پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب میں بغاوت کا سامنا

 پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب میں بغاوت کا سامنا

راؤ شمیم اصغر

پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم شہاب الدین کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور پیپلز پارٹی ملتان کے صدر خورشید احمد خاں کے انتقال کے بعد پارٹی عہدیداروں کے مابین اختلافات کھل کرسامنے آ گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ملک عامر ڈوگر جو پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل ہوا کرتے تھے وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں گئے تو سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے معتمد خاص ڈاکٹر جاوید صدیقی کی تقرری کی گئی تھی۔ ڈاکٹر جاوید صدیقی اس تقرری کے فوراً بعد مخدوم جاویدہاشمی اور ملک عامر ڈوگر کے مابین قومی اسمبلی کی نشست این اے 149 پر ضمنی الیکشن میں جھونک دیئے گئے تھے لہٰذا ان کی تقرری پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں پارٹی کارکنوںنے اس تقرری کو ہضم کر لیا تھا لیکن اب جبکہ مخدوم شہاب الدین عہدہ چھوڑ گئے یا ان سے مخدوم احمد محمودکو ایڈجسٹ کرنے کیلئے خالی کروا لیا گیا ہے تو ڈاکٹر جاوید صدیقی کی تقرری پر بھی انگلیاں اٹھنے لگ گئی ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پارٹی کو شدید انتشار اور بغاوت کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی ملتان کے صدر خورشید احمد خاںکے انتقال کے بعد سینئر نائب صدر رانا نیک محمدزاہدکو قائم مقام صدر بنایا گیا لیکن پھر انہیں ہٹا کر ایم سلیم راجہ کی تقرری عمل میں لائی گئی ۔ ممکن ہے ایم سلیم راجہ کی تقرری بھی ہضم کر لی جاتی لیکن جب انہوں نے نچلی سطح پرتقرریوں کا آغاز کیا تو پارٹی میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی اور پھر باغی ٹولہ متحد ہوتا چلا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تقریباً تمام پرانے عہدیدار بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ ملتان کی سطح پر ایک ورکرز اتحاد گروپ کافی عرصے سے موجود ہے جو پارٹی کے اندر پریشر گروپ کا کام کرتا رہا ہے۔ اب اس ورکرز اتحاد گروپ نے کھل کرنئے عہدیداروں اور تقرریوں کی مخالفت شروع کردی ہے۔ اس گروپ کا موقف ہے کہ مرحوم خورشید احمد خان کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق سینئر نائب صدر رانا نیک محمد زاہد ہی قائم مقام سٹی صدر ہیں۔ ان کی جگہ ایم سلیم راجہ کی تقرری غلط ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ایم سلیم راجہ کا تحریری بیان بھی سامنے آ چکا ہے کہ ان کی تقرری پارٹی کے جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جاوید صدیقی نے کی ہے۔ انکا یہ الزام بڑا دلچسپ ہے کہ انکے مخالف وہ لوگ ہیں جن کا تعلق ناہید خان گروپ سے ہے جو اس وقت اپنی پارٹی بنا چکی ہیں۔
ورکرز اتحاد ایم سلیم راجہ کے اس بیان کو مسترد کر چکا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایم سلیم راجہ کی تقرری تو مخدوم احمد محمودکے جنوبی پنجاب کے صدر بننے سے بھی پہلے ہو چکی تھی اس پر ڈاکٹر جاوید صدیقی کو بھی بیان جاری کرنا پڑا کہ پارٹی کے قوائد ضوبط کے مطابق شہری عہدیداروں کی تقرری صوبائی صدر کرتا ہے جنرل سیکرٹری کسی عہدیدار کو تعینات کرنے یا تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ ایم سلیم راجہ کی بطور قائم مقام سٹی صدر تقرری جنوبی پنجاب کے سابق صدر مخدوم شہاب الدین نے کی تھی اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ یونین کونسل کی سطح پر تین ماہ کے اندر تنظیم نو کی جائے جب یہ کام مکمل ہو جائے گا تو شہر کے سینئر عہدیداروں کی مشاورت سے صوبائی اور شہری حلقوں کی تنظیم نو کی جائے گی۔ اس تضاد بیانی کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے اور ملتان شہر کے متعدد سینئر عہدیداروں جن میں سینئر نائب صدر رانا نیک محمد زاہد‘ ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ایم افضل‘ ڈپٹی سیکرٹری انسانی حقوق ونگ پنجاب میر احمد کامران مگسی‘ پیپلز یوتھ پنجاب کے سابق جنرل سیکرٹری کنور زاہد احمد خان‘ زونل صدر محمد حفیظ جاوید‘ رانا قدیر الحسن حاجی محمد اکرم انصاری‘ شمیم قریشی‘ عبداللطیف انصاری‘ شبیر حسین علوی اور محمداسلم کوڈو کئی دیگر پرانے کارکنوں نے ایک اجلاس میں واضح اعلان کر دیا ہے کہ کارکنوں پر فیصلے مسلط کئے گئے تو انہیں قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جاوید صدیقی اور ایم سلیم راجہ کو تقرریوں کا کوئی اختیار نہیں ہے انہیں تنظیم نو کے نام پر پارٹی کے مختلف عہدیداروں اور کارکنوں کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان عہدیداروں نے ڈاکٹر جاوید صدیقی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ جو شخص ضمنی الیکشن میں اپنی ضمانت ضبط ہونے سے نہیں بچا سکا پارٹی کو کیسے بچائے گا۔ ان عہدیداروں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری تنظیم کی صورتحال کا نوٹس لیں۔ اس سارے منظر سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پارٹی قیادت نے فوری طورپر مداخلت نہ کی اور صورتحال کو نہ سنبھالا تو ملتان میں ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی کو چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں اور یہ الزام سچ ثابت نہ ہو جائے کہ ناہید خان کے ایماء پر انتشٰار پھیل رہا ہے۔
جنوبی پنجاب میں نااہلی کیسوں کی بازگشت میں بھی تیزی آ گئی ہے صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالوحید آرائیں کی نااہلی اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے بحالی پر ملتان شہر میں جشن کا سماں ہے۔ درجنوں مقامات پر مٹھائیوں کی تقسیم کے علاوہ اسلام آباد سے ملتان پہنچنے پر پرجوش خیرمقدم کیا گیا۔ چودھری عبدالوحید ارائیں نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے سابق گورنرپنجاب چودھری سرور سے اپنی لاتعلقی کا اعلان یہ کہہ کر کیا کہ چودھری سرور بے وفا نکلے ان کے ساتھ تعلق ختم کردیا ہے۔ ان کے ساتھ دوستی پارٹی کے ناطے تھی انہوں نے احسان فراموشی کی ہے اس لئے اب انہیں چھوڑ دیا ہے۔ چودھری سرور نے برادری کی بھی ناک کٹوا دی ہے۔ ان میں ذرا سی بھی اخلاقی جرأت ہوتی تو وہ گورنری کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی کنارہ کش ہو جاتے۔ صوبائی وزیر کی بحالی پر تحریک انصاف کے رہنما رانا عبدالجبار کی جانب سے بڑا دلچسپ تبصرہ سامنے آیا ہے ان کا کہنا ہے کہ جشن منانے والے چودھری عبدالوحید آرائیں کو صرف تین ہفتے کی مہلت ملی ہے تین ہفتوں کے بعد سپریم کورٹ کو نااہلی بارے مکمل دستاویزات ملیں گی تو پھر سپریم کورٹ کی جانب سے بھی ان کے خلاف فیصلہ آجائے گا۔
دوسری جانب سابق سپیکر پنجاب اسمبلی قومی اسمبلی کے رکن سعید احمد خان منہیس کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں دائر کیس خارج کر دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر این اے 170 میلسی سے کامیاب ہونے والے سعید احمد خان منہیس کے خلاف ان کے حریف تحریک انصاف کے رہنما اورنگ زیب کھچی نے انتخابی عذر داری دائر کی تھی جسے خارج کر دیا گیا ہے اس پر پوری تحصیل میلسی اور خصوصاً ٹبہ سلطان پور میں زبردست جشن منایا گیا۔ سعید احمد خان منہیس نے اس موقع پر کہاکہ منہیس خاندان کبھی چور دروازے سے سیاست میں نہیں آیا ہمیشہ عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے دھاندلی کا الزام عائد کرنے والوں کیلئے ٹریبونل کا فیصلہ ہی کافی ہے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ این اے 148 ملتان سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے رکن عبدالغفار ڈوگر کے خلاف بھی کیس ان دنوں زیر سماعت ہے۔