دہشت گردی کے سائے منڈلانے لگے

تحریر: مظہر علی خاں لاشاری
آپریشن ضرب عضب کے بعد جہاں پورے ملک میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا ہے تو وہاں پر شمالی وزیرستان، پشاور، افغان سرحد اور دیگر علاقوں سے وہاں کے رہائشی لوگوں نے ملک بھر میں مختلف شہروں کا رخ کر لیا ہے خصوصا جنوبی پنجاب کے شہروں میں شامل ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، جام پور، علی پور، بہاول پور، ملتان وغیرہ میں تو پٹھانوں کی تعداد لاکھوں میں بڑھ چکی ہے چونکہ افغان اور پٹھان دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں صورتیں اور زبان ایک ہونے کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں رہنے والے پٹھانوں کو کوئی بھی شناخت نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے افغانی بھی بلا روک ٹوک ملک کے کسی بھی علاقے میں داخل ہو کر اپنے ڈیرے جما رہے ہیں جس سے مقامی لوگ یقیناََ خوف میں مبتلا ہو رہے ہیں ڈیرہ غازیخان جو کہ جنوبی پنجاب کا دل شمار ہوتا ہے یہاں پر کوئٹہ اور شمالی وزیرستان سے ہجرت کر کے آنے والے ہزاروں قبائل کی بڑی تعداد نے پناہ لی ہوئی ہے اور مقامی لوگوں کا استحصال کرتے ہوئے بھاری کرایوں پر دکانیں بھی حاصل کر کے ہوٹل بنا رہے ہیں اور کپڑے کا کاروبار کر رہے ہیں یہاں پر مقامی مالکان کا لالچی بھیانک کردار بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلاک نمبر 11 جو کہ اب رانی بازار میں تبدیل ہو چکا ہے اور اب اسی بازار میں مقامی دکان دار بے روزگار ہو رہے ہیں جن کو بے روزگار کرنے میں یقیناََ ان افغانیوں کا ہاتھ ہے جو کہ زائد کرایہ کے لالچ میں بلاک نمبر11 کے مالکان دکانوں سے دکانیں کرائے پر حاصل کر رہے ہیں اگر یہی سلسلہ رہا تو آئندہ چند سالوں میں مقامی دکاندار اور دیگر کاروبار سے وابستہ لوگ باہر ہونگے اور افغان یہاں کے مالک ہونگے اس کے ساتھ دیگر اداروں سے وابستہ سرکاری اہلکار بھی ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور اس طرح کی صورتحال اب جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی شروع ہو چکی ہے جن میں جام پور، راجن پور، علی پور کے علاقے بھی زد میں آچکے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے مقامی لوگ بھی ان کی بڑھتی ہوئی آبادی سے بہت پریشان ہیں اور اب اگر یہی صورتحال رہی تو یقیناََ جنوبی پنجاب بری طرح سے دہشت گردی کی لپیٹ میں آسکتا ہے اور پھر مقامی لوگوں کا اپنا مخصوص رہن سہن اور ثقافت ہے جنوبی پنجاب کے اکثر اضلاع میں سرائیکی اور صدیوں پہلے ان علاقوں میں آنے والے مختلف بلوچ قبائلی آباد ہیں جو اب زیادہ تر سرائیکی ز بان بول کر اور اس رہن سہن کا حصہ بن کر اپنی شناخت قائم کئے ہوئے ہیں ڈیرہ غازی خاں میں افغانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے لیکن بے خبر ضلعی انتظامیہ ابھی تک اس حساس ایشو پر غور نہیں کر رہی ۔ اسی شہر میں اور گردونواح کی آبادیوں میں یہ پٹھان تیزی سے شامل ہو رہے ہیں جبکہ شہر میںپرانا اڈا جی ٹی ایس کی انتہا ئی قیمتی اراضی اسی مافیا کے قبضہ میں ہے اب جبکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے نوید سنائی جا رہی ہے کہ پرانا اڈا جی ٹی ایس پر ایک اور نیا ماڈل بازار بنایا جا رہا ہے تو یہ ایک اچھی شروعات ہے لیکن افسوس کہ ضلعی انتظامیہ نے سنٹرل جیل کے ساتھ بارہ کینال ضلعی اراضی پھر 16 کروڑ روپے کی لاگت سے زرعی باغ کی زمین پر جو ماڈل بازار بنایا تھا وہ کہاں جائے گا؟ کیا سابق ڈی سی او افتخار سہو کو یہ نظر نہ آیا کہ یہاں پر ماڈل بازار کامیاب نہیں ہو سکتا افسوس کہ قوم کے خون پسینہ سے حاصل ہونے والے 16 کروڑ یونہی ضائع کر دیے گئے اور اب نیا ماڈل بازار بنایا جا رہا ہے حالانکہ یہی بازار اسی وقت بھی اس اراضی پر بن سکتا تھا لیکن بیورو کریسی کی تو شان ہی نرالی ہے سوائے اپنے آپ کے یہ لوگ کسی اور کو تو کچھ سمجھتے ہی نہیں لیکن اب نئے ماڈل بازار میں یہ بات مد نظر رکھی جائے یہاں پر تمام دکانیں شفاف طریقے اور مکمل میرٹ کے بعد صرف اور صرف مقامی لوگوں کو ہی دی جائیں کیونکہ یہی مقامی لوگ ہی ان دکانوں کے اصل حق دار ہونگے اور اس بارے میں مقامی ایم پی اے ارو ایم این اے کو بھی دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہرگز سفارش نہیں کرنی چاہیے جبکہ ڈی پی او بھی اپنا فرض پورا کرتے ہوئے ڈیرہ غازی خاں میں افغانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کریں ۔