میرپور ضمنی الیکشن کا دلچسپ معرکہ!

میرپور ضمنی الیکشن کا دلچسپ معرکہ!

سلطان سکندر

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
کے مصداق آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سخت جان اور رجائیت پسند سیاستدان بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے حکمران پیپلز پارٹی کے اندر اقتدار کی ساڑھے تین سال طویل کشمکش کے بعد پارٹی تبدیل کر لی ہے۔ اس دوران انہوں نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید کے خلاف اپنی اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد لانے کی یکے بعد دیگرے دو بارکوشش میں ناکامی اور فارورڈ بلاک بنانے کے اعلان پر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی مداخلت سے مایوس ہو کر دوسری بار پی پی پی کا بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دیا ہے ۔ اپنے اس فیصلے کے ذریعے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے قانونی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو کر میرپور میں ضمنی الیکشن کا دلچسپ معرکہ بھی برپا کر دیا ہے۔ وہ آزاد مسلم کانفرنس، لبریشن لیگ، پیپلز مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعد پی ٹی آئی کا صدر بننے کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں۔ پی پی پی میں وہ دوبار شامل ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور وزارت عظمیٰ میں انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا کر سردار محمد عبدالقیوم خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب ہارنے کا ازالہ کر دیا تھا۔ بیرسٹر سلطان محمود کا میرپور سے اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا 15مئی 1985ء کے بعد یہ آٹھواں تجربہ ہے۔ وہ سات انتخابات میں صرف ایک بار 1991ء میں مسلم کانفرنس کے ارشد محمود غازی کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے تھے جب وزیراعظم نواز شریف کے پہلے دور وزارت عظمیٰ میں اس وقت کے وزیر امور کشمیر سردار مہتاب احمد خان کی زیر سرپرستی مسلم کانفرنس نے ’’لینڈ سلائیڈ وکٹری‘‘ حاصل کی تھی موجودہ وزیراعظم چودھری عبدالمجید بھی پہلی بار مسلم کانفرنس کے کیپٹن (ر) سرفراز خان کے مقابلے میں ہار گئے تھے اور انتخابی دھاندلی کی صدائے بازگشت سنائی دی گئی تھی لیکن یہ الزام تو اکثر و بیشتر ہر الیکشن کے بعد عائد کیا جاتا ہے بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے آبائی حلقہ انتخاب میں ایسے وقت میں حکمران پی پی پی کو چیلنج کیا ہے جب وہ اقتدار کے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور ’’گڈ گورنس‘‘ اور کرپشن کے چرچے عام ہیں اور ضمنی الیکشن کے لئے جناح ٹائون سکینڈل ہی کافی ہے۔ بین الاقوامی میار کے شہرمیرپور کے باسی الیکٹرانک میڈیا سے خاصے متاثر ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے دھرنے کے دوران اور اس کے بعد الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر خاصی پوائنٹ سکورنگ کی ہے۔ وہ پہلی بار میرپور کی انتخابی مہم میں آئیں گے جبکہ وزیراعظم نواز شریف، آصف زرداری یا بلاول بھٹو زرداری کی آمد کا امکان نہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر نے میرپور میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود کے مقابلے میں واحد مضبوط امیدوار مسلم کانفرنس کے چودھری محمد اشرف ہیں جنہیں پی پی پی میں لانے کی کوششیں اندرون خانہ جاری ہیں۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے لئے مضبوط امیدوار سامنے لانا کارِ دارد ہے ان کے ووٹ بنک کے معاملے میں سفید پوشی ظاہر و باہر ہے۔ کانٹے دار مقابلہ صرف چودھری محمد اشرف کو مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا مشترکہ امیدوار بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے یہی 2011ء کے انتخابات کا ’’وٹو فارمولا‘‘ ہے کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک متحد اور مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک تقسیم ہو گیا تھا ۔ یہ بات جس قدر سادہ ہے اس پر عملدرآمد اتنا ہی مشکل ہے۔ پت جھڑ کے اس موسم میں تہاڑ جیل نئی دہلی میں آسودہ خاک دو کشمیری شہداء مقبول بٹ اور افضل گورو کی برسی یکے بعد دیگرے ایسے حالات میں منائی گئی جب آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت پاور پالیٹکس میں مصروف تھی لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے میں فرنٹ کے قائدین امان اللہ خان اور رفیق ڈار نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات (جسد خاکی) ان کے ورثا کے حوالے کئے جائیں۔ فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سرینگر میں رہا کیا جائے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ بھارتی سامراج نے مقبول بٹ کی طرح افضل گورو کو بھی دہلی کی تہاڑ جیل میں فروری کے پت جھڑ کے موسم میں مطالبہ آزادی کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکایا اور انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا۔ مقبول بٹ کی شہادت پر شاعر نے یہ نوحہ لکھا تھا جو افضل گورو پر بھی صادق آتا ہے:تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے