انتخابی سیٹوں پر ہارے ہوئے گھوڑوں کا انتخاب

احسان الحق ........ رحیم یار خان
عام انتخابات کے موقع پر بہترین امیداروں کا انتخاب ہی کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیے انتخابات میں کامیابی کا آغاز سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے برعکس رحیم ےار خان میں مسلم لیگ (ن) نے بیشتر سیٹوں پر ہارے ہوئے گھوڑوں کا انتخاب کر کے آمدہ انتخابات میں شکست کی طرف اپنا سفر شروع کیا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی نے بہترین انتخابی حکمت عملی اور بہترین امیدواروں کا چناﺅ کر کے اس وقت ضلع بھر میں ایک بار پھر کلین سویپ کی پوزیشن پر آچکی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کو ضلع سیاست میں سب سے بڑا دھجکا اس وقت لگا جب این اے 195اور اس کے ذیلی صوبائی حلقوں میں مسلم لیگ ن کو پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم مصفطیٰ محمود کے مقابلے میں کوئی امیدوار نہ مل سکا جبکہ پی پی 293پر سینیٹر چوہدری جعفر اقبال نے اپنے لندن پلٹ بیٹے عمر جعفر کو جو شاید زندگی میں پہلی بار رحیم ےار خان آئے ہیں کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دے کر جبکہ پی پی 294پر 2008کے عام انتخابت میں ریکارڈ ووٹوں سے شکست کھانے والے محمود الحسن چیمہ کو ایک بار پھر مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دے کر شاید این اے 196سے مسلم لیگ ن کے مضبوط امیدوار میاں امتیاز احمد کے لیے غیر معمولی وسائل پیدا کر دیے ہیں جس کے باعث اب اس نشست پر ان کی جیت پر بھی سوالیہ نشان نظر آ رہا ہے ۔ مسلم لیگ ن نے حلقہ این اے 197پر بھی ایک مضبوط امیدوار رئیس منیر احمد کی جگہ 2008کے عام انتخابات میں بائی چانس جیتنے والے ارشد خان لغار ی کو ایک بار پھر ٹکٹ دے دیا ہے جسے کسی بھی صورت میں دانشمندانہ فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب کہ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی میں این اے 192سے ٹکٹ نہ ملنے پر سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی جانب سے کی جانے والی بغاوت پر اپنی بہترین حکمت عملی سے قابوپا کر ضلع بھر میں ایک ٹیم ورک کی صورت میں انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے توقع ہے کہ 2002ءاور2008ءکی طرح پیپلز پارٹی ایک دفعہ بھر ضلع بھر میں بیشتر نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے ۔
رحیم ےار خان کی ضلعی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) اس وقت ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے کھڑے ہونے والے امیدوار ہی مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی ہار یا جیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔جبکہ پی پی 293سے چوہدری آصف مجید کو تحریک انصاف کا ٹکٹن ملنے کی صورت میں وہ یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پی ٹی آئی میں حال ہی میں شامل ہونے والے این اے 194سے امیدوار مخدوم عمادالدین اور صادق آباد سے چوہدری شوکت داﺅد بھی اپنی نشستیں آسانی سے جیتنے کی پوزیشن میں نظر آر ہے ہیں جبکہ شہر کے آرائیں برادری کے تگڑے گھرانے سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد شریف آف چک 40کی جانب سے پی پی 294پر چوہدری محمد شفیق کی حمایت کے بعد ان کی کامیابی کے امکان بھی کافی روشن دکھائی دے رہے ہیں ۔