سندھ میں امن، ٹارگٹڈ آپریشن کی توسیع کا فیصلہ

سانحہ شکار پور کے شہداءکے ورثاءکا کراچی مارچ
تحریک انصاف کا اہلیت کے حامل افراد کو سینٹ کی ٹکٹ دینے کا فیصلہ خوش آئند
الطاف مجاہد
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کا دورہ کراچی، ملاقاتیں اور فیصلے صوبے کے ان سیاستدانوں کے لئے امید کی کرن ہیں جو حد رجہ مایوسی کا شکار ہیں کہ صوبے بھر میں پھیلی بد امنی نے کھیت ویران اور سڑکیں سنسان کر دی ہیں سر شام ہی دیہی سندھ میں سناٹا چھا جاتا ہے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا استفسار تھا کہ ”کراچی آپریشن کے کپتانکیوں خاموش ہیں؟“ ظاہر ہے کہ وہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سے مخاطب تھے جنہیں منصب خود انہوں نے ہی عنایت کیا تھا اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار بھی صوبائی حکام کی نا اہلی کی نشاندہی کی وجہ ظاہر تھی کہ اپیکس کمیٹی نے جن 64 مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی تھی وہ ہنوز نہیں بھیجے جا سکے ہیں جنوری 2015ءمیں بھی کراچی میں 118 افراد ہلاک ہوئے پھر سندھ میں قتل و غارتگری، لوٹ مار، قبائلی تنازعات، فرقہ وارانہ اموات اور اغوا برائے تاوان سمیت بہت سے معاملات ہیں جو صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہیں سندھ اسمبلی میں واضح اکثریت کی حامل پی پی کو متحدہ کی ساتویں بار حکومت میں شمولیت کی نوید کے بعد کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے تحریک انصاف کے 4 ارکان کے استعفے منظوری کے بعد کھٹائی میں پڑ چکے ہیں فنکشنل مسلم لیگ کے 11 اور ن لیگ کے 10ارکان متحدہ ہو جائیں تو سینٹ کی ایک نشست جیتی جا سکتی ہے لیکن نواز شریف اور آصف زرداری کی مفاہمتی پالیسی کے باعث یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی اور سندھ اسمبلی میں متحدہ کے 51 اور پی پی کے 91 ارکان ہی خالی ہونے والی 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر متفقہ یعنی بلا مقابلہ کامیابی کے لئے جوڑ توڑ کر رہے ہیں جس میں کامیابی کا امکان ہے کہ فنکشنل لیگ کو پی پی نے سندھ حکومت میں وزارتیں، مشیر اور معاون خصوصی کی پر کشش پیش کش کی ہے تو ن لیگ سے سینٹ چیئرمین کے انتخابات پر بارگیننگ ممکن ہے ایسے میں پی پی کی خواہش ہے کہ اسے سندھ میں کسی مزاحمت یا مخالفت کا سامنا نہ ہو اور ن لیگ کی حمایت میسر رہے یہی سبب ہے کہ کراچی آپریشن میں میاں نواز شریف سے سندھ کے چیف منسٹر قائم علی شاہ کو کپتان نامزد کیا تھا اب کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کا سلسلہ دیہی سندھ تک وسیع کرنے کی منظوری دی گئی ہے یہ فیصلہ وسطی، زیریں اور بالائی سندھ کے عوام کو تحفظ کا احساس دلائے گا بشرطیکہ مطلوبہ اہداف حاصل ہو سکیں قبائلی تنازعات، خونریزی، فرقہ وارانہ کشیدگی سب صوبے کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں ایسے میں سانحہ شکار پور کے شہداءکے ورثاءکا کراچی مارچ اور دیہی سندھ میں گنے کے آباد گاﺅں کا احتجاج بھی ایک بڑا ایشو ہے چیف منسٹر ہاﺅس کراچی پہنچنے والا یہ قافلہ جس کا شکار پور، خیر پور، نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، مٹیاری، حیدر آباد، جام شورو اضلاع میں پرتپاک استقبال ہوا اور قافلے کے شرکاءنے شاہ لطیف بھٹائی کے مزار پر بھی حاضری دی قافلے کے قائدین میں سے ایک علامہ مقصود ڈومکی کا نوائے وقت سے کہنا تھا کہ ہم مزارلطیف اور مزار قائداعظم پر حاضری دے کر بتانا چاہتے ہیں کہ یہ دو شخصیات نے جس امن رواداری، برداشت اور ہم آہنگی کی بات کی تھی ہم اس کے پر چارک ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے درجنوں لاشیں اٹھائیں لیکن شکار پور میں امن و قائم رکھا سندھ میں امن کے لئے میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کی کوششیں اپنی جگہ خود قائم علی شاہ اور آصف علی زرداری کا ایجنڈہ کیا ہے یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ وہ اس صورتحال کو کس طرح کنٹرول کرنا چاہتے ہیں کیونکہ سندھ پولیس میں بڑھتے ہوئے سیاسی اثرورسوخ نے اب اعلیٰ قیادت کو بھی فکر مند کر دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ سیاست سے بالاتر ہو کہ فیصلے کرنے ہوں گے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کا ناسور کب ختم ہوگا؟ اور سندھ کے صوفیانہ سماج میں رواداری اور برداشت کے کلچر کی شناخت کب بحال ہوگی؟ کیونکہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے اور ان کی بیخ کنی و سرکوبی کے دعوے زمینی حقیقت کے طور پر ثبوت چاہتے ہیں جب تک عوام کو تحفظ کا احساس نہیں ہوتا وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورےبے سود ثابت ہوں گے۔