی سال 2013-14 ء کے پہلے3مہینوں میں پاکستان نے 1لاکھ 43 ہزار ٹن گندم درآمد کی ہے حیرت ہے کہ پاکستان کے پاس تو گندم کے ذخائر کی وافر مقدار موجود تھی۔ جو کہ مالی سال 2014ء میں آنے والی نئی گندم کی فصل کے آنے تک موجود تھی لیکن حالیہ قلت کی ایک بڑی وجہ افغانستان اور دیگر ملکوں کیلئے اناج کی اسمگلنگ بھی ہے۔ اسمگلنگ حکومت اور سرکاری اداروں کی آپس کی ملی بھگت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ قوم کے اربوں روپے اپنی تجوریوں میں بھرے جا چکے ہیں۔
 پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے کہ پنجاب تو ایک وقت میں ملک کے اناج گھر کے طور پر جانا تھا نہ صرف ملک کی بیشتر غذائی ضروریات ہماری اپنی پیداوار سے پوری ہوئی تھیں بلکہ لاکھوں ٹن گندم بھی برآمد کی جاتی تھیں مگر اس حکومت کی عدم توجہ اور ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث گندم درآمد کرنا پڑی۔ پاکستان 2009-10ء میں گندم برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ گیا تھا 2010-11ء میں17 لاکھ ،2011-12ء میں 4لاکھ اور 2012-13ء میں تقریباً 2  لاکھ ٹن گندم برآمد کی مگر اسی سال 21ہزار ٹن گندم درآمد کرنا پڑی ہے اور درآمد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جس سے ملک کا درآمدی بل مزید بڑھ جائے گا۔ دوسری طرف کاشتکاروں پر سسٹم ظریفی دیکھئے کہ وفاقی فوڈ سیکورٹی کمشنر نے صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو مراسلہ تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے گندم کی نئی امدادی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آپ کسانوں کیلئے کھادیں، ڈیزل، بجلی، زرعلی ادویات سمیت دیگر زرعی مداخل کو سستا کرنے کے اقدامات کر لیں اسی مراسلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس برس پنجاب میں 2952 روپے، سندھ میں 1639 روپے پیداواری لاگت پچھلے سال کی نسبت پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ اس سے پنجاب کے کاشتکاروں کو فی من بچت پچھلے سال کے 166 روپے کے مقابلے میں کم کر کے اگلے برس صرف 166 روپے رہ جائے گی۔ کھاد ، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ وفاقی ادارے کرتے ہیں۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بلال صوفی سے اگر پوچھیں کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ بارہا کیوں ہو رہا ہے تو صاف اور سیدھا جواب آئے گا کہ فلور ملز کو حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت میں بتدریج اضافہ، ڈیزل، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیداواری اخراجات میں ہوشر با اضافہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ضرب المثل ہے کہ جس کا کھائیں اس کے گھن گائیں آج فلور ملز ایسوسی ایشن کو جو عزت و مقام حاصل ہے وہ کاشتکاروں اور ان کی فصل کے مرہون منت ہے وگرنہ کیا وہ ریت اور مٹی اپنی چکیوں میں ڈال کر آٹا، میدہ، دلیہ، چوکر نکالیں گے؟ کسان دشمن رویہ اسی طرح رہا تو سب خاک میں مل جائیں گے۔ ہاں پاکستان کے غریب و متوسط طبقے کیلئے سستے آٹے کی فراہمی سانس کی طرح ہی لازم و ملزم ہے۔ قوم کے اربوں روپے کے فوڈ سپورٹ پروگرام سے کون سی غربت ختم ہوئی ہے حکومت اگر صحیح معنوں میں غریب عوام کی فلاح و بہبود چاہتی ہے تو تمام صوبوں میں آبادی کے لحاظ سے اس سپورٹ پروگرم کو صرف عوام الناس کیلئے سستے آٹے دالیں اور دیگر اشیائے خوردنوش کی خریداری کیلئے نادرا کے تعاون سے کارڈ بنا دے تو اس کے درست نتائج نکلیں گے اور حکومت کی نیک نامی ہو گی۔
پاکستان کی کاشتکار تنظیمیںملک بھر میں کسانوں کے ساتھ ارباب اقتدار قومی سرکاری اداروں کے دروازے کھٹکٹھا رہی ہیں لیکن کسی جانب سے کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ اراکین اسمبلی کی 80 فیصد اکثریت جو دیہی علاقوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں وہ بت بنے بیٹھے ہیں ان کی زبان سے کاشتکاروں کیلئے ہمدردی کا ایک لفظ تک نہیں نکلا۔ آج کسانوں سے 3000 روپے میں گندم کی 100 کلو بوری کی قیمت 4200 روپے کی ہو گئی ہے اور آٹے کی بوری 5000 روپے میں مل رہی ہے ٹھوکر نیاز بیگ میں تندور والا 50 روپے کلو والا آٹا خریدے تو روٹی 6روپے میں فروخت کرے اور PC ہوٹل والا وہی آٹا 50 روپے میں خریدے اور روٹی 70 روپے میں فروخت کرے یہ ناجائز منافع کس کے پیٹ بھر رہے ہیں حکومت یہ نوشتہ دیوار پڑھ لے اگر اس نے گندم کی امدادی قیمت1500روپے مقرر نہ کی تو وہ ملک بھر قحط ہمارے دروازوں پر دستک دیتے دکھائی دے رہا ہے۔ گندم پاکستانیوں کی غذائی عادات میں سب سے زیادہ مقبول ہے گندم کا آٹا ہر گھر کی ضرورت ہے جسے پوراکرنے کیلئے اس کی پیدوار بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مشرقی پنجاب بھارت ایک زرعی خطہ ہے وہاں حکومت کسانوں کو زراعت کیلئے مفت بجلی مہیا کرتی ہے ہمارے مفت تو کیا بجلی یا تو سرے سے ملتی ہی نہیں یا لوڈشیڈنگ کے ذریعے طویل وقفوں کے بعد ملتی ہے جس سے کاشتکاروں آبپاشی کیلئے زرعی ٹیوب ویل بھی نہیں چلا سکتے اور انہیں ان کی پیداوار کا معقول معاوضہ بھی نہیں ملتا حکومت کو چاہئے کہ زراعت کو فروغ دینے کیلئے باقاعدہ ورکنگ گروپ بنائے اور کاشتکار تنظیموں کو بھی ان کا ممبرز بنالے بیج‘ کھاد اور پانی کی سہولتوں پر توجہ دے محکمہ زراعت کو متحرک کر کے کاشتکاروں میں جدید آلات کشاورزی متعارف کروئے ان کے استعمال کی ٹریننگ دے یونیورسٹیوں میں زرعی تحقیق کی سہولتوں میں اضافہ کرے ۔