سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ جاری

راجہ منیر خان
یوں تو سینٹ انتخابات کے بعد پاکستان کا پارلیمان 5 مارچ کو مکمل ہو جائے گا جبکہ پاکستان میں جمہوری سسٹم اس وقت مکمل ہو گا جب ملک کے چاروں صوبوں آزاد کشمیر، گلگت، بلتستان میں بلدیاتی انتخابات ہوںگے ابھی تک صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب ہوئے ہیں جبکہ کے پی کے حکومت نے مئی میں بلدیاتی انتخاب کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ آزاد کشمیر سندھ پنجاب کی جانب سے ابھی تک بلدیاتی انتخابات کا کوئی واضح اعلان نہیں ہوا۔ نہ جانے صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخاب سے کیوں گھبرا رہی ہیں۔ بلدیاتی انتخاب سے تو جمہوریت مضبوط ہو گی کیونکہ وہ جمہوریت کی سیڑھی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات سے نکلنے والی قیادت قومی صوبائی یا سینٹ میں موثر کردار ادا کرکے جمہوریت کے فروغ کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس وقت ملکی سطح پر سینٹ انتخابات کی تیاریاں عروج پر پہنچی ہوئی ہیں۔ ووٹ دینے والے ممبران اسمبلی پارٹی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بارگیننگ میں مصروف ہیں یعنی یہ کہنا درست ہو گا کہ ممبران اسمبلی کی بولی لگی ہوئی ہے ۔پنجاب اسمبلی میں 11 نشستوں کے لئے 23 امیدوارمیدان میں ہیں اسی طرح سندھ سے 28 بلوچستان سے 12 نشستوں کیلئے 29 خیبر پی کے سے 39 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں دو نشستوں کیلئے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ممبران کی خرید و فروخت سے بچنے کے لئے بڑی سیاسی جماعتیں سر جوڑے بیٹھی ہیں تاکہ خرید و فروخت کے اس کلچر کو ختم کر سکیں لیکن تمام حکومتوں نے اپنے ہی ممبران اسمبلی نظرانداز کئے جانے کے باعث ناراض ہوئے ہیں جس کا عملی مظاہرہ کے پی کے اسمبلی میں آیا کہ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی نے سینٹ الیکشن میں آزاد امیدواروں کی حمایت کرکے اپنی جماعتوں سے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی قائدین ان ممبران اسمبلی کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ممبران اسمبلی وجہہ الزمان خان جن کی سیاست کا محور سردار محمد یوسف وفاقی وزیر مذہبی امور کے گرد ہے آج تک وہ جن جن جماعتوں میں گئے یہ ان کے ساتھ رہے ہیں۔ اس لئے ان کی سیاسی حیثیت صرف اور صرف وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے ساتھ ہے۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) نے سینٹ کا ٹکٹ ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلارالدین ترمذی کو جاری کیا ہے۔ وہ وفاقی وزیر مذہبی امور کے روایتی حریف ہیں اس لئے وجہہ الزمان کی بولنے کی تار اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت نہ کرنے کے پیچھے وفاقی وزیر کا ہاتھ ہے۔ واضح رہے کہ مانسہرہ سے کامیاب ہونے والے 4 ممبران صوبائی اسمبلی کا تعلق سردار یوسف گروپ سے ہے۔ اس لئے اگر یہ ممبران اسمبلی پارٹی سے غداری کرتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کو کے پی کے سے کنفرم سینٹ کی نشست ملنی تھی اس کے حاصل کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک اور بات کہ موجودہ سینٹ کے الیکشن کے لئے مسلم لیگ (ن) نے ہزارہ میں سینٹ کا ٹکٹ اپنے دو امیدواروں کو جاری کیا ہے جبکہ باقی کسی بھی جماعت نے ہزارہ کو سینٹ کا ٹکٹ نہیں دیا ایسی صورت میں اگر مسلم لیگ (ن) کے ضلع مانسہرہ کے ممبران اسمبلی نے سیاسی مخالفت کا مظاہرہ کیا تو مسلم لیگ (ن) جہاں سینٹ کی سیٹ سے محروم ہو سکتی ہے وہاں ہزارہ بھی سینٹ کی نشست سے محروم ہو گا جس کا نقصان ہزارے کو پہنچے گا جس کے لئے وزیراعظم پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اور ان ممبران اسمبلی کو اس بات کا پابند بنانا ہو گا کہ مسلم لیگی امیدوار کو ووٹ دیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ممبران اسمبلی میں مالی طور پر سب سے کمزور ترین ممبر اسمبلی کوہستان سے عبدالستار خان ہیں جنہوں نے ہمیشہ پارٹی پالیسی پر عمل کیا اور کبھی بھی پیسے کی چمک سے مرعوب ہو کر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا ہے۔ ان جیسا کردار ان مانسہرہ کے ممبران اسمبلی کو بھی اداکرنا چاہئے اور پارٹی پالیسیوں کا پابند ہونا چاہئے۔ یوں تو کے پی کے اور فاٹا میں جو امیدوار سینٹ زیادہ بولی دے گا وہی سنیٹر بنے گا کیونکہ کے پی کے اور فاٹا میں دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ کلچر ہے۔ اس کی وجہ واضح اکثریت کا نہ ہونا ہے کیونکہ کے پی کے میں کبھی بھی کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ ہمیشہ مخلوط حکومت بنی جس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ کے پی کے میں سینٹ الیکشن میں جو زیادہ بولی دے گا وہی کامیاب ہو گا کی پالیسی چل رہی ہے۔ ایسے حالات میں جمہوریت کیا مضبوط ہو سکے گی ۔ چیئرمین تحریک انصاف نے سینٹ الیکشن میں عہدیداروں، پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدواروں کو سینٹ ٹکٹ نہ دیکر جو مثال قائم کی ہے وہ قابل ستائش ہے کیونکہ دیگر جماعتوں میں بھی اگر یہ کلچر آ جائے تو اس طرح کی ہارس ٹریڈنگ رک سکے گی جس سے پارٹی میں اہلیت کے حامل مخلص لوگ بھی مستفید ہوں گے تو پارٹی کی طاقت بڑھے گی کیونکہ دیگر سیاسی جماعتوں میں اس طرح کا کلچر نہیں ہے وہ صرف انہی خاندانوں کو نوازنے کی پالیسی پر گامزن ہیں جن کا ان سے قریبی تعلق اور پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ رہنے والے خاندان ہیں ۔ اگر پارٹی کے رہنما میرٹ پر فیصلے کریںاور قربانیاں دینے والے کارکنوں کو نظرانداز نہ کریں تو پارٹیوں میں اس طرح کی توڑ پھوڑ کبھی بھی نہ ہو لیکن پاکستان میں سیاست چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہے اس لئے جسے جہاں موقع ملتا ہے اپنے فائدے کے لئے آئے روز اپنے نظریات تبدیل کرکے فائدہ اٹھا کر آئندہ بننے والی حکومت کا حصہ بن جاتا ہے جس سے پاکستان میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنے فیصلے پر کس حد تک کاربند رہتے ہیں اور ان کے ممبران اسمبلی ان کی کس حد تک لاج رکھتے ہیں یہ فیصلہ 5 مارچ کے سینٹ الیکشن میں ہو گا۔ اگر تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی صرف اپنے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں کو ووٹ دے دیتے ہیں تو یہ جمہوریت کے لئے نیک شگون ہو گا تو پھر دیگر پارٹیوں کے عہدیداروں کو ان کو تقلید کرنا پڑے گی۔ اگر عمران خان اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو پھر پاکستان میں وہی کھاﺅ اور کھانے دو کی پالیسی پر جمہوری سسٹم آئے گا۔