گوادر۔۔ کاشغر، ایکسپریس وے ....حکومت کو اس اہم مسئلہ پر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں جنم لینے کا احساس محرومی ختم کرنا ہوگا

محمد یا سین خان
 خیبر پختونخواہ کی تمام سیاسی جماعتیں وفاقی حکومت کی جانب سے گوارد کاشغر روٹ میں مبینہ طور پر خیبر پختونخواہ کو نظر انداز کرنے پر سراپا احتجا ج ہیں، اگرچہ حکومتی سطح پر روٹ کی بتدیلی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تاہم پھر بھی بعض زمہ دار حلقوں کی جانب سے سینیٹ اور دیگر فورمز پر روٹ کی تبدیلی کے حوالے سے آن دی ریکارڈ بیانات نے اس مسئلہ کو سنگین بنا دیا، گوارد۔ کاشغر روٹ میں مجوزہ تبدیلی کی افواہوں نے نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ خیبر پختونخواہ، بلوچستان کے پشتون علاقہ کے باسیوں میں احساس محرومی کو جنم دینا شروع کردیا ہے، پاک چائینہ اقتصادی روٹ میں صرف سڑک ہی نہیں بلکہ ریلوے ٹریک اور آئل گیس پائپ لائن بھی شامل ہے ،45ملین ڈالر کے تخمینہ لاگت کے حامل اس عظیم منصوبہ کو وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جانب سے گیم چینجر کا نام دیا گیا، نیشنل ہائی وے کے ماہرین کے مطابق ابتدائی طور پراس اقتصادی راہداری منصوبہ کے لیئے تین روٹ تجویز کئے گئے تھے، جن میں ایک کو مشرقی روٹ،دوسرے کو مغربی روٹ اور تیسرے کو متبادل روٹ کانام دیا گیا، ماہرین کے مطابق مشرقی روٹ گڈانی، خضدار،رتو ڈیرو، سکھر، ملتان،لاہور، اسلام آباد، حویلیاں،کے راستے شاہراہ قراقرم سے منسلک ہوکر چین تک جائے گا، مغربی روٹ آواران، رتوڈیرو،نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی،ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسما عیل خان، سوات کے راستے قراقرم ہائے وے سے منسلک ہو کر چین تک جائے گا جبکہ تیسرا متبادل روٹ تربت، پنجگور، قلات، کوئیٹہ، ژوب، ڈیرہ اسما عیل خان، میانوالی کے راستے شاہراہ قراقرم سے منسلک ہوگا، تاہم ان تینوں راستوں میں نہ صرف تبدیلیاں کی گئیں بلکہ اب طلاعات یہ ہیں کہ مشرقی اور مغربی روٹ کے کچھ حصوں کو منسلک کرکے متبادل روٹ کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے جس سے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے اضلاع کے عوام نے ترقی کا جو خواب دیکھا تھا وہ چکنا چور ہوتا نظر آرہا ہے ، جس پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی تمام سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج ہیں ۔ جمعیت علمائے اسلام کے حلقوں کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے 1995ءمیںچین کے دورہ کے دوران وہاںکی قیادت کوگوادرسے ہونےوالی تجارت کیلئے ڈےرہ اسماعےل خان کے راستے شاہراہ کی تجویزپےش کی تھی، اور یہ واضح کیا تھا کہ ڈیرہ اسما عیل خان کے زریعے قائم ہونے والا روٹ تجارتی مقاصد کے لیئے انتہائی مفید ہے،اور ایک ہزار کلو میٹر کا فاصلہ بھی اس سے کم ہو جائے گا، تاہم جون 2014میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے سینیٹ کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسما عیل خان اور بلوچستان کے اضلاع سے منسلک منصوبہ کی لاگت چونکہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس روٹ پر کام شروع نہیں ہو سکتا،یہ بھی کہا گیا کہ امن و امان کی صورت حال کی ابتری کو جواز بنا کر اس روٹ کو نامناسب قراد دیا جائے جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی گئی کہ چین کی حکومت کے ایماءپر روٹ میں تبدیلی کی گئی، جس پر سینیٹ میں باقائدہ احتجاج کیا گیا،بعد ازاں اس ضمن میںمولانا فضل الرحمان نے چین کے سفیرسے ملاقات کی اور اپنی تجویز کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ گوادرکے راستے تجارت کیلئے گوادر‘بلوچستان‘ژوب‘درابن‘ڈےرہ اسماعےل خان ‘ چشمہ‘ میانوالی سڑک تعمیرکی جائے۔جسکوشاہراہ ریشم کے ساتھ منسلک کردیاجا ئے، زرائع کے مطابق چین کے سفیر کا یہ موقف تھا کہ روٹ کی تبدیلی میں چین کی حکومت کا کوئی کردار نہیں بلکہ یہ پاکستانی انتظامیہ کی صوابدید پر ہے کہ وہ کس روٹ کو ترجیح دیتے ہیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین جو جس نقشہ پر بریفنگ دی گئی تھی اس کے مطابق مذکورہ راہداری کو ایکسپریس وے کے نام سے بنایا جائے گا جوہزارہ، پنڈی گھیپ، فتح جنگ، کالا باغ، میانوالی، ڈیرہ اسما عیل خان، درازندہ، شیرانی، ژوب،قلعہ سیف اللہ، کوئیٹہ، خضدار سے ہوتے ہوئے گوادر تک جائے گی، جبکہ ہزارہ سے آگے اس کو شاہراہ ریشم سے منسلک کردیا جائے گا،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاک چائینہ اقتصادی راہداری منصوبہ میں خیبر پختونخواہ کو نظر انداز کرنے سے منصوبہ اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھے گا، خیبر پختونخواہ سے روٹ گذارنے سے جہاں پاکستان کی معیشت پر مثالی اثرات مرتب ہوں گے وہیں چین کو بھی مڈل ایسٹ تک آسانی سے رسائی ملے گی ، وفاقی حکومت پر ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم اس روٹ میں کوئی تبدیلی یا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،مولانا فضل الرحمان نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی قیادت میں ملنے والی حکومتی ٹیم پر واضح کردیا ہے کہ کنڈل سے ژوب تک ڈیرہ اسما عیل خان میں موٹر وے تعمیر کردیا جائے جس کو میانوالی سے چشمہ کے مقام پر ایک علیحدہ پل کے زریعے کنڈل کے مقام پر ڈیرہ اسما عیل خان سے لنک کردیا جا ئے گا اور ژوب سے سڑک کوئیٹہ کے ساتھ شاہراہ سے منسلک ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت حویلیاں۔ہزار ہ موٹر وے اور خنجراب موٹر وے کا حصہ تعمیر کرسکتی ہے تو پھر خیبر پختونخواہ میں کنڈل سے ژوب تک تقریبا نوے یا سو کلومیٹر کا حصہ تعمیر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ کا مظاہر ہ کیا جا رہا ہے جس پر وفاقی حکومت نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ کنڈل سے ژوب تک شاہراہ کی فوری طور پر فزیبلیٹی تیار کرکے اس پر کام شروع کیا جا ئے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں شاہرات کا جال جتنا بھی زیادہ بچھایا جائے گا اس سے عوام کو سہولت ہو گی اور ہم کسی مخصوص علاقہ میں سڑک بنانے کے مخالف نہیں ہیں ، حکومت پورے پاکستان میں عوام کو سہولیات دے تاہم خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور ڈیرہ اسما عیل خان کو ترقی کے حق سے محروم رکھنے کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ کاشغر گوادر روٹ میں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان روٹ سے چین کو ہمارے ان دو صوبوں سے مڈل ایسٹ تک رسائی کے چھ گیٹ وے میسر ہوں گے، چائینہ اس خطہ میں تجارت کے مقصد کے تحت آرہا ہے اور اسے تجارت میں فائدہ تب ہی ہوگا جب اس کو مڈل ایسٹ تک چھ گیٹ وے میسر ہوں گے اور وہ گیٹ وےز پشاور سے جمرود ۔جلال آباد،فتح جنگ ، کوہاٹ سے کرم ایجنسی کے راستے افغانستان، میانوالی سے بنوں ، غلام خان، ڈیرہ اسما عیل خان سے سیدھا وانا اور افغانستان ، ژوب سے افغانستان اور کوئیٹہ سے سپین بولدک افغانستان تک چھ راستوں سے تجارتی مال افغانستان اور وہاں سے ایران اور وسط ایشاءکی ریاستوں تک آسانی سے آ جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیئے کہ تجارتی عمل میں معدنیات کی افادیت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا، ہمارے تجویز کردہ جس روٹ پر چائینہ نے بھی اتفاق کیا تھا وہ معدنیات کی دولت سے بھرا ہوا ہے، ڈیرہ اسما عیل خان کا ضلع رحمانی خیل کے مقام پر زیر زمین گیس کے زخائر کے لحاظ سے اے ون پوزیشن پر ہے، بنوں اے ٹو، لکی مروت اے تھری پوزیشن کاحامل ہے، اسی طرح درازندہ کے علاقہ تک زیر زمین معدنیات بھرے ہوئے ہیں، ایران کی جانب جائیں تو سینڈک اور ریکو ڈیک اسی لین میں آتے ہیں ، سندھ کے علاقہ ماربل سے مالا مال ہے ، ہمارے تجویز کردہ روٹ پر زیر زمین سونا، چاندی، گیس اور دیگر معدنیات کے انبار ہیں جس سے یقینا اس خطہ میں تجارت میں دلچسپی لینے والوں کے لیئے فوائد بھی زیادہ ہیں، انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں چین کو اس خطہ میں امن و امان کی صورت حال سے ڈرا رہی ہیں ہم نے چین کی حکومت پر واضح کیا کہ حقائق اس کے برعکس ہیں، ہمارے تجویز کردہ روٹ پر امن و امان کی حالات بہتر ہے اور اس روٹ پر کوئی جنگ نہیں ہو رہی، یہاں اکادکا ناخوشگوار واقعات کو بنیاد بنا کر کسی خطہ کو امن کے حوالے سے خطرناک قرار نہیں دیا سکتا،ملتان میں الیکشن مہم کے دوران سابق وزیر اعظم کا بیٹا اغوا ءہوجاتا ہے، اسلام آباد میں گورنر پنجاب کو مار دیا جاتا ہے کیا ان واقعات کو جواز بنا کر اس علاقوں کی ترقی کا عمل نہیں روکا گیا تو ہمارے خطے میں اکا دکا واقعات کو جواز بناکر پورے خطے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا انصاف کے تقاضوں کے عین منافی ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں یقین دہانی کرادی ہے کہ مجوزہ کنڈل ، ژوب شاہراہ پر کام شروع کیا جائے گا اور اس کو کاشغر ، گوادر شاہراہ سے لنک کیا جائے گا ، کیو نکہ اس سے پورے خیبر پختونخواہ کی ترقی ممکن ہے ، دوسری جانب خیبر پختونخواہ کی تمام سیاسی جماعتوں میں پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں اس بات کاا علان کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخواہ کو نظر انداز کیا گیا تو صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس مسئلہ پر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا اور اعلان کیا کہ اگر وفاق نے خیبر پختونخواہ کے ساتھ زیادتی کی تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے اور پورے صوبہ کے عوام اسلام آباد میں جمع ہوں گے، انہوں نے کہا کہ روٹ تبدیل کرنے سے خیبر پختونخواہ کے عوام میں نہ صرف مایوسی آئے گی بلکہ ملک کا بھی نقصان ہوگا، مسئلہ کی سنگینی پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسما عیل خان میں اپنے آبائی گاﺅں عبدالخیل میں انتیس جنوری کو پریس کانفرنس کی اور کہا کہ پاک چائنہ تجارتی روٹ میں ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے اضلاع کو نظر انداز کرنے کی کس صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اس مسئلے کے لئے اگر ضرورت محسوس کی گئی تومیں خود چین کا دورہ کروں گا ، خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے مذکورہ روٹ کی تبدیلی پر صوبائی حکومت کی جانب سے بھر پو ر احتجاج کا اعلان کیا ہے، اسمبلی میں قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے جس میں وفاق پر واضح کیا گیا کہ ہم یہ زیادتی برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ صوبہ کے عوام نے تحریک انصاف کو صوبے کے حقوق کے دفاع کا مینڈیٹ دیا جس کی بھرپور نگہبانی کی جائے گی