موروثی سیاست کی مضبوط اور توانا جڑیں

 عثمان عامر عباسی ........ میر پور خاص
سندھڑی آموں کے حوالے سے معروف وسطی سندھ کا مردم خیز ضلع میرپور خاص سیاست میں منفرد مقام رکھتا ہے اس ضلع کی سیاست میں سیّد گروپ اور تالپور خاندان کو زیادہ عمل دخل حاصل ہے۔ یہاں موروثی سیاست کی جڑیں مضبوط اور توانا ہیں ان خانوادوں کے مدمقابل وسان‘ جونیجو اور بھرگڑی خاندان رہے تاہمان برادریوں کے افراد سیاسی منظر سے غائب ہوتے چلے گئے ۔ماضی کی قد آور شخصیات میں شیر سندھ میر شیر محمد تالپور کے پوتے اللہ داد تالپور‘ غلام نبی شاہ‘ غلام محمد وسان‘ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو شامل تھے سیاسی حوالے سے غلام محمد بھرگڑی کا نا م آج بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔ 2013ءکے عام انتخابات میں ماضی جیسے جوش و خروش کا فقدان ہے اس مرتبہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے چہرے متعارف کرائے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار عتیق اللہ تالپور ہیں جن کا تعلق کوٹ غلام محمد کے علاقے کوٹ میرس سے ہے یہ منور تالپور کا آبائی گاﺅں ہے جو ماضی میں اس ضلع کی سیاست کامحور و مرکز رہا ہے عتیق اللہ تالپور کا گوٹھ کوٹ میرس قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 227 میں شامل ہے تاہم وہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 226 میرپور خاص شہر سے الیکشن لڑیں گے تحریک انصاف ضلع میرپور خاص میں زیادہ فعال نہیں فنکشنل مسلم لیگ نے جان اللہ تالپور کو قومی اسمبلی کے حلقے این اے 227سے منور تالپور کے مقابلے میں ٹکٹ دیا ہے جماعت اسلامی کے مولانا عزیز الرحمن این اے 226سے الیکشن لڑیں گے جمعیت علماءپاکستان کے امیدوار این اے 226 سے حافظ محمد صادق سعیدی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے ڈاکٹر اکرم مستوئی این اے 226سے حاجی غلام قادر نوہانی این اے 227 سے اور پی ایس 64سے مولانا حیات بروہی پی ایس 65 میر واہ گورچانی سے مولانا عادل لطیف و دیگر نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں تاہم این اے 226میرپور خاص سے سندھ میں 10جماعتی اتحاد کا ٹکٹ فنکشنل مسلم لیگ کے قربان علی شاہ اور این اے 227 سے فنکشنل مسلم لیگ کے جان اللہ تالپور کو ملنے کی توقع ہے۔ قربان علی شاہ پر انے اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں ان کے والد غلام نبی شاہ 1937کی اسمبلی کے ممبر اور ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے صدر رہے ہیں ۔
متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سابق نائب ناظم ضلع میرپور خاص ڈاکٹر ظفر کمالی‘ سابق صوبائی وزیر شبیر احمد قائمی اور سابق رکن سندھ اسمبلی فہیم الطافی کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔ پی ایس 65 پر پی پی نے سینئر سیاستداں اور سابق وفاقی وزیر صنعت علی نواز شاہ کو نامزد کیا ہے سیّد علی نواز شاہ 2008ءکے انتخابات میں اسی حلقے سے کامیاب ہوئے تھے۔ پی ایس 66ڈگری پر پی پی پی نے 5مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے والے حیات تالپور کو نامزد کیا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 67کوٹ غلام محمد پر جمیل بھرگڑی کو نامزد کیا گیا ہے حالانکہ جمیل بھرگڑی اسی حلقے سے ماضی میں پی پی پی کے کامیاب امیدوار محبوب تالپور کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ اپنے بھائی نور احمد بھرگڑی کا مقابلہ کریں گے پی پی پی نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 226 پر سابق ناظم ضلع میرپور خاص شفقت شاہ جیلانی کو ٹکٹ دیا ہے اس حلقے سے ماضی میں ان کے والد پیر غلام رسول شاہ جیلانی بعد ازاں ان کے بھائی پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی نے پی پی پی کے ٹکٹ پر چار مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 227 پر فریال تالپور کے شوہر منور تالپور کو پی پی پی نے نامزد کیا ہے میر منور تالپور نے 2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے امیدوار قربان علی شاہ کو شکست دی تھی۔ منور تالپور ماضی میں 1985ءسے لیکر 1997ءتک صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں ان کے دادا میر اللہ داد تالپور 1937ءکی سندھ اسمبلی کے ممبر رہے ہیں بعدازاں میر منور تالپور کے والد میر علی بخش تالپور نے 1970کے عام انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ پر غلام محمد وسان کو تاریخی شکست دی تھی فنکشنل مسلم لیگ نے منور تالپور کے مقابلے میں ان ہی کے قریبی عزیز جان اللہ تالپور کو انتخابی میدان میں اُتارا ہے۔ ضلع میرپور خاص سے قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پی پی مخالف مضبوط امیدوار لانے سے سخت مقابلوں کی توقع ہے لیکن ون ٹو ون مقابلے نہ ہوئے اور پی پی مخالف کئی امیدوار ایک ہی حلقے سے کھڑے رہے تو پی پی کی شکست کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔