جلو پارک کا تتلی گھر سب کی توجہ کا مرکز بنے گا

 سید عدنان فاروق
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو کسی زمانے میں باغوں کا شہر کہا جاتا تھا، جب آبادی میں اضافہ ہوا، نئی تعمیرات ہوئیںتو شہر کے باغات بھی ختم ہو گئے، اس تاریخی شہر کی ہریالی کو واپس لانے کے لئے تقریبا بیس سال قبل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا جس نے نہ صرف نئے پارک بنائے بلکہ بچ گئے تھے ان کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج کل یہ ادارہ شہر کو خوبصورت بنانے کے لئے کیا اقدامات کر رہا ہے یہ معلوم کرنے کے لئے ہم نے گزشتہ دنوں اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل میاں شکیل احمد کے ساتھ ایک نشست کی جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کی جارہی ہیں۔
پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کے ڈائریکٹر جنرل میاں شکیل احمد نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ لاہور شہر کوسرسبز و شاداب بنانے اور مزید خوبصورت بنانے کے لئے ہم نے شہر بھر میں مختلف اقسام کے درخت اور پودے لگانے کا ماضی کی نسبت زیادہ تیزی اور وسیع پیمانے پرشروع کیا ہے اور ڈاکٹرز ہسپتال‘ ائرپورٹ‘ مال روڈ اور نہر کے گرین بیلٹس پر پی ایچ اے کی جانب سے ہزاروں پھول لگائے گئے ہیں جس یقینا دیکھنے والوں کی دلکش نظارہ ہیں
انہوں نے بتایا کہ شہر میں مختلف مقامات پر سڑکوںکشادگی، انڈرپاسز اور مختلف تعمیراتی کام ہو رہے ہیں اس عمل میں بہت سے پودے اور درخت زد میںآتے ہیں ان درختوں پودوں کو اس طرح ہٹا یا جاتا ہے کہ خوبصورتی میں کمی واقع نہ ہو ہماری بھرپور کوشش ہے کہ اس کمی کو پورا کرکے لاہور خوبصورت بنایا جائے۔ جیساکہ ابھی نہر کے کنارے 105 درخت کاٹے گئے ہیں ہم نے اس کی جگہ 1150 درخت لگائے تاکہ اس کمی کو بھرپور طریقے پورا کیا جائے۔
 انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں تتلی گھر موجود ہیں، لاہور کے جلو پارک میں تتلی گھر بھی بنایا جا رہا ہے، جو پاکستان کا پہلا تتلی گھر ہوگا، تکمیل کے بعد تیلی گھر ناصرف بچوں بلکہ بڑوں کے لئے بھی توجہ کا مرکز بنے گا۔ تتلی گھر تفریح کے ساتھ ساتھ معلوماتی جگہ بھی ہو گی اس مقصد کے لئے پورے ملک سے 26 نسلوں کی تتلیاں جمع کی گئی ہیں۔ یہ تتلیاں سوات‘ پوٹھوہار اور اسلام آباد سے حاصل کی گئی ہیں۔
منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے سوال پر انہوں نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ 7 ماہ میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ اس پر کام جون 2014ءمیں شروع ہوا اور فروری 2015ءمیں مکمل ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تتلی گھر کو Fully Equiped کیا جائے گا۔ جوکہ تتلیوں کو محفوظ اور صحتمند رکھے گا تاہم تتلیوں کی زندگی بہت کم ہوتی ہے۔ ان کی لائف ایک ماہ ہوتی ہے۔اس کے دوران یہ کافی تعداد میں انڈے دیتی ہیں۔ انڈے سے تتلی بننے تک کے عمل میں ایک خاص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔ تاکہ ان کی افزائش اچھی طرح سے ہو۔ تتلیوں کو رکھنے کے لئے ایک خاص ٹنل بنایا گیا ہے۔ جس کا درجہ حرارت 25 سے 35 ڈگری تک ہے۔ اس ٹنل کی اونچائی 35 فٹ ہے لمبائی 300 فٹ ہے اور چوڑائی 23 فٹ ہے۔ تتلیاں خاص قسم کے پودوں کا رس چوس کر اپنی غذا حاصل کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا تتلیوں کے لئے کچھ پودوں کی اقسام پاکستان میں موجود ہیں جبکہ مختلف ممالک سے برآمد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تتلیوں کی کچھ اقسام بھی بیرون ملک سے برآمد کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹنل کے شروع میں تتلیوں کا میوزیم بھی بنایا جائے گا اور وہاں پر تتلیوں کے متعلق معلومات بھی دی جائیں گے۔ جس سے یہ جگہ تفریح کے ساتھ ساتھ معلومات بھی فراہم کرے گی رنگ دار تتلیاں یقیناً دیکھنے والوں کو دلکشل لگیںگی اور دیکھنے والے اس شاہکار کی تعریف بھی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کہ پی ایچ اے نے ایک اور منصوبے پر ابتدائی کام شروع کر دیا ہے اور یہ منصوبہ لاہور کے شمال مغربی علاقے میں گریٹر اقبال پارک بنانے کا ہے ۔ یہ پارک 125 ایکڑ میں بنے گا۔ جس میں منٹو پارک اور شاہی قلعے اور بادشاہی مسجد کے کچھ حصے شامل ہوں گے اور انکے درمیان والی سڑک بھی شامل کی جائے گی اس پارک کو تاریخ طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔ جس میں پاکستان کی تحریک اور مغلیہ دور کی تاریخ کو اجاگر کیا جائے گا۔
میاں شکیل نے ایک سوال پر بتایا کہ اس منصوبے کے لئے پی ایچ اے اے نے نیسپاک Nespak کنسلٹنٹ کی مدد سے بنا رہا ہے۔ اس کے ڈیزائن فائنل کر لیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر ایک سال میں مکمل کی جائے گی اور اس پارک میں 6 سے 7 باغات بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فوارے فوڈ کورٹ‘ کنٹین وغیرہ بھی اس کا حصہ ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ گریٹر اقبال پارک میں تاریخی تھیٹر Historic Theatre بھی بنایا جائے گا جس میں تاریخ سے جڑے تمام شخصیات کی تصاویر نمائش کے لئے رکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اس پارک کے چار کونے ہوں گے اور چاروں مشہور شخصیات کے نام پر ہوں گے۔ (1) قائد کارنر (2) اقبال کارنر (3) سرسید کارنر اور (4) حفیظ جالندھری کارنر کے ناموں سے منسوب کئے جائیں گے۔ اس پارک کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری آنے والی نسل ہمارے ابا¶ اجداد کے بارے میں جانیں اور ان کو معلوم ہو کہ انہوں نے کس طرح دن رات محنت کرکے اور قربانیاں دے کر ملک حاصل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس باغ کے ذریعے شاہی قلعہ مینار پاکستان اور بادشاہی مسجد کو آپس میں ملایا جائے گا۔ ایسا کرنے سے مغلیہ تاریخ کی بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس باغ میں چار سے پانچ ایکڑ میں پھیلی ہوئی جھیل بھی بنائی جائے گی۔ اس پارک کو بناتے ہوئے ہمیں ایک مشکل درپیش ہے کیونکہ یہاں پر Play Ground موجود جس کو قریبی کسی جگہ شفٹ ناگزیر ہے لیکن اس مشکل کا حل بادامی باغ کا بس سٹینڈ ختم کرکے کیا جائے گا۔ وہاں Play Ground بنا کر اڈا کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ ہم دنیا کے خوبصورت پارکوں میں ایک پارک بنائیں گے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔