پولنگ کے روز نظم و نسق اور امن و امان کو برقرار رکھنے کی ضرورت

شہزادہ محمد اکبر ........ چنیوٹ
ضلع چنیوٹ میں انتخابی سرگرمیاں زورو شور سے جاری ہیں۔ این اے 86 سے مسلم لیگ (ن) کے قیصراحمد شیخ، تحریک انصاف کے سید عنایت علی شاہ، جماعت اسلامی کے میاں عبدالقیوم ہنجرا اور پیپلز پارٹی کے سید ذوالفقارعلی شاہ، این اے 87 سے مسلم لیگ (ن) کے مہر غلام محمد لالی، سید فیصل صالح حیات آزاد اور پیپلز پارٹی کے سید عابد امام کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔ پی پی 73 سے مسلم لیگ (ن) کے مولانامحمد الیاس چنیوٹی، پیپلز پارٹی کے سید کلیم امیر، تحریک انصاف کے قاضی حسن علی، پاکستان مزدور محاذ کے ڈاکٹر علی امین، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر ریاض شاہد، سابق ممبر پنجاب بار کونسل، خادم ختم نبوت اور تحریک ختم نبوت 1974ءکے روح رواں ملک ربنواز ایڈووکیٹ، چوہدری انتظار جٹ، ڈاکٹر جاوید قمر، مبشر احمد واہلہ، سید ہاشم حسین زیدی اور شاہانہ ملک آزاد امیدوار ہو نگے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے رانا تجمل حسین این اے 86کے امیدوار ہیں۔ پی پی74سے پیپلز پارٹی کے سید حسن مرتضی، مسلم لیگ (ن) کے مولانا رحمت اللہ، جماعت اسلامی کے سید نور الحسن شاہ، تحریک انصاف کے سید محمد افضل شاہ، پی پی75 سے مسلم لیگ (ن) کے مہر امتیاز احمد لالی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی گوندل، تحریک انصاف کی حنا انور مخدوم اور قاری شبیر احمد عثمانی آزاد امیدوار ہیں۔ انتخابی دنگل موروثی سیاستدانوں کے درمیان ہار جیت کا فیصلہ ہو گا۔ این اے 86 سے سید عنایت علی شاہ جو 5 سال قومی اسمبلی کے ممبر رہے اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن جیتا تھا، اس دفعہ انکی ٹکٹ سابق تحصیل ناظم سید ذوالفقار علی شاہ کو مل گئی ہے اور سید عنایت علی شاہ نے تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرلیا۔ اسی طرح سابق ممبر قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ کو قیصر محمود جاپان والے کی بجائے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ مل گیا جس پر قیصر محمود مسلم لیگ اوورسیز جاپان کے صدر آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سید عنایت علی شاہ بھی اپنے اس ٹکٹ کی تبدیلی اور پارٹی قیادت کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کو قبول کرکے ذوالفقار علی شاہ کو شکست دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگار ہے ہیں اور اپنے 5 سالہ دور کی کارکردگی کے بل بوتے پر ووٹ حاصل کریں گے۔ سید ذوالفقار علی شاہ جو مشرف دور میں تحصیل ناظم چنیوٹ رہے اور ترقیاتی کاموں میں بھرپور دلچسپی لئے رکھی اور اب انہوں نے پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرلیا وہ ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انکے والد سردار سید محمد علی شاہ اور انکے بھائی سردار زادہ سیدطاہر شاہ بھی ممبر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔ اگرچہ سید ذوالفقار علی شاہ نے پیپلز پارٹی جوائن کرلی مگر پیپلزپارٹی کے سابقہ دور میں عوام کو مایوسیوں اور محرومیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی سے پیپلز پارٹی کے ورکر بھی سخت نالاں رہے مگر اس دفعہ سید ذوالفقار علی شاہ جتنے بھی ووٹ حاصل کر یں گے اس میں اکثریت ان کی ذاتی شخصیت اور کردار پر ووٹ ملیں گے۔ عوامی حلقوں میں یہ بھی تاثر عام ہے کہ انہیں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینا چاہئے تھا۔ اسی طرح قیصر احمد شیخ جو کہ ماضی میں مسلسل الیکشن بطور آزاد امیدوار لڑتے چلے آتے رہے ہیں اور ایک دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی بنے، اس دفعہ عوام کے پرزور اصرار پر مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاصل کیا۔ قیصر احمد شیخ کا تعلق اس خاندان اور برادری سے ہے جنہوں نے اس پورے علاقہ کو جاگیرداروں کے طلسم سے آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے تعلیمی ادارے، سماجی ادارے قائم کئے اور آج بھی وہ فاسٹ یونیورسٹی کے قیام کے بعد چنیوٹ میں دنیا کی دوسری آکسفورڈ یونیورسٹی بنانے کا عزم کرچکے ہیں۔ ان سے قبل مسلم لیگ (ن) اوورسیز جاپان کے قیصر محمود مسلم لیگ (ن) کو اجاگر کرنے کیلئے ورک کرتے رہے مگر پارٹی قیادت کی حکمت عملی اوراس فیصلے کو انہوں نے تسلیم نہ کرتے ہوئے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ بہتر تھا وہ پارٹی قیادت کے فیصلے کو تسلیم کرلیتے، یہ شہر کے مفاد کےلئے بھی بہتر تھا۔ اب امید ہے کہ میاں برادران میں سے کوئی چنیوٹ آکر اس مسئلہ کو افہا م وتفہیم سے حل کرلیں گے اور چنیوٹ کے شہریوں کیلئے چنیوٹ کو ضلع کا درجہ ملنے پر مسلم لیگ (ن) کا بھی قرض اتار دیں گے۔ چنیوٹ کے شہریوں نے قیصر احمد شیخ کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ملنے پر زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔ مخلص ورکروں کو پارٹی قیادت کے فیصلے کو سر تسلیم خم کرلینا چاہئے۔ مشن کے حصول کیلئے ورکر قربانیاں دیتے چلے آ ئے ہیں۔ انہوں نے چنیوٹ ضلع کی تحریک میں بھی مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس موجود سیاسی صورتحال کے پیش نظر تینوں امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔
اسی طرح پی پی 73 سے مولانا منظور احمد چنیوٹی کے صاحبزادے مولانا محمد الیاس احمد چنیوٹی نے آزاد منتخب ہو کر ”چنیوٹ ضلع بناﺅ تحریک“ کی ایک طویل جدوجہد کے بعد مسلم لیگ (ن) میں مشروط شرکت کر کے چنیوٹ کو ضلع کا درجہ دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ سید عنایت علی شاہ اور سید حسن مرتضی جو کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے منتخب ہوئے تھے، بھی اس تحریک میں اپنا کردار ادا کرتے رہے اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی سے این او سی لاکر تحریک کے صدر کے ہاتھ میں دیا اور اس مسئلہ پر مرکز کی جانب سے صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی تاہم میاں شہباز شریف نے اس 34 سالہ طویل جدوجہد کا ثمر مولانا محمد الیاس می چنیوٹی کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی صورت میں دیا اور چنیوٹ ضلع بن گیا۔ مولانا کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید کلیم امیر جوکہ سابق ممبر قومی اسمبلی امیر حسین سید کے بیٹے ہیں، الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے بھی عہدیدار رہے ہیں۔ والد کی وفات کے بعد پہلا الیکشن لڑ رہے ہیں اور انکے حمایتی پیپلز پارٹی ضلع چنیوٹ کے صدر سابق ممبر صوبائی اسمبلی قاضی علی حسن ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ لیکر دیا ہے۔ وہ قاضی حسن علی جوکہ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں اور سابق بلامنتخب ہونیوالے ناظم اور تحریک انصاف ضلع چنیوٹ کے بلامقابلہ صدر منتخب ہونیوالے میاں شوکت تھہیم قریبی علی حسن کے رشتہ دار ہیں، کی حمایت وہ کس حد تک کر سکیں گے وہ آنیوالاوقت بتائیگا۔ قاضی حسن علی بھی مشہور قاضی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق چیئرمین بلدیہ الحاج قاضی صفدر علی کے بیٹے ہیں ۔ سابق ممبر پنجاب بارکونسل ملک ربنواز ایڈووکیٹ خادم نبوت جنہوں نے ایک بار قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا اور شہر و دیہات سے 17-18ہزار ووٹ حاصل کئے تھے اور 1974ءکی تحریک ختم نبوت میں نظریاتی کارکن ہونے کی وجہ سے نمایاں کردار ادا کیا اور کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ جب قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا مسرور احمد کیخلاف مقدمہ درج ہوا اس مقدمہ کے مدعی مولانا محمد الیاس احمد چنیوٹی تھی اور وکالت کے فرائض ملک صاحب نے سرانجام دیئے اور مرزا کو عدالت میں ہی گرفتار کروایا۔ تحریک ختم نبوت کے حوالے سے ان کی کارکردگی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ اب وہ بھی اپنی خاموش انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ جبکہ مبشر احمد واہلہ، ڈاکٹر جاوید اقبال قمر، چوہدری انتظار جٹ، ڈاکٹرعلی امین، ڈاکٹر ریاض شاہ اور شاہانہ ملک آزاد امیدوار کھڑے ہیں۔ صوبائی امیدواروں کی تعداد میں اضافہ سے مولانا الیاس چنیوٹی کو بھی سخت محنت کی ضرورت ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے دوراقتدار میں بقول انکے ساڑھے 3 ارب روپے کے ترقیاتی کام کروائے اور چنیوٹ کو ضلع کا درج دلوانے پر مسلم لیگ (ن) کا نام بھی روشن کیا مگر چند ایسے امیدوار جو انکے ہمیشہ گروپ میں رہے وہ آج ان کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مولانا الیاس چنیوٹی کو سخت محنت کرنا پڑرہی ہے۔ بہرکیف مقابلے بہت سخت ہیں۔ پی پی 74 سے سابق ممبر صوبائی اسمبلی سید حسن مرتضی پیپلز پارٹی، مولانا رحمت اللہ مسلم لیگ (ن)، سید محمد افضل شاہ گٹی والے تحریک انصاف اور سید نورالحسن جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر حصہ لے رہیں ہیں جبکہ پی پی75 سے سابق ممبر پنجاب اسمبلی مہر امتیاز احمد لالی مسلم لیگ (ن)، ذوالفقار گوندل پیپلز پارٹی اور حنا انور مخدوم تحریک انصاف کی امیدوار ہیں۔ مہر امتیاز احمد لالی کی انتخابی مہم زوروں پر ہے جبکہ این اے 87 سے مسلم لیگ (ن) کے مہر غلام محمد لالی، مخدوم فیصل صالح حیات (آزاد) اور سید عابد امام پیپلزپارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ توقع ہے کہ اس حالیہ الیکشن میںماسوائے ایک آدھ امیدوار کے چنیوٹ ضلع بننے کی خوشی میں بھوانہ اور لالیاں عوام کی دل کی ترجمانی کرنیوالی مسلم لیگ (ن) کلین سویپ کریگی۔ جہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ الیکشن بھی ختم ہوجائیں گے، کامیاب ہونے والے امیدوار بھی اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے مگر سب سے اہم مسئلہ پورے ضلع کے امن کا ہے۔ تمام امیدواروں اور بالخصوص انکے جنونی چہیتوں کو شہر کے مذہبی اور سیاسی امن کیلئے اپنا اپنا قانونی اور اخلاقی فرائضہ ادا کرنے کی ضرورت ہے اور منصفانہ الیکشن اسی صورت میں ہی منعقد کئے جاسکتے ہیں کہ ہر پولنگ سٹیشنوںپر فوجی جوانوں کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں تاکہ پولنگ سٹیشنوں کا عملہ بلاخوف و خطر ذاتی تعلقات سے ہٹ کر غیرجانبدارانہ فریضہ سرانجام دے سکیں تاکہ شریف اور پرامن شہری اپنے ووٹ کا حق آزادنہ طور پر ادا کرسکیں اور پوری ضلعی انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اپنا قانونی اوراخلاقی فریضہ ادا کرتے ہوئے ووٹروں کو آزادنہ ماحول مہیا کرے اور کسی بھی شرپسند عناصر کو قانون کی گرفت سے آزاد نہ رکھے۔ سیاسی جلسوں میں اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ نعروں سے اجتناب کرنا انکا فرض ہے اور قانون کی پابندی کو ےقینی بنائیں۔