پیپلز پارٹی میں گروپنگ کرنیوالے ناکام ہو گئے

تحریر -احسان الحق
ihsan.nw@gmail.com
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ کے گزشتہ ہفتے کے دوران دورہ رحیم یارخان کے موقع پر جہاں انہوں نے ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے 63بے سہارا لڑکیوں کی اجتماعی شادی کی ایک تقریب میں مہمان خصوصی کی حےثیت سے شرکت کی وہیں انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے نومنتخب ڈویژنل کوآرڈینیٹرچوہدری جاوید اقبال وڑائچ کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران نوازحکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے ایک مکمل ناکام حکومت قرار دیا لیکن انہوں نے مڈٹرم انتخابات کی حمایت نہ کرتے ہوئے مڈٹرم انتخابات کو جمہوریت کش قرار دیا تاہم انہوں نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں جاری دھرنوں کے دوران جس پارلیمنٹ نے نوازحکومت کو بچایا تھا اب نوازشریف اسی پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے ذریعے ملک میں نئے ٹیکسز کا براہ راست نفاذکررہے ہیںجس کے جمہوریت پر منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں - پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے نوازحکومت کی خارجہ پالیسی کو انتہائی ناکام قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار نوازشریف کے ساتھ ساتھ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کو بھی قرار دیا اور کہا کہ یہ "بابے" اب عمر کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں جہاں اس قسم کے معاملات چلانا اب ان کے بس کی بات نہیں ہے انہوں نے اس موقع پر یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ انہیں ایم کیو ایم کے حکومت شمولیت بارے ابھی تک پارٹی نے اعتماد میں نہیں لیا لیکن انکے نزدیک ایم کیو ایم کا نہ سندھ حکومت میں شامل ہونے بارے پتہ چلتا ہے اور نہ ہی حکومت چھوڑنے کا ‘ اس لئے ان کے نزدیک ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کوئی نئی بات نہیںہے-انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پیپلزپارٹی نے جن امیدواروں کے سینیٹ کیلئے پارٹی ٹکٹ جاری کئے ہیں ان کی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے منظوری بھی لی گئی ہے یا نہیں انہیں اس بارے بھی کوئی پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے ذوالفقار مرزا کو پارٹی کا باغی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے ممتاز بھٹواور غلام مصطفی جتوئی بھی پیپلزپارٹی میں نئے گروپ بنانے کی کوشش کرچکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کی طرح ذوالفقار مرزا کی بھی پارٹی میں نئے گروپ بنانے بارے خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی اس موقع پر انہوں نے نواز حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ امور خارجہ میں بہتری لانے کیلئے ایک آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے تاکہ بہترین خارجہ پالیسی سامنے آنے سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر سے بہتر بنایا جا سکے انہوں نے امریکی صدر اوباما کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران ان کے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان کو اس طرح کی سفارتی ناکامیوں کا منہ نہ دیکھنا پڑے لیکن اس کیلئے نوازشریف حکومت کو اپوزیشن سے مثبت رویہ اپنانے کی ضرورت ہے -سینیٹ کے حالیہ انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کی طرف سے جنوبی پنجاب سے کسی بھی ن لیگی کو پارٹی ٹکٹ نہ دیے جانے پر انہوں نے اسے جنوبی پنجاب کے کروڑوں عوام کا استحصال قرار دیتے ہوئے اسے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے 120سے زائد ایم پی ایز کااستحقاق مجروح ہونے کے مترادف قرار دیا -انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو جب بھی پنجاب اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ملی تو وہ جنوبی پنجاب میں دو نئے صوبے بہاولپور او ملتان بنائیں گے جس سے جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیاں کم ہونے میں مدد مل سکے گی -قبل ازیں اجتماعی شادیوں کی تقریب میں انہیں اسلامک ویلفیئر سوسائٹی کے صدر چوہدری غلام کبریا کی جانب سے پنجابی پگ اور ایک شاندار تلوار کا تحفہ بھی پیش کیا گیا-
      5مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کیلئے رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن پنجاب کے سینئر نائب صدر چوہدری جعفراقبال کو پارٹی ٹکٹ نہ ملنا آج کل سول سوسائٹی اورمسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کے کارکنوں میں بھی موضوع بحث ہے اور کارکن چوہدری جعفراقبال کو سینیٹ کا پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کو کارکنوں کی توہین اور شریف برادران کی ڈکٹیٹر شپ قرار دے رہے ہیں -آپ سب کے علم میں ہوگا کہ شریف برادران کی جلا وطنی کے دوران چوہدری جعفراقبال کے خاندان کی شریف برادران کیلئے قربانیاں اور پارٹی کے ساتھ وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انہیں جس طرح نظر انداز کیا گیا اسے پارٹی میں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا-یاد رہے کہ 2013ءکے عام انتخابات سے قبل شریف برادران نے ایک معاہدے کے تحت چوہدری جعفراقبال کو سینیٹ کیلئے ہونے والے ایک ضمنی انتخاب میں سینیٹ کا ٹکٹ دیتے ہوئے انہیں 2013ءکے عام انتخابات کے بعد وفاقی وزیر بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے بدلے ان کی جگہ این اے 196سے میاں امتیاز احمد کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا تھا لیکن عام انتخابات کے بعد نہ تو انہیں وفاقی وزیر بنایا گیا اور نہ ہی اب انہیں سینیٹ کا ٹکٹ دیا جارہا ہے تاہم بعض سیاستدانوں کا خیال ہے کہ انہیں سینیٹ کے انتخابات کے بعد پنجاب یا مرکز میں کوئی اہم ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے -