صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی سیاسی و مذہبی خدمات

احمدجمال نظامی
    سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حاجی فضل کریم گذشتہ روز قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور چار اپریل کو انہیں الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں منتقل کر دیا گیا جہاں وہ 15۔اپریل کے روز اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کی شخصیت کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کی مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی خدمات کا ہر کوئی معترف ہے۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم محدث اعظم مولانا محمد سردار رضوی کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ آپ نے تحریک نفاذ نظام مصطفےٰ میں کلیدی کردار ادا کیا اور ملک بھر میں ناموس رسالت کے لئے انتھک جدوجہد کرتے رہے جس بناءپر آپ کو مجاہد ختم نبوت کا بھی خطاب دیا گیا۔ ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے صاحبزادہ حاجی فضل کریم مرحوم کا کردار لائق صد تحسین ہے جس وقت آپ صوبائی وزیر اوقاف کے منصب پر فائز ہوئے اس وقت آپ نے 165ایسی کتابوں پر پابندی عائد کروائی جن میں فرقہ واریت کے حوالے سے مواد موجود تھا۔ اسی طرح انسانیت کی فلاح اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر پہلی مرتبہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور نادار عوام کو دی جانے والی مفت ادویات پر سرکاری طور پر مہر ثبت کروائی کہ یہ ادویات برائے فروخت نہیں ہیں۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم دو مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی اور دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ زندگی بھر آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کرتے رہے۔ پرویزمشرف کی فوجی آمریت کے دوران انہوں نے بہت دبنگ کردار ادا کیا اور پرویزمشرف دور میں جب ڈنمارک اور ناروے میں توہین آمیز خاکے شائع کئے گئے تو وطن عزیز میں صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی وہ پہلی آواز تھی                                                                 جو قومی اسمبلی کے ایوان کے اندر گونجی اور انہوں نے ایک تحریک جمع کروائی جس کے بعد پورے ملک میں ان توہین آمیز خاکوں کے خلاف پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف ملک کے کونے کونے میں بڑی بڑی احتجاجی ریلیاں منعقد کیں اور فیصل آباد میں ان کی قیادت میں سنی رضوی جامع مسجد سے سب سے بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس کے بعد پیپلزپارٹی کے سابقہ دوراقتدار کے دوران جب ایک مرتبہ پھر سرورکائنات حضرت محمد کی شان اقدس کے خلاف گستاخانہ فلم جاری کی گئی تو وہ صاحبزادہ حاجی فضل کریم کا ہی کردار تھا کہ حکومت وقت نے مجبور ہو کر یوم عشق رسول منانے کا سرکاری طور پر اعلان کر کے تعطیل کا بھی اعلان کیا۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے مزارات اولیاءکے حوالے سے بھرپور اور منظم تحریک چلائی۔ ملک بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مزارات اولیاءپر خودکش حملوں کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔ اسلام آباد سے لاہور تک پرامن احتجاج کیا اور حکومت وقت کے سامنے مطالبات پیش کئے وہ قومی اسمبلی کے فلور پر دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرتے رہے جس کے باعث ان کی زندگی کو بہت سارے خطرات اور خدشات نے گھیر لیا تھا لیکن وہ ڈٹے رہے اور انہوں نے آخری وقت تک دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم جو پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی بھی ڈگری رکھتے تھے ، انہوں نے دیگر دینی علوم سے بھی آشنائی حاصل کر رکھی تھی وہ مسلح جدوجہد کے انتہائی خلاف تھے اور آخری وقت تک جمہوری انداز میں مذہبی اور سیاسی جدوجہد کو جاری و ساری رکھے رہے۔ ان کا موقف تھا کہ جمہوریت دراصل اسلام ہی کی متعارف کردہ ہے اور جمہوری قدروں پر ہی چل کر ہم پرامن طریقے سے مذہبی اور سیاسی فوائد حاصل کر کے اس کے ثمرات کی بدولت شاہراہ ترقی پر گامزن ہوتے ہوئے اس منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہیں جہاں ترقی ہمارے قدم چومے گی۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ وہ ہے جب بطور صوبائی وزیر انہوں نے حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے دربار کی تزئین و آرائش کے لئے دو ارب روپے کے فنڈز مختص کروائے اور پھر ان فنڈز کی بدولت داتا دربار کی انتہائی خوبصورت انداز میں وسیع تزئین و آرائش کا مرحلہ مکمل ہوا۔ صاحبزادہ فضل کریم جو 24اکتوبر 1954میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1977میں اس وقت کے حکمران ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلا ف فیصل آباد (اس وقت کے لائلپور) سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں بہت نمایاں کردار اداکیا اور اس تحریک کو جو پاکستان قومی اتحاد نے شروع کی تھی۔ انہوں نے اپنی پرجوش تقریروں میں تحریک نفاذ مصطفی کا نام دیاتھا۔ صاحبزادہ فضل کریم تحریک نفاذ نظام مصطفی کے روح رواں کے طورپر کئی مرتبہ گرفتار ہوئے۔ انہیں 1977کی اس تحریک میں کئی مرتبہ پابند سلاسل کیاگیا۔ وہ میاں نوازشریف کی پارٹی سے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ وہ پنجاب کابینہ کے رکن بھی رہے اور پنجاب اسمبلی طرف سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی سنڈیکیٹ کے رکن بھی نامزد ہوتے رہے۔ انہوں نے 2002ءاور 2008ءکے الیکشن میں قومی اسمبلی کے موجودہ حلقہ این اے82سے پیپلزپارٹی کے نامزد امیدواروں کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی نشست جیتی ۔ میاں نوازشریف اور شہباز شریف کی جلاوطنی کے دوران وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہے۔ بعد ازاں اس وقت کے صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ خاں کی وجہ سے ان کے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ اختلافات ہو گئے اور اس دوران شدت پسندوں کی طرف سے خودکش حملوں میں تیزی آ گئی جو اولیاءاللہ کے درباروں تک پھیل گئی جس پر مسلم لیگ(ن) نے سنی اتحاد کونسل کے مطالبات تسلیم نہ کئے اور صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے سنی اتحاد کونسل کا مسلم لیگ(ق) کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیا جسے بعد میں پیپلزپارٹی نے بھی قبول کر لیا۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی نماز جنازہ میں مسلم لیگ(ق) کے چوہدری شجاعت حسین، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن اور ملک بھر سے جید علماءکرام و سیاسی رہنما¶ں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ ان کی نماز جنازہ کے موقع پر تاریخی اقبال پارک دھوبی گھاٹ اور اس سے متصل شاہراہیں لوگوں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھیں۔ بعد ازاں انہیں سنی رضوی جامع مسجد دربار محدث اعظم میں ان کے والد مولانا سردار احمد کے پہلو میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردخاک کر دیا گیا۔ وہ آج ہم میں موجود نہیں مگر ان کی یادیں اور خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو مزید بلند کرے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین