معاشی عدم مساوات اور مہنگائی کا طوفان

رانا زاہد اقبال 

2000ء میں حکومتِ پاکستان نے دوسرے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ایک ملینیم ڈیکلئیریشن پر دستخط کئے تھے جس میںغربت کا خاتمہ پہلا ہدف تھا تاہم گزشتہ 13سالوں میں آبادی کا ایک بڑا حصہ خطِ غربت سے نیچے چلا گیا ہے۔ پاکستان میں امیر غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے بارے میں اگر چہ کوئی باقاعدہ تحقیق نہیں کی گئی مگر مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹیں واضح کرتی ہیں 2000ء تا 2013ء پاکستان میں آمدن کی عدم مساوات کی شرح ملک کی تاریخ میں سب سے بلند رہی ہے۔ اس عرصہ میں غریب افراد کا شیئر 35فیصد تک کم ہو گیا جب کہ متمول طبقے نے 15فیصد مزیدترقی کی۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ لوگ کس قیمت پر اشیائے ضروریہ خرید رہے ہیں۔ 
سماجی صورتحال جتنی آج گھمبیر ہے شائد قومی تاریخ میں اتنی نہ رہی ہو۔ احتجاج، سڑکوں کی بندش، ہڑتالیں اور قومی املاک کے خلاف جارحانہ عوامی رویہ نظام پر عدم اعتماد کی عکاس ہے۔haveاور have notمیں فرق اتنا بڑھ چکا ہے کہ غربت کے ساتھ جینا دشوار ہو گیا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا نظام سارے مسائل کی جڑ ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومتی حکمتِ عملی کی خامیاں اتنی واضح ہیں کہ ظاہرہوتا ہے کہ ذاتی مفادات اولین ترجیح ہیں۔ ہمارے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کا احساس نہیں ہے کیونکہ ان کی دنیا و جہاں ہی اور ہے۔ اسی لئے انہیں ملک میں سب اچھا نظر آتا ہے اور عوام کو طفل تسلیاں دینے میں مصروف نظر آتے ہیں۔اس عشرے کے ابتدائی سالوں میں ہونے والی محدود معاشی ترقی کا فائدہ بھی امیر ترین افراد کے حصے میں آیا۔ موجودہ صدی کے آغاز سے یعنی گزشتہ 13سالوں میں غربت میں کمی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود آمدن کی غیر منصفانہ تقسیم کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے1995ء کے بعد سے غریبوں پر ٹیکس کے بوجھ میں 35 فی صد اضافہ ہوا ہے جب کہ اس عرصہ میں امیروں پر ٹیکس کی شرح 18فیصد کم ہوئی ہے۔ غربت کی اس ظالمانہ شرح کے باعث ہمارے ہاںعدم مساوات کی وجوہ نے امیر و غریب کے درمیان خلیج اتنی وسیع کر دی ہے کہ اگر بہتری کے اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال کوئی بھی سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
ایک معاشی جائزے کے مطابق پاکستان کی 40فیصد آبادی یومیہ ایک ڈالر کی آمدن کے ذریعے زندگی کی ڈور سے بندھی ہوئی ہے۔ ان افراد کے لئے اپنے کنبے کو تین وقت کھانے کی فراہمی بھی مشکل ہوتی ہے۔ سینٹر فار ریسرچ آن پاورٹی ریڈکشن اینڈ انکم ڈسٹریبیوشن کی ایک رپورٹ کے مطابق کل آمدن کا 80فیصد 20 فیصد آبادی کے حصے میں ہے جب کہ بقایا 80فیصد کے حصے میں کل آمدن کا صرف 20فیصد ہے۔ پاکستان میں ملک کی کل آبادی صرف 5فیصد اعلیٰ مراعات یافتہ طبقہ ہے اور 95فیصد غریب طبقہ پر مشتمل ہے۔ مڈل کلاس دم توڑنے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے لوگوں کو اشرافیہ یا غرباء دو واضح طبقوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ جب زمین بچھونا اور آسمان چھت ہو اور بنیادی انسانی سہولتوں کی فراہمی ناپید ہو ،ایسے انسان کی حالت کا ذمہ دار وہ معاشی نظام ہے جو امیروں کو امیر تر اور غریبوں کو غریب تر بنائے رکھتا ہے جس میں دولت، قدرتی وسائل و انسانی ذرائع قبضہ گروپوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔