پانچواں چلڈرن فلم فیسٹیول

مظہر حسین شیخ ۔۔۔
ملک میں کُند ذہن بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم و تربیت کی سہولتوں سے محروم چلی آ رہی ہے۔ ایسے بچے بچیوں میں سیکھنے کی صلاحیت اجاگر کرنے والے خصوصی تعلیمی اداروں کی تعداد آج بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وقت ہمارے یہاں ہر 6 بچوں میں سے ایک بچہ اس مسئلے (Dyslexia) کا شکار ہے۔ ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے جو ادارے محدود سطح پر کام کر رہے ہیں ان میں گرین میڈوز ریمڈئیل سکول کا نام قابل ذکر ہے۔ اس سسٹم کے تحت لاہور، راولپنڈی اور سرگودھا میں قائم سکولوں سے ہر سال سینکڑوں بچے بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ 11 سال قبل FRESH فریش (Foundation for Rehabilitation of Slow Children) کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا ۔جس کا مقصد غیر منافع بخش بنیاد وںپر ان بچے بچیوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے۔ فائونڈیشن کے تحت اس بات کا اہتمام کیا گیا ہے کہ بچے بچیوں میں اُن کے فطری رجحان کے تحت صلاحیت کو اجاگر کیا جائے۔ اس فاؤنڈیشن کے ذریعے معمول کی سطح پر کام کاج کرنے والے بچوں سے لے کر فنون لطیفہ میں دلچسپی لینے والے بچوں تک ان خصوصی تعلیمی مراکز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ (SLOW CHILDREN) کند ذہن بچوں کے حوالے سے ہونے والی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسے بچوں کو معمول کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے لکھنے کے دوران اپنے ساتھیوں سے اکثر پیچھے رہ جانے کی شکایت رہتی ہے اور یہ بچے کلاس رُوم میں کسی کو دوست بنانے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ Dyslexia کی علامات کی وجہ سے ان بچوں کو پڑھائی لکھائی میں حروف اور لفظوں کی شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جیسے 71 کو ایسے بچے 17 سمجھ لیتے ہیں۔ d کو b جمع (+) کے نشان کو (X) ضرب کا نشان اور منفی کے نشان کو تقسیم ÷ کے نشان کے ساتھ خلط ملط کر لیتے ہیں۔ پسماندہ ذہن کے بچوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود تو ہو تی ہے لیکن ان کی رفتار عام بچوں سے کم ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً عام بچہ جس بات کا بروقت جواب دے گا متاثرہ بچہ بولنے میں اس کے لئے وقت لے گا۔ ایسے بچوں میں یہ کمی جینیاتی لحاظ سے Down Syndrom کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ عام حالات میں والدین بچوں کو درپیش اس مسئلے سے آگاہ بھی نہیں ہوتے۔ ایسے بچے پڑھائی سے جی چراتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بچے اپنے ساتھیوں سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا مستقبل میں ایسے بچوں کو عملی زندگی کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فریش (FRESH) بچوں کی بحالی کا ایسا ادارہ ہے جس کی بنیاد رکھنے میں ایک ماں نے اپنے محسوسات اور مشاہدے کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ مسز اشبہ کامران فائونڈیشن کی بانی رکن اور جنرل سیکرٹری ہیں۔ 2002ء میں جب انہوں نے اپنے منصوبے کو عملی شکل دی اُس وقت اُن کا اپنا بیٹا احید کامران سکول میں انہی مشکلات سے دوچار تھا جسے پیش نظر رکھ کر انہوں نے اس ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اشبہ کامران نے اپنے بیٹے میں Dylexia کی علامات ظاہر ہو جانے پر اسے سکول سے اٹھا لیا اور پھر ایک سال تک گھر پر اس کی کوچنگ کی ۔اس دوران ماہرین سے مشاورت کر کے انہوں نے بچے میں پڑھنے لکھنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا اور دیگر پسماندہ ذہن بچوں سے مل کر اُن میں پائی جانے والی علامات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مسز اشبہ کامران نے اپنے بچے کیلئے تو خصوصی تعلیم کا اہتمام کر لیا ،اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسے باقاعدہ ایک سکول کی شکل دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ اشبہ کامران نے لاہور سے جب اس ادارے کا آغاز کیا تو انہیں راولپنڈی، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، کراچی اور دیگر جگہوں سے بھی اس کی برانچیں کھولنے کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ لہٰذا کامیاب تجربے کے بعد اس ادارے کویکے بعد دیگرے دوسرے شہروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔ خصوصی تعلیمی مرکز   میں ایسے بچوں کو آکسفورڈ کے سلیبس کی روشنی میں تیار کردہ بُکس کی مدد سے پڑھنے لکھنے کا ماحول مہیا کیا جاتا ہے۔ کلاس روم میں بچوں کو مختلف اقسام کی اشیاء یعنی میٹریل کی مدد سے اُن کی پہچان کروائی جاتی ہے جس سے بچوں کی حسی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے اور بچے  ان اشیاء کی اشکال کو ڈرائنگ بُک پر نقل کرنے کی تکنیک  حاصل کر لیتے  ہیں۔ جو بچے بول چال میں سستی کا شکار ہوتے ہیں اُن کو سمجھنے اور ردعمل میں بولنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔ ان بچوں کے رویے کو جانچنے اور اُن میں اعتماد سازی کیلئے ماہرین نفسیات مسلسل تحقیق کا کام جاری رکھتے ہیں۔ بچوں میں روزمرہ کے کام کاج سے واقفیت  پیدا کرنے  کیلئے انہیں اپنی دیکھ بھال، کپڑوں کے انتخاب اور کوکنگ وغیرہ کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ سکول سے تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان بچوں میں کامیاب عملی زندگی اختیار کرنے کیلئے انٹرن شپ پروگرام میں شمولیت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے فائونڈیشن کا ملٹی نیشنلز کے تحت کام کرنے والے اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن پروگرام جاری ہے۔ میکڈانلڈ، پیزاہٹ ، لیویز اور ہارڈیز میں ایسے بچوں کو جز وقتی تربیتی پروگرام کے تحت بھجوایا جاتا ہے۔ جس کے بعد یہ بچے اپنی اپنی استعداد کے مطابق بعض جگہوں پر مناسب روزگار بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ 
بچوں میں سکول کی پڑھائی، تربیت اور انٹرن شپ کے بعد محض روزگار حاصل کرنا ہی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اس ادارے میں شمولیت اختیار کرنے والے بچے میں فنون لطیفہ کی صلاحیتیں موجود ہیں تو انہیں اس کے اظہار کا بھی بھرپور موقع میسر ہے۔ جس کی واضح مثال احید کامران اور محمد علی شاہ ہیں۔ احید کامران صبح سکول میں پڑھائی کے بعد دوپہر میں آرٹ انسٹیٹیوٹ میں اپنی فنی صلاحیتوں کے لئے وقت نکالتا اور شام میں میکڈانلڈ میں کام کے لئے مصروف ہو جاتا۔ محمد علی شاہ نے ڈائون سنڈروم کی علامات کے باوجود میکڈانلڈ میں خدمات سرانجام دے کر ایک کامیاب نوجوان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ فائونڈیشن کے بورڈ آف گورنرز میں قاضی ہمایوں فرید، نیر علی دادا، یاور عرفان، حکیم عثمان، مسعود علی خان، اسما طارق، عمران مسعود اور اپٹما کے ارکان اس ادارے کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اس کے زیر انتظام شائع ہونے والے نیوز لیٹر (PADIL) پیدل میں ایسے خصوصی بچوں کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں اور فائونڈیشن کے امور سے متعلق معلومات کی باقاعدگی سے کوریج کا اہتمام ہے۔ جس کے نتیجے میں فائونڈیشن کی ممبرشپ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔