صحرائے تھر کی نشستوں پر دلچسپ انتخابی مقابلے متوقع

 نند لعل لوہانہ ........ صحرائے تھر
بھارتی سرحد سے ملحقہ سندھ کا وسیع عریض ضلع اب تھر کہلاتا ہے ماضی میں اسے تھر پارکر کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اس میں آج کے میرپور خاص اور عمر کوٹ اضلاع بھی شامل تھے ۔ ضلع تھر صوبائی اسمبلی کی چار اور قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں ، اور ضلع تھر میں دوٹوں کی کل تعداد چار لاکھ 64ہزار 995ہے ، جس میں اقلیتوں کے ووٹ بھی شامل ہیں ۔ الیکشن 2013میں ماضی کے برعکس سیاسی صورتحال کافی تبدیل ہوچکی ہے ، تھر جوکہ اربابوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا ، وہاں پی پی پی کے پانچ سالہ دور اقتدار کی وجہ سے اربابوں کے اثر رسوخ میں خاصی کمی آئی ہے اور ارباب صاحبان سیاسی طور پر کمزور نظر آرہے ہیں ، کیونکہ تھر کے این اے 230سے جوکہ چھاچھرو ننگر پارکر پر مشتمل ہے ، تحریک انصاف کے رہنما اور غوثیہ جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم شاہ محمود قریشی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ، یہاں غوثیہ جماعت کے مریدوں کے ووٹوں کی بڑی تعداد ہے ، جوکہ ماضی میں ارباب اور پی پی پی کے حامی امیدواروں میں تقسیم ہوتے رہے ہیں ، اب مرشد کے میدان میں آنے کی وجہ سے مریدوں نے دیگر امیدواروں کو صاف انکار کردیا ہے اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے ارباب صاحبان کی منت سماجت کو بھی ٹھکرا دیا ہے ، جبکہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے مقابلے میں اس وقت تک پی پی پی کی جانب سے سابقہ ایم این اے پیر نور محمد شاہ جیلانی اور پیپلز مسلم لیگ کی جانب سے تیسری بار بھی سابقہ ایم این اے ڈاکٹر غلام حیدر سمیجوکو نامزدکیا گیا ہے گوکہپیر نور محمد شاہ جیلانی کی جیلانی جماعت کے مرید بھی اس حلقے میں آباد ہیں ، مگر مخدوم شاہ محمود قریشی زیادہ مستحکمامیدوار ہیں اور دونوں پارٹیوں کو سیاسی دھچکا لگ رہا ہے ، فنکشنل لیگ نے مخدوم شاہ محمود قریشی کی حمایت کردی ہے ، این اے 230کے ساتھ پی ایس 63چھاچھرو پرپی پی کے امیدوار دوست علی راہموں اور ارباب کے حامی امیدوار عبدالرزاق راہموں مد مقابل ہیں اور اس نشست پر کامیابی کیلئے وہ امیدوار ہی جیت سکتا ہے ، جس کی مخدوم شاہ محمود قریشی حمایت کرینگے پی ایس 62بھی اےن اے 230کے ساتھ آتی ہے جہاں پر پی پی پی کی جانب سے مخدوم امین فہیم کے فرزند مخدوم خلیل الزماں عرف مخدوم نعمت اﷲ اور ارباب گروپ کی جانب سے ارباب خاندان کے اہم فرد اور سابقہ ضلع ناظم تھر ارباب انور مدمقابل ہیں ، جبکہ فنکشنل لیگ کی جانب سے رانا ہمیر سنگھ اور ننگر پارکر سے پی پی پی کے رہنما عبدالغنی کھوسو بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے موجود ہیں ۔ تھر کی نشست این اے 229مٹھی اور ڈیپلو تحصیلوں پر مشتمل ہے اس نشست پر پیپلز مسلم لیگ کے سربراہ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم خود امیدوار ہیں جبکہ پی پی پی شیر محمد بلالانی کو سامنے لائی ہے اس نشست پر بھی کانٹے کا مقابلہ نظر آرہا ہے کیونکہ تحصیل مٹھی پی پی کا گڑھ سمجھی جاتی ہے وہ بھی اس نشست میں شامل ہونے کی وجہ سے پی پی پی امیدوار شیر محمد بلالانی کو ووٹو ںکی بھرپور مدد ملے گی قومی اسمبلی کی اس پر دو لاکھ 64ہزار 339ووٹ ہیں ، جبکہ 82ہزار ووٹ بوگس ہونے کی وجہ سے خارج ہوچکے ہیں جس سے بھی ارباب گرو پ کو نقصان ہونے کا بڑا امکان ہے ۔ اس کے علاوہ پی ایس 60ڈیپلو پر بھی ارباب رحیم امیدوار ہیں جہاں پر پی پی پی کی جانب سے سابقہ ایم پی اے انجینئر گیان چند کوٹکٹ دیا گیا ہے اور دونوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے پی ایس 61مٹھی پر پی پی پی کی جانب سے سابقہ اقلیتی ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی پی پی پی کے مضبوط امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں جبکہ ارباب گروپ کی جانب سے ارباب خاندان کے نوجوان ارباب نعمت اﷲ کو پہلی بار نامزد کیا گیا ہے جوکہ سابق نگران صوبائی وزیر اور ارباب خاندان کے بزرگ مرحوم ارباب امیر حسن کے صاحبزادے ہیں ۔ اس کے علاوہ اربابوں کے سابقہ اتحادی اور موجودہ مخالف فنکشنل لیگ کے امیدوار لاناہمیر سنگھ سوڈھو بھی مٹھی کی کے صوبائی حلقے سے امیدوار ہیں اور وہ سنجیدگی سے بھاگ دوڑ کررہے ہیں جس کی وجہ سے ٹھاکر برادری کا ووٹ پہلی بار اربابوں سے ٹوٹ رہا ہے اس طرح ایک بڑا نقصان ارباب کے امیدوار کو ہورہا ہے جبکہ ابھی تک ارباب اور فنکشنل لیگ میں کوئی بھی اتحاد نہیں ہوسکاہے او ر نہ ہی ارباب کی پارٹی سندھ میں 10پارٹیوں کے اتحاد میں شامل ہے ۔ اس صورتحال میں ضلع تھر میں ہندو ٹھاکر برادری کا ووٹ بھی خاصی اہمیت اختیار کررہا ہے اور تھر میں پہلی بار ارباب رحیم کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے اور رانا ہمیر سنگھ کے فنکشنل لیگ میں آنے کے بعد تھر میں فنکشنل لیگ تیسری قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے دونوں سیاسی فریقین کی نیندیں اچاٹ کردی ہیں آنے والے چند دنوں میں سیاسی صورتحال مزید واضح ہوگی ۔ سب سے بڑا مسئلہ اس علاقے میں آباد پگارو ، امین فہیم ‘شاہ محمود قریشی اور جیلانی کے مریدوں کیلئے سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے مرشدوں کو ووٹ دیں یا ان سیاسی جماعتوں کو جن سے وہ وابستہ ہیں ۔