حضرت سلطان باہوؒ

حمیرا محمود
ایمان سلامت ہر کوئی منگے عشق سلامت کوئی ھُو
ایمان منگن شرماون عشقوں، دل نوں غیرت ہوئی ھُو
عشق پچاوے جس منزل، ایمان نوں خبر نہ کوئی ھُو
میراعشق سلامت رکھیںباہوایمانوںدیاں دھروئی ھُو
ربِ کائنات نے جب عشق کی گہرائیوں سے نورِ محمدی پیدا کیا تو اس نورِ محمدی سے مزید سات ارواح سلطان الفقراءکو بھی پیدا کیا۔ یہ وہ ذیشان ہستیاں ہیں جن کی بدولت ابدال، قطب، غوث، غرض یہ کہ تمام کو ولایت کا نور عطا ہوا۔ ان ہی ہستیوں میں سے ایک ہستی سلطان العارفین، برہان الواصلین، سلطان الفقر حضرت سلطان باہوؒ بھی ہیں۔ آپ کے والد حضرت بازیدؒ ایک صالح، حافظِ قرآن اور فقیہ شخص تھے جو مغلیہ دور میں قلعہ شور کوٹ ضلع جھنگ کے قلعہ دار تھے۔ اُن کی اہلیہ بی بی راستی اولیائے کاملین میں سے تھیں۔ اُن کو خواب میں نبی کریم نے بچے کی پیدائش کی بشارت دی اور حکم فرمایا کہ اُن کا نام ”باہو“ رکھا جائے۔ 1039ھ جب آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کا نام باہو رکھا گیا۔ آپ قطب شاہی اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو 21 واسطوں سے حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔
آپ اوائل عمری میں باطنی طور پر باوساطت حضرت علیؓ حضور نبی کریم کی خدمت میں پہنچے۔ آپ کو جلیل القدر صحابہ اور اولیائے کرام کی موجودگی میں آپ نے دستِ بیعت فرمایا اور اپنے سینہ مبارک سے لگا کر آپ کو اپنا نوری حضوری فرزند قرار دیا اور تبلیغ اور تلقین کی اجازت فرما کر روحانی تربیت کے لئے حضرت شیخ سیدنا عبدالقادر جیلانی کے سپرد کیا۔ آپ نے اُن سے باطنی روحانی فیض پایا۔ ظاہری طور پر آپ سید عبدالرحمان شاہ صاحب (اولاد سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ) کے پاس دستِ بیعت ہوئے اور فقرِ محمدی کا خزانہ حاصل کیا۔
باہو اُس وقت ”ھُو“ میں فنا ہو کر فنافی اللہ ہو گئے۔ جب باہو کا نام خدا کے نام ”ھو“ سے متصل ہو گیا۔ آپ اپنے اسم باہو میں یکتا ہیں جس کی صفت اور وصف اللہ کے اِسم ”ھُو“ سے متصل ہو کر فنافی اللہ ہو جانا ہے۔ یہی وہ ”ھُو“ ہے کہ جس میں گم ہو کر ہی وصالِ یار نصیب ہوتا ہے۔ باہو کا مطالعہ ”ھُو“ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ھُو ہی وہ روشنی ہے کہ جس سے دلوں کی سیاہی دور ہوتی ہے۔
 جتھے ھوکرے روشنائی اُتھوں چھوڑ اندھیرا ویندا ھُو
میں قربان تنہاں تو باہو جیہڑا ھُو نوں صبح کریندا ھُو
 آپ کا لقب سخی سلطان باہوؒ ہے۔ آپ کی سخاوت کا کوئی شمار نہیں۔ آپ کی سخاوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے والد صاحب حضرت بازیدؒ کو مغل بادشاہ شاہ جہاں دادِ شجاعت کے طور پر وسیع جاگیر مع قلعہ شور کوٹ پیش کیا۔ آپ نے والد صاحبؒ کی وفات کے بعد وہ تمام جاگیر راہ للہ تقسیم کر دی۔ باطنی سخاوت کا یہ عالم ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ”جو بھی جہاں بھی اللہ کا طالب ہے میرے پاس آ جائے میں اسے ایک ہی پل میں اللہ کی بارگاہ میں پہنچا سکتا ہوں۔
مُرشد سوہنی کیتی یا حضرت باہُو
پل وچ توڑ پہنچایا ہُو
سلطانیاں بخشے والے حضرت سلطان باہوؒ نے جو چراغ برسوں پہلے روشن کیا تھا اُس کی روشنی آج دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ باہو پر جتنی ریسرچ آج ہو رہی ہے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ آپ نے ایک سو چالیس کتابیں تحریر کیں جو کہ تمام فارسی میں ہیں فقط ایک تصنیف ابیاتِ باہو پنجابی میں ہے جو زبان زدِ عام ہے اور ھُو کی تاثیر سے بھرپور ہے۔ آپ کا کلام دلوں کو روحانی سکون بخشتا ہے۔ 1102ھ کو آپ اس فانی دنیا سے پردہ فرما گئے۔ آپ کا عرس اس سال 27 اپریل بروز جمعرات کو ضلع جھنگ میں نہایت تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے اور ”ھُو“ کی لذتوں سے آشنا باہو کے پروانے جوق در جوق باہوؒ کی سرزمین کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں۔
اندر ھُو تے باہر ھُو ایہہ دم ھُو دے نال جلیندا ھُو
ھُو دا داغ محبت والا ہر دم پیا سڑیندا ھُو