بجلی کے مائیکرو منصوبوں کی اہمیت

ڈاکٹر عمران نیازی بٹ 
حکومتی دعوے کے مطابق اگر صرف بجلی کے 2بلب کو انرجی سیور سے بدل کر ہم 1000میگاواٹ بجلی بچا سکتے ہیں تو یہاں پیش کردہ نئی تجاویز سے 6000میگاواٹ ضرور بچایا جا سکتا ہے۔جو کالاباغ کی کل پیداوار (4500)سے بھی زیادہ ہے۔ موجودہ حکومت بجلی کے بحران کے حل کیلئے سنجیدہ لگتی ہے اسی لئے بجلی پیدا کرنے والے بڑ ے چھوٹے تمام اقدامات کو بروئے کار لا رہی ہے ۔کچھ اقدامات جو ان کی لسٹ میں شامل نہیں ہیں ان کے تعارف اور اہمیت پر یہاں روشنی ڈالی گئی ہے۔
حیوانی طاقت سے بجلی کا نظام(Animal Driven Electrical System)
 پاکستان کو 15000 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جبکہ یہ 6000کم پیدا کر رہا ہے ۔ صرف دیہاتوں میں اس کی کھپت 5000 تک ہے۔ اگر حکومت دلچسپی لے تو چھوٹے بڑے نئے منصوبوں کے ذریعے اس لوڈشیڈنگ میںنمایاںکمی کی جا سکتی ہے۔ کسان جانوروں کے ذریعے’’ رہٹ نماپلانٹس‘‘ کو چلا کر زرعی مقاصد کے لئے مفت بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔بھارت میں ایسے جدید رہٹ پہلے سے چل رہے ہیں۔ اسطرح ڈیزل سے تیار ہونے والی مہنگی خوراک کی قیمت میں نمایاںکمی ہو سکتی ہے۔عام طاقتور جانور (ایک یا دو مل کر) اِس بڑے پہیے کو با آسانی چلا سکتے ہیں ۔ اِس طرح حیوانی طاقت کو خاص میکانکی طریقے سے بجلی میں بدلا جا سکتا ہے اور یہ بجلی انتہائی کم خرچ بھی ہو گی۔ پیرم، محور والے اصول آرشمیدس کے مطابق گراریوںاور پلیوں پرمشتمل اِس نظام میں جانور نے بھاگنا نہیں بلکہ معمول کی رفتارسے چلنا ہے اسلئے گھوڑا ، خچر ، بیل، گدھا، اونٹ، ہاتھی وغیرہ آرام سے اِسے چلا سکتے ہیں۔
یہ نظام بہت چھوٹا اور بڑا، دونوں طرح کا بنا یا جا سکتا ہے۔ عام کِسان جنریٹر کو گدھے کی مدد سے باآسانی چلا سکتے ہیں اِسطرح ڈیزل اور ملکی بجلی کی بچت بھی ہو گی۔ جب فصلوں کو پانی دینا ہوا تو نظام کو چلا لیا،کسان یہ نظام اپنے کھیتوں میں لگا سکتے ہیں ۔اس نظام سے پمپ براہ راست چلا لیں اور گھریلو ضروریات کیلئے جنریٹر کو چلالیں۔کسانوں کا تجربہ ہے کہ بیل، سانڈ وغیرہ کو ایک دفعہ ھانک دیں تو وہ بغیر رکے 4گھنٹے مسلسل چلتے رہتے ہیں ۔اس دوران UPSاور بیٹریاں بھی چارج کر لیں جو جانوروں کے آرام کے وقت بجلی کو بحال رکھیں۔
اگر صرف جانورکالا باغ ڈیم جتنی بجلی دے سکتے ہیں توحکومت اپنے سرکاری انجینئرز کے ذریعے اس ’’رہٹ نما ساخت‘‘ کے ڈئزائن میں بہتری کے لئے کام کروائے تا کہ عوام اورایسے ڈھانچوں کو تیار کرنے والی کمپنیوں کو سہولت رہے ۔حکومت کسانوں کو چھوٹے نظاموں کے لئے قرضے اور تکنیکی راہنمائی فراہم کرے ۔ کسان بھائی اپنی ضرورت کے مطابق مقامی کمپنیوں یا کاریگروں سے یہ رہٹ نما ساخت بنوا کر استعمال کریں۔
سرونگ نظام (Tunnel Sytem)
پاکستان میں ایک طرف دنیا کے بلند ترین ہندو کش کے پہاڑی سلسلے ہیں تو دوسری سمندر کی زیریں ترین سطح ، گویاخطہء پاکستان ایک مسلسل ڈھلوان پر واقع ہے ۔یہ دنیا میں ایک ایسا خوش قسمت ترین ملک ہے جس میں بجلی پیدا کرنے کے وافر مواقع موجود ہیںکہیں بڑے ڈیم کہیں چھوٹے ، کہیں سرونگ نظام او ر کہیں پانی کی Potential Energy کو کسی اور طریقے سے بجلی میں منتقل کر سکتے ہیں۔ 
ڈیم دس سے پندرہ سال میں تعمیر ہوتے ہیں اپنی اس جغرافیائی خوبی کا فائدہ اُٹھا کرہم چند ماہ میں بہت سے ٹنل نظام بنا سکتے ہیںجو ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایک بھی ٹنل نظام موجود نہیں ہے۔ تمام بیراجوں ، ہیڈورکس وغیرہ پر افقی یا بہت سی’’ عمودی ٹربائن‘‘ لگائی جا سکتی ہیں گویا صرف مرالہ ہیڈورکس ضلع سیالکوٹ کے علاوہ دوسرے اضلاع کو بھی بجلی دے سکتا ہے۔ ہم صرف پانی سے اتنی زیادہ اور سستی بجلی بنا سکتے ہیں کہ لوگ کھانا بھی بجلی کے چولہوں پر پکائیں ،ہیٹر،گیزر بجلی کے چلائیں ۔ گرمیوں میں 24 گھنٹے اے سی چلائیںاور بجلی کا بل پانی کے بل جتنا آئے یعنی سال میں ایک مرتبہ اور وہ بھی معمولی۔ ہماری ترقی میں رکاوٹ کی وجہ صرف ’’حب الوطنی سے خالی مقامی خفیہ ہاتھ ‘‘ہے ۔جو اﷲ کی بجائے صرف امریکہ کو خوش کرنے میں لگا ہوا ہے۔
1۔ دریا پہاڑوں سے آتے ہیں جہاں چوڑائی کم ہو وہاں دریا کی سطح بلند ہو جاتی ہے جہاں زیادہ ہو وہاں نیچے۔ہر دریا کی تمام سال مختلف مقامات پر ایک اوسط سطح آب بھی ہوتی ہے ہمیںزیریں سطح پر اس سرونگ کا آغاز کرنا چاہیے اور جتنی ضرورت ہو اُتنی طویل سرونگ بنا لیں ۔ Silt سے بچانے کے لئے ابتدائی Control Unit میں خاص بناوٹ کی جالیاں لگائی جائیں ، جو آبی جانور، لکڑیوں اور پتھروں وغیرہ کو روک سکیں ۔
2۔ مختلف قطر (Diameter) کے لوہے، پلاسٹک یا سیمنٹ کے سیور) (Sewer پائپ کے ذریعے سطح زمیں میں کھدائی کر کے، گڑھا بنا کر رکھے جائیں اور ان میں پانی کو گزرنے دیا جائے ۔ اس سرونگ کے آخر پر جہاں زاویہ زیادہ موثرہو وہاں ٹربائن اور جنریٹر لگا دیں اور ٹربائن چلانے کے بعد پانی کو دریا میں جانے دیں۔ دریا، ندی، نالوں ، جھیلوں کے کنارے بہت سے مقامات اس کے لئے موزوں ہوتے ہیں ۔
3۔ یہ صرف ’’پانی کی روانی‘‘ Run of water) (سے چلنے والا نظام ہے۔اسلئے جب تک کالا باغ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس سے سرونگوں کے ذریعے ہی قوم کوبجلی کا فائدہ بہم پہنچایا جائے۔دھواں،ماحولیاتی آلودگی اورگلوبل وارمنگ کا ان اقدامات سے علاج ممکن ہے ۔
کوئلہ:۔ پاکستان میں دنیا کے دوسرے بڑے کوئلے کے ذخائر ہونے کے باوجود اس سے بجلی کی پیداوار صرف 0.1 فیصدہے جبکہ امریکہ میں اس کی شرح 50، بھارت 70،چین میں 80فیصد ہے ۔ حکومتِ پاکستان بجلی کی پیداوار فوری بڑھانے کے لئے کوئلے سے بھاپ کے انجن چلا کریا دیگر دخانی انجنوں کے ذریعے بجلی پیدا کر سکتی ہے۔ جبکہ فضائی آلودگی کو ’’حقہ نظام‘‘ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر ثمرمبارک مندتھر میں ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔حکومت بجلی پیدا کرنے کیلئے کسی نئی ایجاد یا مؤثر پروگرام کیلئے بڑے انعام کا اعلان کرے تو تحقیق کرنے والے نئی ایجادات بھی متعارف کروسا سکتے ہیں۔