علامہ انور شاہ کاشمیری اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ

مولانا مجیب الرحمن انقلابی
 عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے اس کے ایمان کا تقاضہ اور آخرت میں شفاعتِ رسول کا ذریعہ ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے۔ اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ ہے۔ اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو دین محفوظ نہیں۔ قرآن کریم میں ایک سو سے زائد آیات اور ذخیرہ احادیث میں دوسوسے زائد احادیث نبوی اس عقیدے کا اثبات کر رہی ہیںجن میں پوری تفصیل سے ختم نبوت کے ہر پہلو کو اجاگر کیاگیا ہے۔ قرون اولیٰ سے لیکر آج تک پوری امت مسلمہ کا اجماع چلا آرہا ہے کہ حضور اکرمکے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ کا تو یہ فتویٰ ہے کہ حضور خاتم الانبیاءکے بعد مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جو عظیم قربانی دی وہ تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور جمیع صحابہ کرامؓ کی نظر میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جو اہمیت تھی اسکا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے جو معرکہ ہوا اس میں بائیس ہزار مرتدین قتل ہوئے اور 1200کے قریب صحابہ کرامؓ نے جام شہادت نوش فرمایا جس میں600 کے قریب تو حفاظ اور قراءتھے حتیٰ کہ اس معرکہ میں بدری صحابہ کرام کی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کردیا مگر اس عقیدہ پر آنچ نہ آنے دی۔
انیسویں صدی کے آخر میںبے شمار فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ ایک خود ساختہ نبوت قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہواجس کی تمام تر وفاداریاں انگریزی طاغوت کیلئے وقف تھیں۔ انگریز کو بھی ایسے ہی خاردار خود کاشتہ پودے کی ضرورت تھی جس میں الجھ کر مسلمانوں کا دامن اتحاد تار تار ہوجائے اسلئے انگریزوں نے اس خود کاشتہ پودے کی خوب آبیاری کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد و نظریات اور ملحدانہ خیالات سامنے آئے تو علماءکرام نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے مقابلہ میں میدان عمل میں نکلے ۔ مرزا قادیانی کے فتنہ سے نمٹنے کیلئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں کی گئیں ان میں بڑا اہم کردار علماءدیوبند کا ہے ، بالخصوص حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اور امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری کی خدمات اور مساعی اس سلسلہ میں امت مسلمہ کے ایمان کے تحفظ و بقاءکا سبب ہیں ۔ علامہ سیّد انور شاہ کشمیری گویا کہ اس فتنہ کے خاتمہ کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے ۔
حضرت علامہ انور شاہ کشمیری نے اس کام کو باقاعدہ منظم کرنے کیلئے تحریک آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا سیّد عطاءاللہ شاہ بخاری کو امیر شریعت مقرر کیا اور انجمن خدام الدین لاہور کے ایک عظیم الشان جلسہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس اجلاس میں پانچ سو جید اور ممتاز علماءو صلحا موجود تھے۔ ان سب نے حضرت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے ہاتھ پر بیعت کی۔
    امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے تحریک آزادی کے بعد عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا اور قید وبند کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے ستمبر 1951ءمیں کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھاکہمیں تو کہتا ہوں کہ اگر حضرت علیؓ دعویٰ کرتے کے جسے تلوار حق نے دی اور بیٹی نبی نے دی، سیدنا ابوبکر صدیق ؓ، سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انہیں نبی مان لیتا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ میاں! آقا کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج نبوت و رسالت جس کے سر پر ناز کرے۔
حضرت مولانا سیّد انور شاہ کشمیری تو ختم نبوت کے کام کو اپنی مغفرت کا سبب بتایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ: ”اگر ہم ختم نبوت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا ہم سے بہتر ہے“۔
حضرت علامہ شمس الحق افغانی فرماتے ہیں کہ جب حضرت انور شاہ کشمیری کا آخری وقت تھا، کمزوری بہت زیادہ تھی ، چلنے کی طاقت بالکل نہ تھی، فرمایا کہ مجھے دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں پہنچا دیں۔ اس وقت کاروں کا زمانہ نہ تھا ایک پالکی لائی گئی۔ پالکی میں بٹھا کر حضرت شاہ صاحب کو دارالعلوم کی مسجد میں پہنچا دیا گیا۔ محراب میں حضرت کی جگہ بنائی گئی تھی، وہاں پر بٹھا دیا گیا تھا۔ حضرت کی آواز ضعف کی وجہ سے انتہائی ضعیف اور دھیمی تھی۔ تمام اجل شاگرد حضرت انور شاہ کشمیر ی کے اردگرد ہمہ تن گوش بیٹھے تھے۔ آپ نے صرف دو باتیں فرمائیں۔ پہلی بات تو یہ فرمائی کہ تاریخ اسلام کا میں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں، قادیانی فتنہ سے بڑا فتنہ اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا ۔
دوسری بات یہ فرمائی حضور کو جتنی خوشی اس شخص سے ہو گی جو اسکے استیصال کیلئے اپنے آپ کو وقف کرےگا تو رسول اکرم اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اسکے اس عمل سے زیادہ خوش ہوں گے اور پھر آخر میں جوش میں آکر فرمایا ! کہ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے اپنے آپ کو لگا دیگا، اسکی جنت کا میں ضامن ہوں ۔
ایک ضروری وضاحت:گذشتہ دنوں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے میرا ایک مضمون مختلف اخبارات میں شائع ہوا لیکن ایک قومی اخبار نے صحافتی ضابطہ اخلاق کے منافی حرکت کرتے ہوئے میرے علم میں لائے بغیر ایڈیٹنگ کے دوران علامہ انور شاہ کاشمیری کے حوالے سے علامہ شمس الحق افغانی کی روایت کے پہلا حصہ میں اصل مضمون سے ہٹ کر بین القوسین (بریکٹ) میں اپنی طرف سے کچھ ایسے الفاظ کا اضافہ کردیا جوکہ میرے خیالات اور نظریات کے بالکل منافی تھا اورمیری اصل تحریر کا حصہ بھی نہ تھا جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف دینی و مذہبی حلقوں میں تشویش و اضطراب پایا گیا وہاں میں بھی انتہائی اذیت و کرب اور پریشانی میں مبتلا رہا جبکہ مذکورہ اخبار کے ذمہ داران نے معذرت کے بعد اصل مضمون وضاحت کے ساتھ دوبارہ بھی شائع کردیا ہے اسلئے میں ایک مرتبہ دوبارہ وضاحت کرتا ہوں کہ میری اصل تحریر کے ساتھ ان اضافہ شدہ الفاظ کا کوئی تعلق نہ تھا۔ قارئین نوٹ فرمالیں۔