سونے کی تلاش میں وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی کا دورہ چنیوٹ

 سونے کی تلاش میں وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی کا دورہ چنیوٹ

 احمد کمال نظامی

رجوعہ سادات ضلع چنیوٹ کا ایک قصبہ ہے اور اس کے گردونواح کے علاقوں سے اکثر اس قسم کی خبریں آتی رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دھرتی کے سینے میں معدنیات کے خزانے چھپا رکھے ہیں۔ اس علاقے میں چھپی معدنیات کی تلاش کا کام بے نظیر بھٹو مرحومہ کی وزارت عظمیٰ کے پہلے دور میں شروع کیا گیا تھا ۔لیکن پاکستان میں 20ویں صدی کے آخری عشرے میں کھیلی جانے والی اقتدار کی آنکھ مچولی میں مصروف حکومتوں نے رجوعہ سادات کے ان زیرزمین خزانوں کو تلاش کرنے کی بالکل بھی سنجیدہ مساعی نہ ہو سکی۔ گذشتہ سال وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف نے سنجیدگی کے ساتھ رجوعہ کی تہہ میں چھپے خزانوں تک پہنچنے کا عزم کر کے اس سلسلہ میں چین اور جرمنی کی کمپنیوں سے معاہدے کئے۔ ابتداء میں وزیراعلیٰ پنجاب کو یہی بتایا گیا تھا کہ اس جگہ لوہے کے ذخائر موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے رجوعہ میں لوہے کا کارخانہ لگانے پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے گذشتہ ہفتے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف ، ملک کے معروف سائنس دان ڈاکٹر ثمرمبارک مند، چینی میٹالوجیکل کمیٹی کے نمائندوں اور رجوعہ مائنز کے جرمن کنسلٹنٹس سمیت ملک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو بھی سائٹ پر منعقدہ تقریب میں مدعو کیا گیا ۔ نوائے وقت فیصل آباد کے بیوروچیف کی حیثیت سے راقم الحروف بھی اس تقریب میں شریک تھا۔ تقریب کے دوران زیرزمین معدنیات کے نمونے ملنے پر جن امکانات کا ذکر کیا گیا اور جن خزانوں کے ملنے کی نوید سنائی گئی اس کے مطابق رجوعہ سے اڑتیس میل تک کے ایریا میں لوہے کے علاوہ تانبے اور سونے کے ذخائر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف اس جگہ لوہے کی بڑی مقدار میں دریافت کی خوشخبری پر آئے تھے لیکن انہیں اس سرزمین کے نیچے تانبے اور سونے کی موجودگی کا بتایا گیا تو وہ بہت حد تک جذباتی ہو گئے۔ تقریر کرتے ہوئے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ان کے لہجے میں اپنے رب کی ممنونیت کا احساس نمایاں ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوہے کی تلاش میں آئے تھے اللہ نے ان کا دامن تانبے اور سونے سے بھر دینے کی نوید سنا دی ہے۔ انہوں نے اپنے اس کرب کا اظہار بہت زیادہ دلسوزی سے کیا جو انہیں الیکشن 2013ء کے بعد اقتدار ملنے پر ملک کا خالی خزانہ ملنے پر محسوس ہوا تھا۔ ملک کے عوام کو معلوم ہے کہ پیپلزپارٹی نے اپنے اقتدار کے آخری چار پانچ مہینوں میں قومی خزانے کو اپنے نمائندوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے نام پر کس بے رحمی سے استعمال کیا تھا۔ خود وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے آدھا قومی خزانہ اپنے حلقہ انتخاب کے ترقیاتی کاموں اور اپنے پارٹی مقاصد کی تکمیل کے لئے ریورڑیوں کی طرح بانٹ دیا تھا۔ انہیں قومی خزانے کی اس طرح بربادی کا ثمر یہ ملا کہ ان کے اپنے حلقہ کے عوام نے انہیں الیکشن میں مسترد کر دیا اور آج کل وہ نیب کو پاکستان بھر سے سب سے زیادہ مطلوب آدمی ہیں۔ میاں محمد نوازشریف نے ملک میں توانائی کے بحران اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کو یاد کرتے ہوئے نہایت کرب آمیز لہجے میں کہا کہ ان کو اقتدار میں آنے پر جو قومی خزانہ ملا اس میں ملک کے اندر ایک بھی پاور پلانٹ لگانے کی رقم موجود نہیں تھی۔ ’’رینٹل پاور پلانٹس‘‘ کے نام پر سرکاری خزانے کو لوٹ کر ملک میں کرپشن اور اقربا پروری کو رواج دیا گیا۔ لیکن ایک بات سب جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف کے سیاسی محالف بھی ان پر ملک کو دانستہ نقصان پہنچانے کا الزام عاید نہیںکر سکتے۔لہٰذار جوعہ سادات میں سونے اور تانبے کے ذخائر ملنے کی نوید پر ان کے حقیقی جذبات ان کی زبان پر آ گئے اور انہوں نے پوری قوم کے سامنے اعتراف کر لیا کہ ان کی حکومت بجلی کی لوڈشیڈنگ کی کمی کے لئے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ خزانہ خالی ملا اس لئے بجلی کی پیداوار کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔ سونے، تانبے اور لوہے کے ذخائر کی دولت زمین کی تہوں میں سے ابھر کر سامنے آئے گی تو وہ سب سے پہلے اس سے ملک کے اندھیرے ختم کرنے کے لئے زیادہ زیادہ بجلی گھروں کی تنصیب کریں گے اور دوسرا اہم ترین کام یہ ہو گا کہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے سے قرضوں کی شکل میں بار بار بھیک مانگنے کا کلچر ختم کر کے اس ملک کی خوشحالی او خو مختاری کوسب کے سامنے واپس لائیں گے۔ کیونکہ کشکول توڑنا اور ملک کو سنوارنا ان کا دیرینہ خواب ہے۔
چنیوٹ میں تانبے کے ذخائر ایک بہت بڑی دولت ہے کہ اس وقت عالمی منڈی میں تانبے کی قیمت پانچ ہزار ڈالر فی ٹن اور لوہے کی ایک ہزار ڈالر فی ٹن ہے اور چونکہ سونے اور چاندی کے ذخائر ملنے کی بھی نوید ہے اور سونا چاندی تو پھر سونا چاندی ہے۔ چنیوٹ کی زمینوں میں چھپے خزانوں سے پہلے جنرل مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ریکوڈک کے ذخائر کی موجودگی کے شواہد نے بھی پاکستان کے دروازے پر خوشحالی کی ایک دستک ضرور دی تھی لیکن ہم بدقسمت قوم ہیں کہ آج امریکہ اور بھارت سمیت دنیا کی تمام تر طالع آزما قومیں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی مذموم کوششوں میں لگی ہوئی ہیں ۔ ہم مالیاتی اداروںسے بڑی بڑی رقوم لے کر نام نہاد ترقیاتی کاموں میں ان خزانوں کی بربادی میں مصروف ہیں۔ اگر ان رقوم سے ہم بلوچستان سے معدنیات نکالنے کا سسٹم شروع کر لیتے تو ہمارے لئے کشکول توڑنا بہت پہلے ممکن ہو جاتا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے فوراً بعد قوم کو تھرکول کے حوالے سے یہ مژدہ سنایا تھا کہ یہاں سے ہم پچاس ہزار میگاواٹ تک بجلی حاصل کر سکتے ہیں لیکن میاں نوازشریف کے موجودہ دو سال کے دوران چین، روس، ترکی اور بعض دوسرے ممالک کے ساتھ ایم او یوز سائن ہونے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہو سکا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے جمعرات 12فروری کے روز وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس، قطر اور چین سے گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لئے مذاکرات کی نوید سنا دی ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کی جانب سے طاقت کا توازن بھارت کی جانب منتقل ہو جانے سے پاکستان میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں ۔ اب پاکستان اگر توانائی بحران کے خاتمے کے لئے روسی امداد کو قبول کر لے اور چین و روس سمیت ترکی اور ایران کے ساتھ مل کر نیا بین الاقوامی سیاسی بلاک قائم کرنے کی شروعات کر دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔ پاکستان کو ایران کی طرف سے گیس کی فراہمی کے لئے گیس پائپ لائن بچھانے کے معاہدہ میں مزید مہلت مل چکی ہے۔ پاکستان اگر دسمبر 2015ء کے آخر تک بھی یہ کارنامہ سرانجام دے لیتا ہے تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں ہو گا۔ ایران ہر حال میں پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنا چاہتا ہے۔ایران، امریکہ بہادر کے دل میںکاٹنے کی طرح کھٹکتا ہے اسی لئے امریکہ اور مغربی ممالک نے اس پر پابندیاں لگا رکھی ہیں کہ جو ملک اس کے ساتھ ’’تجارت‘‘ کرے گا وہ امریکہ اور یورپی یونین کی عالمی منڈیوں سے کٹ جائے گا۔ اگر ایران کو گلے لگانا ہے تو پاکستان کو روس اور چین کے ساتھ سفارت کاری کر کے امریکہ مخالف بلاک قائم کرنا ہو گا، جس کا ایک ممبر ایران بھی ہو اور پاکستان بھی ۔ پاکستان کو اب ایک تو رجوعہ میں دریافت ہونے والے سونے، تانبے اور لوہے کے ذخائر اور دوسری طرف بلوچستان کے ریکوڈک وسائل سمیت نہایت دیانتداری سے ملک کے تمام زیرزمین خزانوں کی دریافت پر کام کرنا ہو گا اور دسرے کک بیکس اور کمشن کلچر کی صورت میں جس کرپشن نے ہماری نیتوں اور ارادوں کو دیمک لگا رکھی ہے اس دیمک سے ملک کو پاک کر کے معدنیات کی صورت میں اللہ کی طرف سے اکرام کئے گئے خزانوں سے ملک اور قوم کا مقدر سنوارنا ہو گا۔ ہماری نیتوں کا فتور ختم ہو گا تو انشاء اللہ ہم کشکول اور بجلی و گیس سے اپنے آنگنوں کے اندھیرے اور اپنی صنعتوں پر طاری جمود بھی توڑ سکیں گے۔۔۔!